Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » عربی زبان کا عالمی دن ڈاکٹر خورشید رضوی کے ساتھ

عربی زبان کا عالمی دن ڈاکٹر خورشید رضوی کے ساتھ

ویب ڈیسک

کی طرف سے Ranaayi دسمبر 17, 2025
کی طرف سے Ranaayi دسمبر 17, 2025 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
72

نوٹ: یہ تحریر آج کے دن کے لیے خصوصی طور پر ڈاکٹر خورشید رضوی کے خیالات ریکارڈ کر کے ویب ڈیسک کی طرف سے تیار کی گئی ہے اور اہل ذوق کے لیے یہ نادر نکات بطور ارمغان پیش کیے جا رہے ہیں

 

اگر ہم عربی زبان کی مجموعی اہمیت پر نظر ڈالنا چاہیں تو پہلی بات ذہن میں یہ آتی ہے کہ عربی دنیا کی بنیادی اور اساسی زبانوں میں سے ایک ہے۔ تمام زبانیں اساسی نہیں کہلا سکتیں۔ بلکہ وہ ہائبرڈ یا ملی جلی زبانیں ہوتی ہیں۔ جیسے اردو کی بنیاد عربی، فارسی اور سنسکرت وغیرہ پر ہے۔ انگریزی کی بنیاد لاطینی اور یونانی پر ہے۔ لیکن عربی اساسی زبان ہے۔ اس کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ یہ ایفرو ایشیائی زبانوں کے سامی خاندان کی نمائندہ زبان ہے، کیونکہ ان میں سے بیشتر زبانیں جیسا کہ بابلی، آرامی، آشوری وغیرہ معدوم ہو چکی ہیں۔ ان میں سے لے دے کے ایک عبرانی زبان رہ گئی ہے جس کو اب زندہ کیا گیا ہے، پہلے تو یہ بھی قریب قریب مردہ ہو چکی تھی، اور صرف مذہبی حلقوں میں باقی رہ گئی تھی۔ مگر اب انہوں نے ہمت کی ہے، اور یہ بہت بڑا سبق ہے کہ اپنی زبان کا حق ادا کیا گیا اور اس کو مردہ خانے سے نکال کر ایک زندہ زبان بنایا گیا۔ عبرانی میں اخبارات کی اشاعت شروع کی گئی، عالمی ادب کے ترجمے کروائے گئے، لائبریریاں قائم کی گئیں۔ لیکن اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو کسی سامی زبان کا چلن اگر عام ہے اور وہ کسی بہت بڑے خطے میں عملا بولی اور سمجھی جاتی ہے تو وہ عربی ہی ہے۔ اگرچہ ہر علاقے کی عربی ایک جیسی نہیں ہے لیکن ان سب کو جوڑنے کے لیے ایک معیاری زبان جس کو فُصحیٰ کہا جاتا ہے، موجود ہے اور فصحی کا دار و مدار قرآن مجید پر ہے۔ گویا قرآن مجید نے عربی کو دیگر زبانوں کی طرح بکھر کر، یا تبدیل ہو کر معدوم ہونے سے بچایا ہے۔ اب بھی گلیوں بازاروں کی عربی زبان اگرچہ مختلف ہو لیکن لکھنے پڑھنے میں، اخبارات، اور آفیشل دستاویزات وغیرہ کے لیے وہی قرآن مجید والی فصحی عربی استعمال کی جاتی ہے۔ اگرچہ اب فصحی کے ذخیرۂ الفاظ یا بعض جگہ معنی میں فرق آ گیا ہے۔ جیسے سورہ یوسف میں ‘سیارۃ’ کا لفظ کارواں کے لیے استعمال ہوا ہے، اب ہم موٹر کار کو ‘سیارۃ’ کہتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کی گرائمر وغیرہ کا انداز قدیم ہی ہے۔

