Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » لاہور میں بسنت کے رنگ

لاہور میں بسنت کے رنگ

شیراز حسن

کی طرف سے Ranaayi فروری 11, 2026
کی طرف سے Ranaayi فروری 11, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
35

لاہور میں جمعرات کی شب تھی اور گھڑی کی سوئیاں بارہ کے عدد کو چھو کر یوں آگے سرک رہی تھیں جیسے کسی پرانے قصے کا اگلا ورق پلٹا جا رہا ہو۔ میں گوالمنڈی کی ایک چھ منزلہ عمارت کی غلام گردش سے گزرتا ہوا ان تنگ و نیم تاریک سیڑھیوں پر قدم رکھ رہا تھا جن پر شاید گرد کی ایک تہہ نہیں بہت سی یادیں جمی ہوئی تھیں۔ میں انہیں جھاڑتا، سمیٹتا، سونگھتا ہوا اوپر بڑھ رہا تھا۔ دیواروں سے جھڑتی پلستر، مدھم بلب کی زرد روشنی اور باہر گلی سے اٹھتی آوازوں کا شور۔

پچیس برس بعد لاہور کو بسنت منانے کی اجازت ملی تھی۔ پچیس برس! ایک بچہ جوان ہوا، ایک نسل نے آنکھ کھولی اور جوانی کی دہلیز پار کر لی۔ میں دوستوں کے ہمراہ اس قدیم اور گنجان محلے کی چھت کی طرف جا رہا تھا، مگر سچ یہ ہے کہ میرا جسم حال میں اور روح ماضی میں تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے میں سیڑھیاں نہیں چڑھ رہا، وقت کی الٹی گنتی گن رہا ہوں۔

چھت پر قدم رکھا تو فضا میں ایک میلہ سا برپا تھا۔ فریحہ پرویز کا ’دل ہوا بو کاٹا‘ اور ابرار الحق کی بھنگڑا دھنیں ساؤنڈ سسٹم سے اچھل اچھل کر فضا میں بکھر رہی تھیں۔یہ گیت بھی 25سال پرانے تھے۔ روشنی کا مناسب انتظام تھا، مہمانوں کے لیے کرسیاں سجی تھی، جس کا دل چاہے جہاں بیٹھ جائے لیکن کسی کو بیٹھے کی فرصت کہاں، بچے، نوجوان، بزرگ سب جمع تھے۔ سب کی نظریں آسمان کی طرف تھیں، ہونٹوں پر مسکراہٹ اور ماحول میں ایک بناؤٹی سی سرشاری تھی۔ سب کچھ موجود تھا، روشنی، شور، موسیقی مگر دل نے دھیرے سے کہا’ بسنت صرف اسٹیج سجا دینے کا نام نہیں۔‘

پتنگیں ایسے اڑ رہی تھیں جیسے کسی کتاب سے نقل کر کے اڑائی جا رہی ہوں۔ تلاویں اور کنیاں ایسے ڈالی جا رہی تھیں جیسے کوئی اجنبی رسم ادا کی جا رہی ہو۔ ڈور لپیٹنے میں وہ رعونت اور وہ مہارت کہاں؟ گڈا کٹنے کے بعد ڈور کھینچنے میں وہ دیوانگی اور وہ بے ساختہ “بو کاٹا!” کی چیخیں کہاں؟ منظر مکمل تھا پھر بھی ادھورا۔ میں پچیس سال پیچھے چلا گیا۔ جب چھتیں میدان جنگ کا منظر پیش کرتی تھیں اور جیسے جنگوں کے کچھ اصول ہوتے ہیں ایسے ہی پتنگ بازی کے اصولوں کا خاص خیال رکھا جاتا تھا، پھر انگلیوں پر ڈور کے چیرےاگلے روز فخر سے دکھائے جاتے تھے۔

“یہ کیا کر رہے ہو؟”

مجھ سے رہا نہ گیا۔ ایک نوجوان گڈے کے ساتھ کچھ الجھا ہوا تھا۔ معلوم ہوا تناویں ڈال رہا ہے۔ ’ایدر لیا‘، میں نے ہنس کر اس کے ہاتھ سے گڈا لیا۔ ڈور کو انگلیوں سے سیدھا کیا، ناپا، تناویں یوں ڈالی جیسے یہی کام تو میں کرتا رہا تھا۔ یاد آیا ہم اس کام میں ایسے ماہر تھے کہ ادھر گڈا کٹا نہیں، ادھر نیا گڈا فضا میں! ہاتھ خود بخود چلتے تھے، دماغ سوچتا بھی نہ تھا۔

کسی کے ہاتھوں میں دستانے دیکھے تو بے اختیار اپنی انگلیوں پر نظر گئی۔ پچیس سال پہلے کے چیروں کے مدھم نشان اب بھی موجود تھے۔ یاد آیا بسنت کے بعد تین چار دن تک گرم روٹی توڑنا کتنا تکلیف دہ ہوتا تھا۔ ڈور کی رگڑ سے انگلیوں کی جلد اتر جاتی چاہے کتنی ہی پٹیاں باندھ لو۔ وہ جلن بھی کیسی میٹھی ہوا کرتی تھی۔ میں انگلیاں مسلنے لگا!

