Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » لفظِ رومی؛ چند باتیں

لفظِ رومی؛ چند باتیں

معین نظامی

کی طرف سے Ranaayi دسمبر 19, 2025
کی طرف سے Ranaayi دسمبر 19, 2025 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
100

مولانا جلال الدین محمد بلخی کے ہاں رومی کا لفظ اپنی نسبتِ مکانی یا تخلص کے طور پر کہیں بھی استعمال نہیں ہوا، نہ دیوانِ شمس تبریزی میں، نہ مثنویِ معنَوی میں. ان کی نثری تخلیقات میں بھی ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی. چنانچہ یہ بات اچھی طرح ذہن میں رکھنے کی ہے کہ ایسے تمام اشعار جو رومی کے رنگ و آہنگ میں ملتے ہیں اور ان میں رومی کا لفظ تخلص کے طور پر برتا گیا ہے، وہ رومی کے ہرگز نہیں ہیں. رومی کے تخلص پر الگ بات ہو گی.

اس قبیل کے تمام اشعار رومی کی فکری و فنی تقلید کرنے والوں میں سے کسی ایک یا زائد افراد کا کلام ہو سکتا ہے. مختلف زمانوں میں ایسے کئی لوگ خود ترکیہ میں بھی موجود تھے، ایران، توران میں بھی اور جنوبی ایشیا میں بھی.علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ جب تک ایسے کلام کے شعرا کے نام وضاحت اورقطعیت سے معلوم نہیں ہو جاتے، ان تمام اشعار کو منسوبات کے ذیل میں رکھا جائے. اگر ہم انھیں محلِ نظر رکھیں گے اور ان کے انتساب پر نمایاں سوالیہ نشان لگائیں گے تو ہم کسی بے ادبی کا ارتکاب نہیں کر رہے ہوں گے بل کہ ہمارا یہ عمل رومی سے سچا اظہارِ محبت اور ان کی خدمت میں ہمارا بہترین ہدیۂ احترام ہو گا.

رومی کی زندگی کے اواخر میں ان کے چند ہم عصروں نے محض علاقائی پہچان کے لیے ان کے نام کے ساتھ رومی کی نسبت لکھی ہے. بعد میں یہ سلسلہ چل نکلا اور اب تک جاری ہے. انھوں نے خود اپنے لیے یہ لفظ کبھی نہیں برتا.

مشرقی دنیا میں انھیں عام طور پر مولوی، مولویِ معنوی، مولانا، مولاناے بلخی، مولاناے روم، مولانا رومی، مولوی رومی اور ملاے رومی کہا اور لکھا جاتا ہے. مولوی، ملا اور مولانا ہماری تہذیب کے محترم ترین الفاظ رہے ہیں جنھیں مرورِ زماں کے ساتھ بدقسمتی سے نشانِ تحقیر، استعارۂ تضحیک، علامتِ طنز اور کلماتِ تنفّر بنا دیا گیا. بہ صد افسوس کہنا پڑتا ہے کہ ان لفظوں کی اس معنوی خفّت اورمفہومی کم حیثیتی میں خود اسی طبقے کے بعض نام نہاد لوگوں کے ناپسندیدہ طرزِ عمل کا ہاتھ رہاہے.

پھر فارسی شاعری میں حکیم سنائی غزنوی،شیخ فرید الدین عطار نیشاپوری اور حافظ شیرازی جیسے بڑے تخلیق کاروں نے دکھاوے کے عالموں، مفتیوں، قاضیوں،محتسبوں، عابدوں، زاہدوں اور صوفیوں کو بھی طعن و تعریض کی اس لپیٹ میں لے لیا. دورِ جدید میں علامہ اقبال کی شاعری میں لفظ ملا، ملائیت اور ملایانہ ذہنیت کو جس طرح ہدفِ تنقید و ملامت بنایا گیا ہے، وہ اسی قدیم روایت کا زوردار تسلسل ہے.

ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں، یہ بے جان، بے معنی اور بے رنگ و بو القاب کا عہدِ ارزانی ہے. ہمارا معاشرہ مبالغہ آمیزی کی مویشی منڈی اور عدمِ واقعیت کا چڑیا گھر بنا ہوا ہے. بڑے بڑے القاب کی اتنی افسوس ناک نیلامی اس سے پہلے شاید ہی کبھی دیکھی گئی ہو. جب لفظ اپنے معانی سے آنکھیں ملانے کے قابل نہ رہیں اور ایک ایک کر کے مسندِ اعتبار سے گھسیٹ گھسیٹ کر اتارے جا رہے ہوں اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری جا رہی ہوں تو اس سے زیادہ خسارے کا زمانہ اور بے معنویت کا سماج اور کون سا ہو سکتا ہے؟

آج اگر ہمیں مولوی، مولانا اور ملا جیسے معزز الفاظ یک سر تہی دست محسوس ہوتے ہیں، اچھے نہیں لگتے اور ہم انھیں برتنے سے کتراتے ہیں تو اس کا سبب ان لفظوں کا سرسری،معمولی یا ناکافی ہونا نہیں ہے. سارا قصور ہماری فکری تہی دامنی، تہذیبی کھوکھلے پن، علامتی افلاس اور روایتی زوال کاہے. ساری غلطی ہمارے نمائشی ہو جانے کی ہے.