پھر اسلام کے وسیلے سے علوم و فنون کا بہت بڑا ذخیرہ عربی میں جمع ہو گیا، تراجم بھی ہوئے۔ بلکہ جدید یورپ تک یونانی سائنسی علوم پہنچنے کا وسیلہ بھی عرب ہی بنے اور عربی کے ذریعے احیائے علوم کی تحریک کے نتیجے میں یہ علوم دوبارہ زندہ ہو کر سامنے آئے۔ عربی کے اسی کردار اور وسیع خطے میں بولے اور سمجھے جانے کی وجہ سے اس کو اقوام متحدہ کی چھٹی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہو چکا ہے اور تبھی سے اٹھارہ دسمبر کو عربی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس زبان میں مختلف النوع علوم کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ لہذا اس کی اہمیت میں کبھی بھی کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔

برصغیر کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں ایک مرتبہ محمد بن قاسم کے ذریعے مسلمانوں کی آمد ہوئی، اگر یہاں ان کی سلطنت مستقل طور پر قائم ہو جاتی تو یہاں کی عام زبان عربی ہوتی یا کم از کم غالب اور سرکاری درباری زبان بھی یہی ہوتی۔ لیکن ہوا یہ کہ محمد بن قاسم جب یہاں آیا تو کسی بہت بڑی حکومت کی بنیاد ڈال کر نہیں گیا۔ اس کے بعد ہمارے ہاں محمود غزنوی کا اثر و رسوخ شروع ہوا اور اس کے بعد حکمرانوں کے جتنے خاندان آئے اگرچہ ان میں سے بعض کی گھریلو زبان ترکی تھی لیکن فارسی کا چلن سب سے زیادہ رہا۔ لہذا فارسی سرکاری درباری زبان بھی بن گئی اور اس کے ساتھ معاش بھی وابستہ ہو گیا۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جس زبان سے معاش وابستہ ہوتا ہے، ترقی اسی زبان کی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے فارسی نے یہاں جتنی ترقی کی اس کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے۔ نتیجتاً ہم نے فارسی میں امیر خسرو، غالب اور اقبال جیسے بڑے فارسی شعراء تو پیدا کیے لیکن اس درجے کا کوئی عربی شاعر پیدا نہیں کر سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہمارے ہاں بہت اچھے عربی شعراء ہیں جنہوں نے بہت اچھا عربی کلام کہا ہے اور ان کی تعداد کچھ کم نہیں ہے لیکن برصغیر میں عربی دانوں کی تعداد مجموعی طور پر فارسی دانوں سے کم رہی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس زمانے کے جو بڑے بڑے فارسی دان ہوتے تھے وہ عربی کے اسکالر بھی ہوتے تھے۔ قریب کے زمانے پر نظر ڈالیں تو شبلی فارسی کے ساتھ ساتھ عربی کے بھی عالم ہیں، عربی میں ان کی تحریر اور اشعار مل جائیں گے۔ اسی طرح مولانا حالی، اگرچہ وہ باقاعدہ کسی مدرسے سے عربی کے فارغ التحصیل نہیں تھے، لیکن ان کے عربی ذوق و شوق پر میں نے حال ہی میں ایک پوری کتاب مرتب کی ہے۔ اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے عربی نظم و نثر میں کافی چیزیں یادگار چھوڑی ہیں۔ مزید ایسے جتنے لوگوں کو دیکھیں گے پس منظر میں ان کی عربی سے شناسائی بھی نظر آئے گی، صرف شناسائی نہیں، علمیت بھی۔ ماضی قریب میں ہی مولانا عبد العزیز میمن جیسے لوگ بھی ملتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ میں سے ڈاکٹر صوفی محمد ضیاء الحق کے والد محترم مولانا اصغر علی روحی بھی عربی کے جانے مانے استاد تھے اور ان کے استاد مولانا فیض الحسن سہارنپوری بھی ایسے ہی تھے۔ مگر یہ صرف چند نام ہیں، شمار کرنے لگیں تو اچھی خاصی تعداد مل جائے گی۔ اس موضوع پر باقاعدہ تصانیف موجود ہیں کہ یہاں کے عربی لکھنے پڑھنے والے اور اس میں نظم و نثر کے ذریعے حصہ شامل کرنے والے لوگ کتنے زیادہ ہیں۔