سوشل میڈیا پر لاہور کی بسنت کا شور برپا تھا۔ روشنیاں، رنگ، پتنگیں، بھنگڑے، موسیقی۔ سب کچھ وائرل۔ مگر اس کھیل کے وہ انلکھےاور اندکھے اصول اور ضابطے کہاں تھے؟ پتنگ بازی صرف ڈور کا کھیل نہیں تھا، یہ ایک مکمل گائیڈ بک تھی۔ کیا کرنا ہے، کیا نہیں کرنا، یہ سب چھتوں پر سیکھا جاتا تھا، اس کے لیے کوئی درسگاہ نہیں۔ اس نسل کو ابھی وقت لگے گا۔ اس سال مشق ہو گئی، اگلے برس کا انتظار رہے گا۔

گوالمنڈی میں بسنت کی ابتدا دیکھی، پھر اندرون شہر، رنگ محل اور لوہاری دروازے کی چھتوں پر اس کا اصل رنگ دیکھا۔ صرف پتنگ بازی ہی نہیں، ساتھ ساتھ جڑی ہوئی چھوٹی بڑی ہر چھت پر ایک میلے کا سماں تھا۔ خواتین، بچے، بوڑھے سبھی خوش تھے۔ کھانے بن رہے تھے، گڈے لوٹے جا رہے تھے! ایسا ہی ہوتا تھا، بہت کچھ بدل گیا لیکن لاہوری جشن منانا نہیں بھولے!

ایک موقع پر دوست سے کہا “گڈا تھوڑااتار لو، بہت تَس گیا ہے۔”یہ لفظ زبان پر آیا تو میں خود ٹھٹک گیا۔ کتنے برس بعد “تَس” یوں بے ساختہ جملے میں ڈھلا تھا۔ ڈور پر ’کڑکی‘ لگی تو ذہن نے پھر ماضی کی گلی میں جھانکا۔ پابندی نے صرف پتنگیں نہیں گرائیں، پتنگ بازوں کی زبان بھی ماند کر دی تھی۔ وہ الفاظ، وہ جملے، پیچا، ڈھیل، کھینچ، تاؤ، سدھ، گنجل، کچپ، چھنڈے، کمیرو، چمیڑو ، چیپی، کنی اور جانے کیا کیا۔ پیچا لڑایا تو پیچھے کھڑے دوست نے آواز کان میں پڑی ’“ڈھیل دیتے ہوئے اوپر اٹھانا!” گڈا مکمل ہوا کھینچ رہا تھا، بھاری ہو رہا تھا۔ ڈھیل دیتے ہوئے ہی اس کا اوپر اٹھانا بنتا تھا۔  مجھے حیرت ہوئی کہ میں بھولا نہیں تھا۔ انگلیوں کو سب یاد تھا۔ ذہن کو سب یاد تھا۔ میں کچھ بھی نہیں بھولا تھا، بس یادوں کی پٹاری باندھ کر الماری کے اوپر رکھ دی تھی۔ اب وہ پٹاری کھل چکی تھی۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • ہائی فائی’ زندگی کون گزار رہا ہے؟’
  • ٹالسٹائی کی قوم اور کتاب بینی
  • ہماری تفریحی سرگرمیاں
  • یہ کون ہے احمد شاہ؟
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
ہماری بسنت اور دنیا کے تہوار
اگلی تحریر
تراشیدم، پرستیدم، شکستم (افسانہ)

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

خوشیاں، کلچر اور احتیاط

فروری 9, 2026

امجد اسلام امجد سے ایک ملاقات

جنوری 4, 2026

ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب پہلو

دسمبر 29, 2025

احوال ایران؛ چند فکری زاویے

جنوری 9, 2026

خطرناک امراض اور سائنس

فروری 12, 2026

کیا ڈاکٹر ظالم ہوتے ہیں؟

دسمبر 26, 2025

آپ اے آئی سے ڈرتے ہیں یا نہیں

جنوری 5, 2026

ہائی فائی’ زندگی کون گزار رہا ہے؟’

فروری 20, 2026

آموں کی پیٹی سے آج تک

مارچ 1, 2026

فیس بک کی دنیا

فروری 9, 2026

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 280 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 265 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 255 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 227 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

اسلام، شاعری اور خطابت

دسمبر 19, 2025

میں اور سید کاشف رضا

فروری 26, 2026

پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی

فروری 22, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here