قانون اندھا ہوتا ہے۔ یہ بات کہی تو قانون کے حق میں جاتی ہے یعنی وہ یہ نہیں دیکھتا کہ کس ہاتھ پر کون کھڑا ہے بلکہ مکمل غیر جانبداری سے فیصلہ کرتا ہے۔ مگر بسا اوقات یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ قانون معذوری کے معنوں میں بھی اندھا ہے۔ اندھے کو کوئی ہاتھ پکڑ کر چلاتا ہے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ جرم قانون کے آگے آگے چلتا ہے اور قانون اس کا دامن— حریفانہ ہی سہی— تھام کر قدم اٹھاتا ہے۔ ریل گاڑی کا آخری ڈبا کتنی ہی تیزی سے دوڑے انجن کو ہاتھ نہیں لگا سکتا اسی طرح قانون عموماً جرائم کی چھوڑی ہوئی لکیر ہی پیٹتا رہ جاتا ہے
خیالِ زُلفِ دوتا میں نصیر پیٹا کر
نکل ہے سانپ گیا، اب لکیر پیٹا کر
اس عمل میں سانپ کی طرح جرم کبھی نہیں پٹتا بلکہ بیشتر معصوم لوگ قانون کی زد میں آتے ہیں۔
نائن الیون کے بعد دنیا بدل گئی۔ مگر کن معنوں میں؟ جا بجا سکینر نصب ہو گئے، تلاشیاں لی جانے لگیں۔ دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر امیگریشن میں بوڑھے زن و مرد جن میں کوئی دل کا مریض ہے کوئی دمے کا شکار ہے، قطاروں میں کھڑے ہیں اور باری آنے پر لوشن لگا لگا کر بار بار اپنے انگوٹھوں اور انگلیوں پر زور ڈال رہے ہیں مگر انگلیوں کے نشانات ہیں کہ عمر رفتہ کے ساتھ ہوا ہو چکے ہیں۔ ان لوگوں کی غالب اکثریت بالکل بے قصور ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے سانپ کی چھوڑی ہوئی لکیر پر کھڑی ہوتی ہے۔
اب سانپ کی سنئے۔ اسے کیا پڑی ہے کہ ایک ہی راہ سے بار بار گزرے۔ اس بار وہ کسی ہوائی سفر کے دوران کسی محلول سے پٹاخا چلا دیتا ہے۔ لیجئے اب کروڑوں انسانوں کے لیے ایک نیا عذاب شروع ہو گیا۔ آپ کوئی سیّال یا سیّال نما چیز دستی سامان میں جہاز پر نہیں لے جا سکتے۔ بچوں کا فیڈر، کوئی ضروری دوا، حتیٰ کہ ٹوتھ پیسٹ یا لپ سٹک بھی۔ اس قسم کی چیزیں اگر لے جانی ضروری ہوں تو پہلے ایک شفاف تھیلی میں لے کر قطار میں کھڑے ہوں کیونکہ اب سانپ کی بنائی ہوئی ایک اور لکیر پٹ رہی ہے۔
شاید قانون کا تخیل بانجھ ہے وہ ایسے تازہ تصورات پیدا کرنے سے قاصر ہے جو صحیح معنوں میں جرم کی ”پیش بندی“ کر سکیں۔ افکارِ تازہ کی دولت تو جرم کے حصے میں آئی ہے جو گویا قانون کو نئی سے نئی کمند میں باندھے اپنے پیچھے پیچھے لیے پھرتا ہے۔
قانون اپنے اندھے پن کی تلافی اپنے دانت تیز کرنے سے کرتا ہے۔ یہ دانت مشینی دندانوں کی طرح تیز اور ایک میں ایک پھنسے ہوئے ہوتے ہیں جن کی گرفت بظاہر بڑی سخت ہوتی ہے مگر جرائم کے لچکیلے وجود کے لیے اس میں ہمیشہ رخنے موجود رہتے ہیں۔
ایک میں ایک در آتے ہوئے قانون کے دانت
جرم جن میں سے گزر جائے، ہوا رُک جائے