افسانہ بچپن کی یادوں سے برآمد ہوتا ہے ؛ مٹی گارے سے کھیلنے والی عمر کی یادوں سے ۔ انجنہاری گارے سےگھریابناتے ہوئے نلیاں سی بھی بنالیتی ہے جس میں اسے انڈے دینا ہوتے ہیں۔ لطف دیکھیے کہ نلی نما ان خانوں سے پہلے پہل نر نکلتے ہیں اور پھر مادہ مکھیاں۔ نر مادہ سے ملاپ کے بعد اپنی زندگی کا دائرہ مکمل کرکے عدم کو سدھار جاتا ہے اور مادہ نئی گھریا بنانے میں جُت جاتی ہے۔ شہد کی مکھی کی طرح یہ بھی پھولوں پھولوں پھرتی اور پولن اکٹھا کرتی ہے ہے مگر شہد بنانے کو نہیں بلکہ ایک گولا سا بنا کر اپنی گھریا کی نلیوں میں رکھنے کو۔ انہی پولن کے گداز گولوں پر وہ انڈے دیتی ہے ۔یہ کام وہ اتنے سلیقے سے کرتی ہے کہ نلیاں پولن کے گولوں اور انڈوں سے ایک ترتیب میں بھر جاتی ہیں۔ ایک نلی سے فارغ ہوکر دوسری نلی کی طرف جانے اور یہی عمل دہرانے سے پہلے وہ نلی کے منھ کو کیچڑ سے لیپ کر بند کر دیتی ہے۔ گرمیوں میں انڈوں سے لاروا نکل کر پولن کے گولوں کو کھاتا ہے۔تمام پولن کھاجانے کے بعد لاروا زندگی کے اگلےمرحلے میں پیوپا ہوتا ہے۔ یہ پیوپےموسم معتدل ہونے تک انجنہاریاں ہو چکے ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی اپنی نلیوں کے اندر دم سادھے پڑے رہتی ہیں حتیٰ کہ موسم بہار آجاتا ہے ؛ اپنی اپنی نلیوں سے باہر نکلنے کا موسم ۔ اول اول ان نلیوں سے نر نکلتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ انتظار حسین نے انجنہاری کو گارے کی گھارنڑی پر پہلی بارتب دیکھا تھا جب وہ نلیوں کے اندر پولن کے گولوں پر انڈے دے چکنے کے بعد وہاں گارا لینے آئی کہ اسے نلیوں کے منہ کو گارے سے لیپنا تھا۔ :
’’محلے میں کوئی نیا گھر بننا شروع ہوتا تو ایک نیا شغل مل جاتا۔ راجوں کی آنکھ بچی اور پیلی مٹی کے گارے میں سے حلو اسی مٹی کی لپ بھری اور دوسری گلی میں پہنچ کر گولے بنانے شروع کر دیئے۔ دوپہر کی دھوپ میں گارے کا پانی کیسا جھمک ٹھیک کرتا تھا اور سونا سی پگھلی ہوئی مٹی کے کسی تو دے پر ایک لرزتی ہوئی سونے کی ڈلی سی رکھی ہوئی، ایک ڈھلی ہوئی شکل ،جیسے کسی لڑکی کا بندا ہے کہ کان سے ابھی ابھی گرا ہے ۔ راج کسلے سے پرانتوں میں گارا بھرتے اور بنتی ہوئی دیواروں کی طرف چل پڑتے۔ ادھر سے آنے والے راج خالی پرانتیں لاتے اور زمین پر رکھ مٹی میں سنے کسلے سنبھالتے۔ انجنہاری کو آنے والے راجوں کی خبر ہوتی نہ جاتے راجوں کا پتہ چلتا ، مزے سے بیٹی ڈنک کو گردش دیتی رہتی اور آرام سے اڑ جاتی ۔‘‘
انجنہاری کو بجا طور پر انتظار حسین نے افسانے کی صنف کو سمجھنے کے لیے ایک ’سند‘ بنایا اوراسی انتخاب کی عطا ہے کہ ایک تنقیدی مضمون کا متن افسانے کے قالب میں ڈھل گیا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا یہ عمل ادبی دنیا میں ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہ ہوگا مگر راستہ انہیں بہتر سوجھا تھا اسی پر چلے کہ یہی ان کا وہ ذاتی تجربہ تھا جو تخلیقی عمل کو آغاز دیتا تھا۔
