Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

احمد تراث

کی طرف سے Ranaayi دسمبر 8, 2025
کی طرف سے Ranaayi دسمبر 8, 2025 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
204

سرد موسم کی طویل راتوں کا معاملہ یہ ہے کہ جیسے جیسے شب کا سکوت گہرا ہونے لگتا ہے مطالعے کا لطف بڑھتا جاتا ہے مگر ساتھ ہی یہ فکر بھی دامن گیر ہونے لگتی ہے کہ صبح جلدی اٹھ کر دن بھر کی مصروفیات کے لیے کچھ وقت تو سونا ہی پڑے گا۔ خیر یہ آنکھ مچولی اپنی جگہ، جبکہ مطالعہ اور وہ بھی سرد موسم میں، ایک بےحد خوشگوار تجربہ ہے جس کو ضائع کرنا بڑی محرومی کی بات ہے۔

آج ایک تصویر نظر آئی جس میں برادرم محمود الحسن اپنی اولیں کتاب ‘شرف ہم کلامی’ ہاتھ میں پکڑے کھڑے ہیں، یہ موقع تھا لاہور انٹرنیشنل بک فیئر کا اور سنگ میل کے اسٹال پر تصویر بن گئی۔ وہ کوئی سعادت والی گھڑی ہی ہو گی ورنہ جنابِ مصنف ایسی تشہیر سے عموما دور و نفور ہی نظر آئے بلکہ کسی حد تک اس انداز کے حامل کہ ان کی کتابوں کا زیادہ لوگوں کو علم نہ ہونے پائے۔ حتی کہ کتاب پر آٹو گراف دینے سے بھی غچہ دیکر نکل جاتے ہیں۔

محترم محمود الحسن صاحب نے پہلی کتاب انتظار صاحب کے ساتھ کی گئی باتوں کو تحریری شکل دیکر کر ترتیب دی تھی جس نے پڑھنے والوں کو دونوں کا گرویدہ کر لیا۔ اس موقع پر خاکسار نے ایک محبت بھرا شذرہ لکھا تھا جو تلاش بسیار کے باوجود مل نہیں سکا۔ لیکن اس کے بعد ان کا شکریہ اور پھر ایک اور میسج موصول ہوا۔ مجھے یاد ہے کہ لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب کسی سواری میں بیٹھا تھا جب محمود بھائی نے بتایا کہ: ‘ابھی کچھ دیر پہلے خورشید رضوی صاحب سے فون پر بات ہوئی ان کو شرف ہم کلامی پسند آئی, ان کی تعریف سے اتنی خوشی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے, آپ کو اس لیے بتا رہا ہوں کہ آپ جانتے ہیں وہ کتنے بڑے آدمی ہیں’ یہ کم و بیش آج سے آٹھ برس قبل کی بات ہے۔ اس کے بعد ان کی مزید کئی کتب شائع ہوئیں جن کے بارے میں چند شذرات جو اسی وقت لکھے گئے پیش خدمت کرتا ہوں۔

مثلا جب انہوں نے لاہور کے عاشق، تین ادیبوں کے عشقِ لاہور کو بیان کرنے کے لیے ایک کتاب ‘لاہور شہرِ پُر کمال لکھی تو خاکسار شہر سے باہر تھا اور اس عالم میں لکھا کہ: ‘یہ کتاب ایک ایسا محبوب ہے جس کا ذکر سن کر ہی اس سے عشق ہو گیا ہو اور وصل کی آرزو نے بےچین کر دیا ہو۔ عہد بنو عباس کا ایک شاعر جعفر بن علبہ الحارثی مکہ میں اسیری کے دوران اپنی ایک اچھوتی تصوراتی نظم میں کہتا ہے: ‘وہ یمنی سواروں کے پہلو بہ پہلو سفر کی منزلیں طے کر رہی ہے اور میں مکہ میں قید ہوں مجھے رات کے وقت اس کے مجھ تک رسائی پا لینے پر حیرت ہو رہی ہے کیونکہ قید خانے کا دروازہ تو میرے سامنے مقفل ہے’ مجھے لگ رہا ہے کہ لاہور واپس پہنچنے تک اس محبوب کتاب سے بھی تصور میں ہی ملاقاتیں ہوں گی اور یوں یہ کتاب بھی عشق کی ‘کاغذی کاروائی’ کے بعد ہی اپنا جلوہ دکھائے گی’ شمس الرحمن فاروقی جیسے نابغۂ روزگار عالم ادبیات، فکشن نگار و نقاد سے ہونے والی بات چیت کو محمود بھائی نے ترتیب دیا تو طالب علم نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ: ‘سنا ہے کہ مطالعے کے شوقین معاشروں میں کسی اچھی کتاب کی اشاعت کی خبر، اشاعت سے پہلے ہی عام ہو کر، کتاب کی ایڈوانس بکنگ کروا کر، شائقین کو اس روز قطاروں میں لا کھڑا کرتی ہے جس روز کتاب پہلی بار شائع ہو کر ان کے ہاتھوں تک پہنچنی ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں کتاب اور مصنف کے ساتھ ایسا کوئی اندازِ محبت تو ایک خواب ہی ہو سکتا ہے لیکن محمود بھائی کی شخصیت اور تحریر کے مجھ سمیت کئی ایسے مداح ہوں گے جن کو اس کتاب کے شائع ہونے کا بڑے ذوق و شوق سے انتظار تھا اور گاہ گاہ یہ خبر ذہن میں تازہ ہو کر تازہ ہوا کے سہانے جھونکے لاتی رہتی تھی۔ کتاب کے دستیاب ہونے تک فقط اس خبر پر ہی خوش ہونا پڑے گا اور ناشر اور تقسیم کار ادارے کی عنایت سے کتاب دکان پر دستیاب بھی ہو گئی تو مصنف کے دور و نزدیک بیٹھے ہوئے تمام دوست بہت خوش ہوں گے’

