دسمبر کی ایسی ہی ایک شام تھی جب ایک فون کال کے ذریعے معلوم ہوا کہ پیر زادہ اقبال احمد فاروقی صاحب 19 دسمبر کو جہان فانی سے گزر گئے
وہ دن ہے اور آج کا دن ، ہر چند کہ ان کو دیکھے ہوئے کئی برس ہونے کو آئے ہیں مگر یونہی لگتا ہے کہ وہ یہیں کہیں آس پاس ہی ہیں
کسی طالب علم کو نئی کتابیں اور رسالے دکھاتے ہوئے
مطالعے کی اہمیت بتاتے ہوئے
کسی نوآموز کو تحقیق کی تربیت دیتے ہوئے
کسی کاہل عالم کو سخت سست سناتے ہوئے
اہلِ محراب و منبر کی کمزوریوں پر کاٹ دار جملے کستے ہوئے
کسی علمی گتھی کو سلجھاتے ہوئے
دوستوں کی محفل کو علمی و ادبی نکات و لطائف سے کشتِ زعفران بناتے ہوئے
اہل علم سے ملاقاتیں کرتے ہوئے
مجھ ایسے طالب علموں کو نو آمدہ اور پرانی کتابیں دکھاتے ہوئے ، اپنے نام آنے والی ڈاک دکھاتے ہوئے
تحقیق کی طرف راغب کرتے ہوئے
الغرض وہ کہیں نہیں گئے ۔ ۔ ۔
شاعر نے کہا تھا:
رات باقی تھی جب وہ بچھڑے تھے
کٹ گئی عمر ، رات باقی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ میری یونیورسٹی تھے
میرا انسائیکلوپیڈیا تھے
ماں کی گود جیسی تربیت گاہ تھے
خدا ان کی روح کو آسودہ رکھے
(کچھ برس قبل کی مختصر خود کلامی)
