عنوان: گنبدوں کے درمیاں
خواہشیں دیوار گریہ پر خوشی کے گیت ہیں
راستے اچھے دنوں کے خواب ہیں
لیکن ہمیشہ منزلوں سے دور رہتے ہیں
لکیریں دائروں میں قید ہیں
چلتے رہو!
ریگزاروں کے سفر کا انت پانی ہے
سرابوں کے تعاقب میں کبھی نکلو
تو آنکھوں کے سمندر ساتھ رکھنا
کانچ خاموشی کے جنگل سے کبھی گزرو
تو آوازوں کے پتھر ساتھ رکھنا!
گنبدوں کے درمیاں رہتے ہوئے
در ساتھ رکھنا!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عنوان: دیوارِ قہقہہ
دیکھو دیکھو!!
اوپر سے نیچے تک دیکھو
آگے سے پیچھے تک دیکھو
جنگل اور پہاڑ سے لے کر
گھر کے باغیچے تک دیکھو
چڑیا باز ہما اور ققنس
ہر پنچھی کی بینائی سے
حد فلک کی پہنائی سے
اڑتے غالیچے تک دیکھو
شہروں میں دیہات میں دیکھو
دن میں دیکھو رات میں دیکھو
رستوں کی اطراف میں دیکھو
گدلے میں شفاف میں دیکھو
اندر دیکھو باہر دیکھو
پوشیدہ یا ظاہر دیکھو
دنیا کی اوقات میں دیکھو
اپنی اپنی ذات میں دیکھو
دیکھو دیکھو!!
اس نادید کو ہر سو دیکھو
کچھ بھی نظر نہ آئے جب تو
اک تجرید کو ہر سو دیکھو
اور دیکھتے دیکھتے خوب ہنسو!!