جہاں تک آج کی نوجوان نسل کا عربی سے تعلق ہے تو اس سے پہلے یہ پس منظر ذہن میں رہے کہ جب ہم لوگ عربی پڑھتے تھے اس وقت ہم جدید عربی سے واقف نہیں ہوتے تھے۔ اساتذہ بھی ‘دیوان حماسہ’ ، ‘مقامات حریری’ اور ‘دیوان متنبی’ تو بڑی قابلیت سے پڑھا سکتے تھے لیکن اس دور میں ماحول ہی ایسا تھا کہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ ایش ٹرے کی عربی کیا ہے یا بجلی کے پنکھے کو عربی میں کیا کہتے ہیں تو ان کے لیے بتانا مشکل تھا۔ دیکھا جائے تو یہ چیز کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ یہ تو عرب معاشرے میں جا کر رہنے سے خود بخود آ جاتی ہے۔ اصل علم تو وہی تھا جو ہمارے اساتذہ کے پاس تھا۔ لیکن جدید عربی زبان و ادب، اور روزمرہ عربی بول چال سے ان کا زیادہ تعلق نہیں تھا۔ بلکہ کسی بھی زبان کی جو چار بنیادی صلاحتیں ہیں، یعنی پڑھنا، سن کر سمجھنا، بولنا اور لکھنا، یہ چاروں ہمارے ہاں رائج نہیں تھیں۔ صرف پڑھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی تھی، لکھنے کی صلاحیت اس سے ذرا کم اور باقی دونوں خانے خالی ہوتے تھے۔ اسی دور میں یہ انداز بھی رہا کہ مدارس کے طلبہ عربی ادب کے متن اور گرائمر کو بہتر جانتے تھے لیکن متعلقات متن کو نہیں جانتے تھے۔ اس دور کی مدارس کی نسل کی گرائمر، کالج اور یونیورسٹی والوں سے زیادہ مضبوط ہوتی تھی۔ مثلا وہ حماسہ کے اشعار کی ترکیب نحوی اور ان کے مفاہیم بیان کرنے میں زیادہ قابلیت رکھتے تھے۔ لیکن اگر ان سے پوچھا جائے کہ ‘متنبی’ کس دور کا آدمی تھا اور یہ امرؤ القیس سے پہلے کا تھا یا بعد کا؟ تو ان اس کو کوئی علم نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ متعلقات متن ان کو معلوم نہیں ہوتے تھے لیکن متن اچھا جانتے تھے۔ پھر بعد میں یہ قابلیت بھی مدارس سے زائل ہونے لگی اور یونیورسٹیوں میں تو پہلے ہی بہت اچھی حالت نہیں تھی۔

لیکن اب میں گزشتہ چند سال سے دیکھ رہا ہوں اور اس بات پر خوشی ہو رہی ہے کہ ہمارے مدارس کے طلبہ میں، غالبا انٹرنیٹ کی وجہ سے، یہ خوبی پیدا ہوئی ہے کہ وہ جدید عربی ادب، روزمرہ بول چال، عربی رسالوں ، اخباروں اور تقریروں سے مانوس ہو گئے ہیں اور یہیں تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ انگریزی اور اردو ادب پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ یوں ان کے اندر ایک جامعیت اور وسعت آ گئی ہے۔ اگرچہ یہ بات سب طالب علموں میں نہیں ہے لیکن چیدہ چیدہ ایسے طلبہ ملتے ہیں جس سے خوشی ہوتی ہے۔ پھر اب یونیورسٹیوں میں عربی کا دن منانے میں بھی وسعت آ رہی ہے اور ان میں عربی تقریری مقابلے بھی ہونے لگے ہیں جن میں مدارس کے طلبہ بھی شریک ہونے لگے ہیں اور بسا اوقات وہ یونیورسٹیوں اور کالجز کے طلبہ سے زیادہ قابلیت دکھاتے ہیں۔ یہ لوگ عربی میں اپنا مافی الضمیر ادا کرنے پر قادر ہیں لیکن ہم لوگ اُس دور میں قادر نہیں تھے کیونکہ ہمارے پاس یہ ماحول نہیں تھا۔

