آئیے چند ایسی کتابوں کے بارے میں بات کریں جو لکھی تو جاچکی ہیں لیکن انہیں پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہر سال ان میں اضافہ ہورہا ہے ۔ اس پروجیکٹ کا آغاز ۲۰۱۴ میں ہوا اور یہ ۲۱۱۴ تک جاری رہے گا۔ یہ سو سالہ پروجیکٹ ہے۔ اس کا نام فیوچر لائبریری پروجیکٹ ہے ۔ یہ خواب کیٹی پیٹرسن نے دیکھا ہے جو کہ ایک اسکاٹش آرٹسٹ ہیں۔ اس کی تکمیل میں ابھی نوے سال باقی ہیں ۔ ۲۰۱۴ سے اب تک دس مسودے جمع کئے جا چکے ہیں ۔ ہر سال کسی ایک مصنف سے ان کا مسودہ لےکر فیوچر لائبریری کے ایک محفوظ اور خصوصی طور پر ڈیزائین کئے ہوئے کمرے میں جسے خاموش کمرے کا نام دیا گیا ہے ، میں رکھ دیا جاتا ہے ۔ اسے کسی کو پڑھنے کی اجازت نہیں اور نا ہی مصنف کو اجازت ہے کہ وہ اس کے بارے میں بات کرے ۔اس مقصد کے لئے اوسلو کے قریبی جنگلات کے ایک مخصوص حصے میں ایک ہزار درخت لگائے گئے ہیں جن کی آبیاری کی جا رہی ہے ۔ ۲۱۱۴ میں سو سال اور سو مسودے مکمل ہونے پر ان درختوں کو کاٹا جائے گا۔ ان سے جو لکڑی حاصل کی جائے گی ،اس سے کاغذ تیار کیا جائے گا اور اسی کاغذ پر یہ تمام کتابیں شائع ہوں گی ۔ گو کہ بہت سے سوالات ہیں جو ہر سوچنے والے کے دماغ میں ابھرتے ہیں۔ ان مسودوں سے متعلق ۔ ان موضوعات سے متعلق۔ ان کے معیار انتخاب سے متعلق۔ سو سال بعد ان کی افادیت سے متعلق ۔ مگر کتابی دنیا کا یہ ایک بہت بڑا اور انوکھا کام ہے ۔ آئیے ان مسودوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے ہیں جو اب تک منتخب کئے گئے ہیں۔
۲۰۱۴ میں معروف کینیڈین رائٹر مارگریٹ ایٹ وڈ کی کتاب اسکربلرمون کو منتخب کیا گیا ۔
۲۰۱۵ میں انگریزی زبان کے مصنف ڈیوڈ مچل کا مسودہ From me flows what you call timeمنتخب کیا۔ یعنی جسے آپ وقت کہتے ہیں وہ مجھ سے بہتا ہے۔
۲۰۱۶ میں آئسلینڈ کے رائٹرسجون کی کتاب کو منتخب کیا گیا جس کا نام ہے۔ As my brow brushes on the tunics of angels
۲۰۱۷ میں ایلف شفق جن کا تعلق ترکیہ سے ہے کی کتاب The last taboo کو منتخب کیا گیا۔
۲۰۱۸ میں ساوتھ کوریا کی مصنفہ ہان کینگ کے مسودے Dear son, my beloved کا انتخاب ہوا۔
۲۰۱۹میں کاری او ناشکارڈ کی Blinde boken ان کا تعلق ناروے سے ہے۔
۲۰۲۰ میں اوسین وونگ کی King Philip کا مسودہ رکھا گیا۔ وہ ویتنامی امریکن ہیں۔
۲۰۲۱ میں زمبابوے کی مصنفہ Tsitsi Dangarenbga کا مسودہ Narini and her Dunkey کا انتخاب ہوا۔
۲۰۲۲ میں جرمن رائٹر جودی شیار انسکی کے مسودے
Fluff and Splinters رکھا گیا۔
۲۰۲۳ میں میکسیکن رائٹر ولیر یا لوسل کے مسودے The Force of Resonance کا انتخاب ہوا۔
۲۰۲۴ میں امریکن رائٹر ٹومی اورنج کی کتاب کو منتخب کیا گیا جس کے نام کا اعلان اس سال کیا جائے گا ۔ اس پروجیکٹ کے ممبران کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے ۔ ہر سال مئی کے مہینے میں یعنی اسی ماہ او سلو ناروے میں لوگ اکٹھے ہوتے ہیں ۔ نئے مصنف کی شمولیت کی تقریب میں شرکت کرتے ہیں۔ ان جنگلات کا دورہ کرتے ہیں جہاں ایک ہزار درخت نشوونما پا رہے ہیں۔ مگر ان تمام حیرت انگیز اور خوش کن باتوں کے باوجود بہت سے سوالات اور اعتراضات ابھرے ہیں ۔ پروجیکٹ کی خالق کیٹی پیٹرسن کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔
سو سال ایک طویل عرصہ ہوتا ہے اور کوئی بھی آئندہ کے بارے میں پیش گوئی نہیں کر سکتا۔ کسی بھی لکھنے والے کی تحریروں کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے کچھ غیر معمولی لکھا ہے جب تک کہ اسے قاری نہ مئیسرآجائیں ۔ اور اس پروجیکٹ میں قاری کو سو سال تک کے لئے منہا کر دیا گیا ہے ۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ دنیا بھر کی زبانوں میں لکھا جانے والا ادب ترجمے کے مرحلےسے تب ہی گزرتا ہے جب ـ قاری اسے قبولیت عطا کرتا ہے ۔ تو پھر دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں لکھی جانے والی اچھی تحریریں اس پروجیکٹ کا حصہ بننے سے شاید ہمیشہ محروم رہیں گی ۔ یہاں مصنفین کے انتخاب اور فیصلہ کرنے کی صوابدید یر بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ مگر اب تمام باتوں کے باوجود اس انوکھے، منفرد اور صبر آزما پروجیکٹ کی تعریف کی جانی چاہئیے ، جسے ہم میں سے بیشتر مکمل ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکیں گی۔