بعد ازاں غالبا ہمارے محبوب مصنف کی اب تک کی آخری کتاب گزری ہوئی دنیا سے ہے۔ اس کو پڑھنے والا بھی اس جہان سے کہیں اور ہی کھو جاتا ہے، اس زمانے جو رفت گزشت ہوا۔ خاکسار نے اس کتاب کی اشاعت پر اظہار مسرت یوں کیا تھا: عزیز دوست جناب محمود الحسن کی نئی کتاب مل گئی جس کی خوشی بہت زیادہ ہے۔ مصنفِ ذی وقار کی خدمت میں مبارکباد۔ اس میں شامل بیشتر تحریریں پہلے بھی پڑھ چکا ہوں لیکن کتابی شکل میں پڑھنے اور محفوظ رکھنے کا الگ لطف ہوتا ہے اور پھر ان تحریروں میں ان کے مصنف جیسی دل کشی بھی وافر ہے، لہذا جیسے منصف سے بار بار ملنے کو جی چاہتا ہے ویسے ہی یہ تحریریں بھی بار بار پڑھے جانے کے لائق ہیں’ جی ہاں! آپ درست سمجھے ہیں کہ یہ شذرات ان کتابوں کی اشاعت یا وصولی کی خوشی کو بیان کر رہے ہیں۔ لیکن یہ تو آپ کو مطالعہ کر کے ہی معلوم ہو سکے گا کہ آخر ان کتابوں میں ایسا کیا ہے اور مصنف کے قلم میں کیسی کشش رعنائی ہے جو فقط کتاب کی اشاعت یا وصولی پر ہی خوشی سے سرشار کر دیتی ہے۔ لہذا ان سب کتابوں کا سیٹ حاصل کیجیے، اور سرما کی جادو بھری شاموں میں مطالعہ کیجیے۔ ہیپی دسمبر، ہیپی ونٹر، ہیپی سٹدی سیزن!

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • ایک تبصرہ
  • خوشبو کی غزل | نازیہ غوث
  • جمالِ زیست
  • سنسکرت کی دو کتابیں اور چند جملے
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
ہم نامی کا مغالطہ
اگلی تحریر
صوفیوں کا استاد رنِد

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

گزرتے برس کی ایک اہم کتاب

دسمبر 22, 2025

عربی زبان کے عالمی دن کے حوالے سے چند باتیں

دسمبر 15, 2025

کیمیا گروں کا کیمیا گر

دسمبر 9, 2025

دمشق 680ء

جنوری 5, 2026

خوشبو کی غزل | نازیہ غوث

جنوری 8, 2026

قدیم شاعری پڑھتے ہوئے

جنوری 7, 2026

عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

جنوری 12, 2026

انجنہاری کی گھریا؛ ایک مطالعہ

دسمبر 8, 2025

الحمراء کا تازہ شمارہ شائع ہو گیا

دسمبر 13, 2025

ایک تبصرہ

دسمبر 8, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 238 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 215 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 211 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 204 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 180 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

    جنوری 11, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

انجنہاری کی گھریا؛ ایک مطالعہ (تیسری...

دسمبر 11, 2025

صوفیوں کا استاد رنِد

دسمبر 8, 2025

قدیم شاعری پڑھتے ہوئے

جنوری 7, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here