68
یلدا بھی گزر گئی، ہر گزر جانے والی شے کی طرح. سورج کی پیدائش کی رات، خوشی، مسرت، کامیابی اور امید کی رات. شبِ یلدا کا جشن منانے والوں نے منایا ہو گا. مَیں کوئی بھی اہتمام نہ کر سکا، نہ ظاہری، نہ ذہنی. نہ کوئی ایرانی ڈش بنوائی، نہ تر و تازہ انار منگوائے، نہ تربوز ہی تلاش کروایا. فالِ حافظ بھی نہیں. فالِ حافظ کہ جس سے دل کچھ بہل جائے.کبھی کبھی دل کے سارے کھلونے چھپا دینے چاہئیں.
رات تو رات ہے،گزر ہی جاتی ہے، چھوٹی ہو یا لمبی، وصال کی ہو یا فراق کی،صحت مندوں کی ہو یا بیماروں کی. دن بھی تو اسی طرح گزر جاتے ہیں. وہ کوئی ٹھہرے تھوڑی رہتے ہیں. پھر ہمارے شعر و ادب میں رات ہی کا گزرنا کیوں بہت اہم ہے.