عربی زبان کے سیکھنے کے فوائد کی بات کریں تو مولانا میمن کہا کرتے تھے کہ ‘لوگ کہتے ہیں عربی پڑھ کر آدمی بھوکا مرتا ہے لیکن اس لیے بھوکا مرتا ہے کہ اسے عربی آتی ہی نہیں ہے، اگر آتی ہو تو آج بھی بہت مواقع ہیں’۔ اسی طرح اب بھی اگر آپ کوئی فن جانتے ہیں تو آپ کی قدر موجود ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں there is always a place on the top کہ ٹاپ پر ہمیشہ جگہ موجود ہوتی ہے۔ لہذا اگر آپ اپنی قابلیت درست کریں تو ہر چیز کی کوئی افادیت موجود ہے۔ اگر آپ انگریزی بھی پڑھتے ہیں لیکن وہ آپ کو آتی نہ ہو تو آپ کی قدر نہیں ہے۔ عربی زبان کو معاشی لحاظ سے دیکھا جائے تو درس و تدریس، تحریر و تقریر، بیرون ملک جا کر ذریعۂ معاش بنانے میں، سفارتخانوں میں بہت جگہ مواقع موجود ہیں۔

عربی سیکھنے سے اردو کے تلفظ وغیرہ میں بھی مدد مل سکتی ہے مثلا اگر ثلاثی مجرد کے ابواب کے مصادر ہی اردو والوں کو ذہن نشین کروا دیں تو انہیں پتا چل جائے گا کہ یہ لفظ ‘اَفراد’ (الف پر زبر کے ساتھ) ہوتا ہے، ‘اِفراد’ (الف کے زیر کے ساتھ) ایک الگ لفظ ہے۔ پہلا جمع کا صیغہ ہے، دوسرا مصدر ہے۔ البتہ یہ تصور کچھ زیادہ درست نہیں ہے کہ عربی جان کر آپ اردو پر قادر ہو جائیں گے۔ مولانا حالی کا موقف بھی یہی تھا۔ کیونکہ جب تک آپ اردو کو ایک الگ زبان تسلیم نہیں کرتے، اس کی فصاحت و بلاغت سے آشنا نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح تلفظ کے معاملے میں اگر ہر جگہ زبردستی عربی نافذ کرنا چاہیں تو یہ رویہ درست نہیں ہے مثلا یہ کہنا کہ اردو کا لفظ ‘تمیز’ اصل میں عربی کا ‘تمییز’ ہے لہذا اسے تمییز ہی کہا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو الگ زبان ہے اور عربی الگ ہے۔ لیکن ذخیرۂ الفاظ کی وسعت، معانی ادا کرنے کی قوت، اور تلفظ کی بہتری عربی کے جاننے سے آ سکتی ہے۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ
  • زبانوں سے پیار
  • لاہور بک فیئر کی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
مثنوی رومی اور مشرق و مغرب کا تصور عشق
اگلی تحریر
بےمثل عربی دان محمد کاظم اور ایک کتاب

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

لاہور بک فیئر کی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا

دسمبر 9, 2025

زبانوں سے پیار

دسمبر 18, 2025

محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

دسمبر 8, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 240 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 217 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 213 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 205 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 182 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

    جنوری 11, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

لاہور بک فیئر کی تاریخوں کا...

دسمبر 9, 2025

زبانوں سے پیار

دسمبر 18, 2025

محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا...

دسمبر 8, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here