آج کل رومی کی مثنوی پڑھ رہا ہوں، جس میں "عشق” پر کافی غور کیا گیا ہے۔ اقبال نے بھی اپنے خاص "تصور عشق” کا شعلہ رومی سے جلایا۔ مگر پوری اردو شاعری میں "عشق” سے بھرپور سروکار ملتا ہے۔ میر کے ہاں عشق ایک انسان کا دوسرے کسی انسان یا انسانوں سے سرگرم اور دوطرفہ تعلق ہے، اس تعلق کی تڑپ ہے۔ غالب کے ہاں عشق ایک دوسرے وجود، عورت کے وجود کا ذوق و شوق ہے۔ انیس کے کردار محبت کی خاطر جان تک دینے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنا چاہ رہے ہیں۔ اقبال کے ہاں عشق ایک passion ہے جو انسان کو کوئی بڑا کام کرنے پر اکساتی ہے۔
ہمارے معاشروں میں انسان کا انسان سے تعلق مغربی معاشروں سے مختلف رہا ہے۔ اسی لیے مغربی معاشرہ رومی کے شمس اور پھر چلیپی سے تعلق یا عشق کو سمجھ نہیں پایا۔ لیکن اب ہم خود بھی عشق کے اپنے تہذیبی تصور سے کٹتے جا رہے ہیں۔
عشق دوسرے سے کچھ لینے کے بجائے اسے کچھ دینے، اس سے اپنی زندگی، اپنا وجود شیئر کرنے کا نام یے۔ نئی نسل، نیا آدمی صرف لینا چاہتا ہے۔ تعلق میں حساب کتاب کرتا رہتا ہے کہ اس تعلق کا سم ٹوٹل کیا ہے۔ تجھے نکال کے دیکھا تو فائدہ ہے یا خسارہ ہے۔ عشق کا مشرقی کلاسیکی تصور مغرب کے "انفرادیت” کے تصور سے یک سر مختلف اور متضاد ہے۔ عشق کے تصور کی ناکامی انسانی تعلق کی ناکامی پر منتج ہوئی، چاہے یہ مرد کا عورت سے تعلق ہو یا فرد کا فرد سے تعلق ہو۔
صنعتی معاشرے کا فروغ اور اب انفارمیشن ٹیکنالوجی عشق کے کلاسیکی تصور کو روز بروز اور گہرا دفن کر رہی ہے۔ اب اس کا احیا ممکن نہیں ہے۔
