1۔ مولانا جلال الدّین محمد بلخی رومی کی مثنویِ معنوی اور دیوانِ شمس تبریزی کے کئی پرانے اور بہت اہم قلمی نسخے برِصغیر کی متعدّد لائبریریوں میں موجود ہیں جن سے مطالعاتِ رومی کے مقامی اور بین الاقوامی محقّقین نے ممکنہ فائدہ اٹھایا ہے۔
2۔ برصغیر کی بڑی مقامی زبانوں میں مثنوی کے کئی ترجمے کیے گئے جن میں سے کچھ ترجمے منظوم بھی ہیں اور بہت کامیاب ہیں۔
3۔ یہاں کی کئی مقامی زبانوں میں مثنوی کی بہت اچھی شرحیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے کچھ فارسی شرحیں ایران میں بھی شائع ہو کر مقبول ہوئی ہیں اور رومی شناسی کے ماہرین نے ان سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔
4۔ یہاں کے محقّقین نے رومی شناسی کے سلسلے میں چند بہت اہم کتابیں تصنیف کی ہیں جنھیں دنیا بھر کے علمی حلقوں میں سراہا گیا۔
5۔ برصغیر میں رومی شناسی میں مختلف سلاسلِ طریقت کی خانقاہوں کا کردار بہت نمایاں ہے۔ رومی کا کلام صدیوں سے یہاں کی سماع کی محفلوں اور قوالیوں میں گایا جاتا ہے اور عوام میں بہت مقبول ہے۔ مولانا رومی مقامی صوفی حلقوں کے اجتماعی حافظے کا ایک روشن باب ہیں۔ البتہ گائے جانے والے کلام میں خاصا حصہ منسوبات کا بھی ہے۔
6۔ ہمارے کئی صوفی بزرگ ہر سال رومی کا عرس مناتے رہے ہیں۔ متاخر مغل دور کے چشتی بزرگ خواجہ فخر الدین فخرِ جہاں دہلوی یہ عرس منایا کرتے تھے۔ خواجہ غلام فرید، کوٹ مٹھن سے بھی چند بار یہ عرس منانے کے شواہد ملتے ہیں۔ غالباً گولڑہ شریف کی چشتی اور قادری خانقاہ میں بھی یہ رائج رہا ہے۔
7۔ ہماری بہت سی زبانوں کے صوفی شاعروں کے فکر و فن پر رومی کا گہرا اثر ہے مثلاً سندھی میں شاہ لطیف بھٹائی، سچل سر مست، قادر بخش بیدل؛ پنجابی میں شاہ حسین، سلطان باہو، بلھے شاہ، میاں محمد بخش، خواجہ غلام فرید؛ پشتو میں رحمان بابا، امیر حمزہ شنواری اور بلوچی میں مست توکلی۔
8۔ جنوبی ایشیا کے دو بہت عظیم اور دنیا بھر میں مشہور شاعروں پر فکرِ رومی کے اثرات بہت گہرے ہیں: ٹیگور اور علامہ اقبال۔ اقبال نے رومی کو ہمیشہ اپنا مرشد اور راہنما کہا ہے۔
9۔ بھگتی تحریک اور سکھوں کی مذہبی کتاب گُرو گرنتھ صاحب پر بھی رومی کے افکار کی چھاپ نمایاں ہے۔
10۔ ہمارے کئی شاعروں نے مثنوی رومی کی پیروی میں اسی طرح کی صوفیانہ اور اخلاقی مثنویاں لکھی ہیں۔ بہت سے شاعروں نے رومی کے رنگ میں فارسی غزلیں کہی ہیں۔ ان میں مسلمانوں کے علاوہ خاصی تعداد میں دیگر مذاہب کے شاعر بھی شامل ہیں۔
11- ہمارے ہاں آج کل بھی بہت سی یونیورسٹیوں میں رومی کی شاعری کے منتخب حصے پڑھائے جاتے ہیں، رومی کے نام پر کچھ مسندیں بھی قائم کی گئی ہیں، چند رسائل بھی شائع ہوتے ہیں، کئی درگاہوں پر مثنوی کا درس ہوتا ہے اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں رومی کے افکار پر مختلف سطحوں کے تحقیقی مقالے لکھے جاتے ہیں اور تقریبات ہوتی ہیں۔
12۔ جنوبی ایشیائی ممالک کے ذرائعِ ابلاغ پر بھی مولانا رومی کی شخصیت اور فکر و فن کے بارے میں مختلف مضامین شائع کیے جاتے ہیں اور پروگرام نشر ہوتے ہیں۔
13- ان ممالک کی مختلف زبانوں میں حکایاتِ رومی کے آسان خلاصے بھی شائع ہوتے رہتے ہیں اور خاصے مقبول ہیں۔
14۔ یہاں کے بعض تعلیمی اداروں میں رومی کی کچھ حکایات کی ڈرامائی تشکیل بھی کی جاتی ہے۔
15۔ قونیہ، ترکی میں مزارِ رومی پر جنوبی ایشیا کے زائرین کی بھی خاصی تعداد جاتی رہتی ہے۔ ان میں سے بعض زائرین اپنے مختصر یا مفصّل سفرناموں میں اس کی تفصیل بھی لکھتے ہیں۔