ہمارے اجداد نے جب رومی یا مولانا جامی جیسے بزرگوں کے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے تھے تو اس وقت شخصی وجاہت، معاشرتی حیثیت، علمی عظمت اور کرداری جامعیت کے لیے ان سے بہتر لفظ رائج نہیں تھے. کسی عالمِ دین،شیخِ طریقت، رجحان ساز مفکر اور اثر انگیزمصلح کو اتفاق و اجماع سے مولوی، مولانا یا ملّا کہنا انھیں بہترین خراجِ اعتراف و احترام پیش کرنا ہوتا تھا. تقریباً ایک صدی پہلے تک یہ با توقیر الفاظ ہمارے اکابر کے ناموں کے ساتھ لکھے جاتے رہے اور ہر اعتبار سے کافی بھی سمجھے گئے.

مغربی دنیا نے مولانا رومی کو رومی کہنا شروع کیا اور پھر پوری دنیا نے اس کی تقلید کی اور ان کا یہ لقب ان کی پہچان بن گیا. ایرانی اور افغانی اہلِ علم اسے زیادہ پسند نہیں کرتے اور با دلِ نا خواستہ ہی استعمال کرتے ہیں. اس ضمن میں میری رائے تو یہ ہے کہ رومی کہنے یا لکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے. ہمارے مولانا جس نام سے بھی پکارے جائیں، رہیں گے تو ہمارے مولانا ہی. خاص طور پر اگر سامعین یا قارئین انگریزی پس منظر کے ہوں تو ان کے لیے یہی لفظ استعمال کرنا چاہیے کہ زیادہ مانوس ہے، ورنہ ابلاغ ناقص رہے گا.

اگرچہ مجھے شدید احساس ہوتا رہتا ہے کہ رومی کہہ کر مولانا کو ایک محدود جغرافیائی لقب میں جکڑبند کر دینا ان جیسے کائناتی مفکر اور فن کار کے ساتھ صریح زیادتی ہے. اس کے مقابلے میں مولوی، مولانا اور ملّا کے الفاظ میں للہیت ہے، آفاقیت بھی زیادہ ہے اور کہنے والے کی طرف سے قریبی تعلقِ خاطر اور اپنائیت کا اظہار بھی زیادہ ہوتاہے. یہ بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ یہ سب الفاظ اسلامی تہذیب کی علامات ہیں اور ہمیں بہ ہر طور انھی لوگوں میں شامل رہنا چاہیے جو رومی کی درست دینی و فکری وابستگی سے گہری آگاہی اور اس کے متوازن اعلان سے دل چسپی رکھتے ہیں. مولانا رومی کہنا شاید ایک بہتر درمیانی راستہ ہو سکتا ہے.

مولانا رومی کی شعری تخلیقات میں رومی کا لفظ کئی مقامات پر موجود ہے مگر اس کے معانی روم کا باشندہ، ترک، جنگ جو، خوب صورت، سفید رنگ والا ہیں اور کہیں کہیں مسیحی اور غلام بھی. وہ عام طور رومی اور زنگی اکٹھا استعمال کرتے ہیں، سفیدی و سیاہی کے تقابل کے لیے. یہ ان کا مانوس ادبی جوڑا ہے، بالکل ترک اور ہندو کی طرح. ہندو کے لفظ سے وہ زیادہ تر تو ہندی نژاد کے معنی لیتے ہیں اورکبھی کبھی ہندو مت کے پیروکار کے بھی.

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • رومی اور شمس کے قونیہ میں
  • مثنوی رومی اور مشرق و مغرب کا تصور عشق
  • رومی جنوبی ایشاء میں ؛ چند نکات
  • کعبۃ العشاق قونیہ میں
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
امریکہ میں گمشدہ اردو فکشن
اگلی تحریر
رومی اور شمس کے قونیہ میں

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

طلب مکرر؛ شمس و رومی اور غالب

دسمبر 19, 2025

رومی اور عربی شاعری کا ایک دیوان

دسمبر 20, 2025

رومی اور شمس کے قونیہ میں

دسمبر 19, 2025

ہو الشّافی؛ دیوان شمس تبریزی

دسمبر 18, 2025

ایلف شفق، عشق اور چالیس اصول

دسمبر 20, 2025

رومی کا تصور محبت (مختصر ویڈیو)

دسمبر 26, 2025

رومی کے دو شعر مع ترجمانی (ویڈیو)

دسمبر 24, 2025

مثنوی رومی اور مشرق و مغرب کا تصور عشق

دسمبر 17, 2025

رومی جنوبی ایشاء میں ؛ چند نکات

دسمبر 18, 2025

کعبۃ العشاق قونیہ میں

دسمبر 21, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 240 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 217 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 213 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 205 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 182 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

    جنوری 11, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

رومی اور شمس کے قونیہ میں

دسمبر 19, 2025

رومی اور ابن عربی

دسمبر 21, 2025

رومی کا تصور محبت (مختصر ویڈیو)

دسمبر 26, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here