Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » ہارپر لی؛ چند تصویرِ بتاں، چند حسینوں کے خطوط

ہارپر لی؛ چند تصویرِ بتاں، چند حسینوں کے خطوط

مبشر علی زیدی

کی طرف سے Ranaayi فروری 25, 2026
کی طرف سے Ranaayi فروری 25, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
28

کچھ وقت پہلے میں نے ایلیسن روز کا ذکر کیا تھا جو نیویارکر میں ریسیپشنسٹ کی نوکری کرنے آئیں اور پھر مقبول رائٹر بن گئیں۔ ایک ائیر ٹکٹ بکنگ کلرک کا قصہ بھی سنیں جس کی کوئی کہانی کسی ادبی رسالے نے نہیں چھاپی، پھر بھی آج اسے امریکا نہیں، دنیا کے عظیم ادیبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ہارپر لی کا تعلق ریاست الاباما کے ایک چھوٹے سے قصبے تھا۔ ان کے والد وکالت کرتے تھے اور الاباما اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ وہ لی کو بھی وکیل بنانا چاہتے تھے۔ انھوں نے الاباما یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی لیکن ایک سیمسٹر پہلے ڈگری چھوڑ دی جس پر ان کے والد بہت خفا ہوئے۔

لی نیویارک آگئیں اور چھوٹی موٹی ملازمتیں کرنے لگیں۔ ایک بک اسٹور میں کام کیا۔ پھر ائیر ٹکٹ بکنگ کلرک بن گئیں۔ اس دوران آٹھ کہانیاں لکھیں اور ادھر ادھر بھیجیں لیکن سب ناقابل اشاعت قرار پائیں۔ انھوں نے ایڈیٹرز کے خطوط سنبھال کے رکھے۔

مغربی دنیا میں ادیب کو چھپنے کے لیے ایجنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلکہ میرا تجربہ پوچھیں تو امریکا میں صحافیوں کو اچھی جاب بھی ایجنٹ کے ذریعے ملتی ہے۔ یہ بات بیشتر امیگرنٹ صحافی نہیں جانتے اس لیے اکثر بیروزگار رہتے ہیں۔

لی نے ایجنٹ کو ایک ناول "گو سیٹ اے واچ مین” کا مسودہ دیا۔ ایجنٹ نے وہ ناول ایک پبلشر کو دکھایا۔ پبلشر کی ایڈیٹر نے لی کو بتایا کہ یہ چھپنے لائق نہیں لیکن آپ کوشش کرکے اسے بہتر بنا سکتی ہیں۔ اس کے بعد دو سال تک لی اور وہ ایڈیٹر مسودے پر محنت کرتی رہیں۔ انھوں نے اتنی محنت کی کہ وہ ابتدائی مسودے سے مختلف ناول بن گیا اور چھپ کر ایسا کامیاب ہوا کہ پلٹزر انعام کا حق دار قرار پایا۔ اس پر فلم بنائی گئی جس نے تین آسکر ایوارڈز جیتے۔

ہارپر لی کے ناول "ٹو کل اے موکنگ برڈ” کو اب کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔ یہ امریکی نصاب تعلیم کا حصہ ہے۔ اس کی زبان اتنی آسان ہے کہ اسے مڈل اسکول میں پڑھایا جاتا ہے۔

ریڈرز ڈائجسٹ کا ادارہ سال میں چار بار چار پانچ نئے ناولوں کی تلخیص کرکے ایک کتاب کی صورت میں چھاپتا ہے۔ اسے ریڈرز ڈائجسٹ کنڈنسڈ بک سیریز کہا جاتا ہے۔ 1960 میں اس نے چار دوسرے ناولوں کے ساتھ ٹو کل اے موکنگ برڈ کی تلخیص کی تھی۔ میں نے بہت ڈھونڈ کے وہ کتاب حاصل کی کیونکہ اس کی تاریخی حیثیت ہے۔

موکنگ برڈ کے بعد ہارپر لی کے چند مختصر مضامین چھپے لیکن انھوں نے باقی کی پچپن چھپن سال کی زندگی میں مزید فکشن نہیں لکھا۔ 2016 میں ان کے انتقال سے سال بھر پہلے ان کا ناول گو سیٹ اے واچ مین بھی چھپ گیا جو دراصل موکنگ برڈ کی بنیاد تھا۔

ہارپر لی کے انتقال کے بعد ان کے کاغذات دیکھے گئے تو ان میں نصف صدی پہلے کی ناقابل اشاعت کہانیاں اور ایڈیٹرز کے خطوط نکل آئے۔ بڑے ادیب کے بچپن کا کام بھی تبرک ہوتا ہے۔ چنانچہ ان کہانیوں، خطوط اور ہارپر لی کے مختلف جریدوں میں چھپنے والے مضامین کو جمع کرکے ایک کتاب مرتب کی گئی، جس کا عنوان دا لینڈ آف سوئٹ فور ایور رکھا گیا۔ یہ کتاب امریکہ سے گزشتہ برس شائع ہوئی۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • مولانا ظفر علی خان اور فارسی
  • امریکہ میں گمشدہ اردو فکشن
  • بےمثل عربی دان محمد کاظم اور ایک کتاب
  • عربی زبان کے عالمی دن کے حوالے سے چند باتیں
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
Tongues , Identity & Region
اگلی تحریر
میں اور سید کاشف رضا

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

جنوری 12, 2026

صوفیوں کا استاد رنِد

دسمبر 8, 2025

آدمی (افسانہ)

دسمبر 28, 2025

اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے

جنوری 10, 2026

قدیم شاعری پڑھتے ہوئے

جنوری 7, 2026

غالب کے چند فارسی شعر مع اردو (ویڈیو)

دسمبر 28, 2025

رومی کے چند اشعار کا ترجمہ

جنوری 7, 2026

انجنہاری کی گھریا؛ ایک مطالعہ (تیسری قسط)

دسمبر 11, 2025

شعری مجموعہ ‘گلِ دوگانہ’

دسمبر 19, 2025

اسامہ صدیق کا نیا انگریزی ناول شائع ہو گیا

دسمبر 10, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 280 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 264 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 254 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 226 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

تراشیدم، پرستیدم، شکستم (افسانہ)

فروری 12, 2026

جہانِ گزراں (یہ دنیا رنگ رنگیلی...

دسمبر 26, 2025

بکھری ہے میری داستاں؛ ایک مطالعہ

جنوری 5, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here