’’انجنہاری کے واسطے سے اپنے افسانے کی بات کرنا اکثر لوگوں کے لئے میری کم علمی اور گنوار پن کی دلیل بن سکتا ہے۔ بعض لوگ شاید میری انکساری سمجھ کر چپ ہور ہیں، مگر چند ایک لوگ ایسے بھی ہوں گے جو اسے ایک دعوی سمجھیں گے اور اس خود ستائی پہ نہ جانے کیا کچھ کہیں گے۔ اس حوالے سے بات کرنے میں مجھے خود ایک دعویٰ کا احساس ہوتا ہے اور مجھے اس میں تامل بھی ہوا تھا۔لیکن مشکل یہ آپڑی ہے کہ میں کسی ایسی ہستی کے حوالے سے بات کرنا چاہتا تھاجو افسانہ نگاری کے معاملے میں میرے لیے سند ہو۔‘‘
یہ سند انتظار حسین کو انجنہاری کی صورت میں ملی تھی۔ یہ ماننا ہوگا کہ افسانہ محض اور صرف روز مرہ کے مانوس تجربوں سے پھوٹ تو سکتا ہے مگر عین مین ویسا ہوتا نہیں جیسا ہم دیکھتے ہیں ؛ کہہ لیجئے افسانے کے بیانیہ میں حقیقت کا التباس ہوسکتا ہے مگر یہ ایسی پرپیچ صداقت کا قوی مظہر ہوتا ہے کہ ہم اسے ہی حقیقت سمجھنے لگتے ہیں۔ انتطار حسین میں یہ خوبی ہے کہ وہ کہانی کو سیدھا نہیں چلاتے اس میں سو طرح کے بل چھل اور بھید بھنور رکھتے ہیں اور وہ بھی یوں جیسے مکالمہ کر رہے ہو؛ ایک خیال انگیز مکالمہ۔ اس مکالمے میں ہم کبھی شہد کی مکھی کی جانب متوجہ ہوتے ہیں ، کبھی بئے اور پھر انجنہاری کی طرف، اور یوں لگتا ہے کہ اِدھر اُدھر کی باتیں متن ہو رہی ہیں مگر اسی متن ایک خاص خیال کے ریشم کا دھاگا بنتا چلا جاتا ہے۔ میں نے اِدھر اُدھر کی باتوں کی جانب یوں اشارہ کیا کہ جب اس افسانے میں انجنہاری اور پیلے گارے کے ذکر میں اُس مقام کا ذکر آتا ہے جہاں سے افسانے کا راوی انجنہاری سے ملتا اور جدا ہوتا ہے تو وہیں اس مٹی کا ذکر بھی آگیا جو سجدہ گاہ ہو جاتی ہے ۔ افسانے کے اس حصے میں انجنہاری کا بس اتنا ذکر ہے کہ راوی نے اسے گارے پر ڈنک گھماتے دیکھا اور مٹی سے وابستہ اس کی دُکھتی رگ چھڑ گئی ۔ اسے رنگ رنگ کے گھر یا آئے اور اپنے گھر کی وہ کچی چھت بھی جہاں بارش پڑتے ہی ٹپکنے لگتی تھی۔افسانے کا یہ حصہ ہمیں وہ انتظار حسین یاد دلاتا ہے جس نے ہندوستان کی تقسیم کے زمانے میں ہجرت کی اور بعد کے زمانوں میں مڑ مڑ کر پیچھے دیکھا ہے۔ مٹی اور ماضی سے وابستہ مختلف مشاہدات اور تجربات کو بیانیہ کا حصہ بنانے کے بعد ، کہ جس میں دیوالی کے دیوے، بستی سے باہر ٹوٹے ہوئے بے آبا د مندروں کی بے یارو مدد گار مورتیاں ، رمضان کی شاموں کو چھت کی منڈیر پہ رکھی ہوئی کچی صراحی، بائیس رجب کی صبح کے جھٹپٹے میں سرخ کورے مہکتے کونڈوں کی قطاریں، ساتویں محرم کی شب میں کیوڑے کے شربت سے چھلکتے ہوئے سوندھی سوندھی خوشبو والے کو زے، خاک شفا کی وہ تسبیح جس کے دانے ہر سال عاشورہ کی صبح کو سرخ پڑ جاتے تھے، سب کا ذکر ہے ، وہ اس مٹی (یا پھر مٹی کی محبت) میں اس چکر یا گھانڑی کا ذکر کیا ہے جس میں لتھڑا ہوا ٓدمی باہر نہیں نکل سکتا۔ خزانے اگلتی مٹی اور بدلے میں بھینٹ مانگتی مٹی۔ یہی مٹی سجدہ گاہ بنتی ہے اور اسی پر سجدے طویل تر ہو جاتے ہیں ۔ افسانے کے اس حصے میں مٹی کا ایسا جادو چلا ہے کہ کہانی آگے بڑھنے کی بجائے اسی مٹی کے چکر میں گھومتی چلی گئی ہے۔
(جاری ہے)