حضرت مولانا جلال الدین محمد رومی نے اپنا کچھ کلام جلا دیا تھا. یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ان کی زندگی کے کس دور سے متعلق تھا. البتہ خود مولانا ہی کی ایک بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اشعار حضرت شمس تبریزی سے ملاقات اور انقلابِ روحانی کے بعد کے دور سے متعلق رہے ہوں گے. ان شعروں میں کچھ ایسے مطالب و معارف صادر ہوئے ہوں گے جن کی اشاعت مختلف مصلحتوں کی بنیاد پر مناسب نہیں جانی گئی ہو گی. کیا وہ اعلی ترین درجے کی شطحیات پر مبنی ہوں گے؟ بالکل ممکن ہے.
مولانا رومی سے پوچھا گیا کہ آپ نے اپنا یہ گراں قدر اور متبرک کلام کیوں جلا دیا تو انھوں نے جواب دیا: از غیبُ الغیب آمدند و بہ غیبِ بی عیب می روند. یہ کلام غیبِ غیب سے آیا تھا، اسی غیبِ بے عیب کی جانب واپس چلا گیا. یہ جملہ اپنے مزاج، ساخت اور اسلوب کے اعتبار سے مولانا رومی کے قول کی نزدیک ترین ترجمانی ہے. شاید تمام الفاظ خود انھی کے ہوں. البتہ اس کے بعد کےمسجع و مقفی توضیحی جملے کے مرصع الفاظ مناقب العارفین کے مولف شمس الدین احمد افلاکی کے ذوقِ عبارت آرائی سے خالی نہیں لگتے.مفہوم مولانا کا ہے اور الفاظ افلاکی کے.
افلاکی کے بہ قول مولانا نے اپنے اس عمل کی توجیہ اورحکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: از آن کہ اَبکارِ این اَسرار لایقِ اسماعِ اَخیارِ این دیار نیست. یہ کلام اس لیے جلا دیا گیا ہے کہ اس میں بیان کیے گئے اچھوتے اسرار و رموز کی سماعت اورتفہیم اس علاقے کے اکابر کے بس کی بات نہیں ہے.
مولانا رومی کے موجود و میسر کلام کا بیشتر حصہ بھی بہ جائے خود محض شطحیات نہیں، ابو الشطحیات ہے، کاش وہ شاہ کار کلام بھی ہم تک پہنچ سکتا. آج وہ اشعارِ سوختہ ہمارے سامنے ہوتے تو ہم مرشدِ قونیہ کے مرموز و منور باطن کے کئی اور عرفانی پہلوؤں سے آشنا تر ہونے کی کوشش کر سکتے تھے.