آخر آدمی کسی وائرل موضوع سے کتنا بھاگ سکتا ہے ۔ خاص طور پر جب موضوع کا تعلق فلسفہ و علم کلام کی بھول بھلیوں سے ہو اور آدمی کے کسی بھی درسی دن کا نصف حصہ انہی دو علوم کی موشگافیوں سے خالی سے نہ گزرتا ہو۔
کسی نے علم کلام اور اسلامی عقائد کے عقلی دلائل کی نفی کا حوالہ ائمہ اسلام سے منسوب کر کے پیش کیا ہے تو اس پر چند سطریں لکھی ہیں۔ وقت ملے تو اس موضوع پر تفصیل، بہت تفصیل سے لکھنے کا ارادہ بن سکتا ہے۔ یا کم از کم تین چار عربی کتب کا ترجمہ تو ضرور کر دینا چاہتا ہوں جو علم کلام کے اولیں عہد کی یا اس کے قریب قریب کی ہیں اور ایک کو تو ایڈیٹ بھی کسی انگریز نے کیا ہے۔ بہرحال یہ چند سطریں محض قلم برداشتہ ہیں:
علم کلام کے طریقہ کار اور انجام کار کی وجہ سے بحث و مناظرہ کے اولین عہد میں کسی عالم کا کسی ایک یا چند ایک مخصوص جہتوں کی وجہ سے رائے دینا ، ہر جہت سے علم کلام کی نفی نہیں کر سکتا ۔ نہ کسی نے ایسا کہا، نہ سمجھا، نہ لکھا، نہ پڑھا، نہ پڑھایا۔ بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے یعنی عقلی دلائل تو مضبوط طریقے سے بیان کیے جاتے ہیں، ہر وہ کتاب جس کا موضوع علم کلام ہو گا، اس میں تمام تر عقائد کو عقلی دلائل سے ضرور بیان کیا گیا ہوتا ہے۔ کم از کم میں نے تو گزشتہ تیرہ چودہ سو سال کی بیسیوں کتب میں سے ایک بھی ایسی کتاب نہیں دیکھی جس میں عقلی دلائل نہ ہوں۔ بلکہ یہ بھی دیکھا کہ عقلی دلائل کا اچھا خاصا حصہ قرآن مجید سے لیا گیا ہوتا ہے۔ خاص طور پر اللہ تعالی کے وجود اور ذات و صفات پر تو قرآن کا استدلال ہے ہی عقلی۔ ہاں اگر کوئی شخص عقل کو علم حاصل کرنے کا واحد اور آخری و حتمی ذریعہ سمجھے تو اس کو مسترد کیا گیا ہے اور یہ صرف علمائے اسلام کے ساتھ خاص نہیں ہے جیسا کہ ‘تنقید عقل محض’ کے مطالعے سے واضح ہے۔ کیونکہ علمائے اسلام کے نزدیک یعنی مذہبی نقطۂ نظر سے علم کے ذرائع تین ہیں: عقل، خبرِ صادق، اور حواس خمسہ۔
لہذا شانتی رکھیے، عقل بھی یہیں ہے، حواس اور وحی و خبر بھی موجود ہیں، دلائل بھی یہیں ہیں اور عقیدہ بھی ان سب سے ثابت ہے۔ ڈونٹ وری!