فیس بک بہترین خیالات ، مشاہدات، تجربات، معنی خیز گفتگو، چاردانگ پھیلے مسائل سے آگاہی کا شاندار پلیٹ فارم ہے۔ یہاں بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ بالخصوص اس وقت جب تحریر کسی ایسے شخص کی جانب سے ہو، جو روشن خیالی ، دانش مندی اور خیال آفرینی کی شمع جلانے میں اپنا کردار ادا کررہا ہو۔
بہت سے ایسے لوگ جو شہرت یا ذاتی تشہیر کے لئے نہیں لکھتے بلکہ فرد کے شعور کو پختگی عطا کررہے ہوتے ہیں، وہ مجھے اپنی جانب کھینچتے ہیں۔بہت سے ایسے لوگ تھے جن کے لکھے لفظوں کو پہلے سے پڑھ رکھا تھا۔ اس پلیٹ فارم پر دیکھ کر مزید تقویت ملی۔ کچھ سے میں پہلے سے واقف نہیں تھا, کیونکہ وہ کسی سطح پر موجود تو تھے مگر اپنی کوتاہی کے سبب میں اُنہیں جانتا نہیں تھا، فیس بک سے اُن تک رسائی ہوئی۔ جب پڑھا تو بہت اچھا لگا۔نئے در وا ہوئے۔
فیس بک میں شاید پندرہ یا سولہ برس سے استعمال کررہا ہوں۔ اتنے عرصے میں میرے دوستوں کی تعداد بس ۵۶۵ تک ہی پہنچی ہے، اور کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ یہ بھی بہت زیادہ اور غیر ضروری ہے۔کیونکہ فیس بک جہاں ہمیں پانچ ہزار دوست بنانے کی اجازت دیتا ہے، وہیں ہمارے خیالات جو کبھی کبھی بہت اہم نوعیت کے ہوتے ہیں، کو دوستوں تک جانے ہی نہیں دیتا۔ یوں ہمارے دائرے اور پھیلاؤ کو محدود کرتا ہے۔ ان ۵۶۵ میں سے بہت سے ایسے ہوں گے جنہیں میں کسی نا کسی وجہ سے بلاک کرچکا ہوں، اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ بہت سوں نے مجھے بھی بلاک کیا ہوگا۔ظاہر ہے یہ دو طرفہ عمل ہے اور ہم سب کو یہ حق حاصل ہے کہ ہم اپنے دوستوں کی فہرست اپنی مرضی سے بنائیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ میں دوستوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرتا ہوں۔ میں جنہیں خود فرینڈ ریکویسٹ بھیجتا ہوں تو ان کے فکری رجحانات اور بامقصد پوسٹوں کے پیش نظر ہوتا ہے، اور جن لوگوں کی ریکویسٹ خود قبول کرتا ہوں تب بھی ان کی وال پر جاکر اُن کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں، ان کی دلچسپیوں سے آگاہی حاصل کرتا ہوں تاکہ میں یہ جان سکوں کہ وہ مجھے کیا دے سکتے ہیں ، میرے علم اور معلومات میں کتنا اضافہ کرسکتے ہیں۔اس میں مختلف شعبوں کے مختلف لوگ ہوسکتے ہیں۔
فنون لطیفہ، سائنس، ادب، فلم، موسیقی، سیاحت، اسکالر،طالب علم، صحافت، سیاست، فن کار، ہنر مند، کاریگر، مزدور، جوان ، بوڑھے، استاد، سب۔ بس ایک شرط کے ساتھ کہ آپ کے پاس ایسا کچھ بامقصد اور بامعنی ہونا چاہیے جو مجھے پہلے سے بہتر انسان بنا سکے۔
جنہوں نے اپنی ٹائم لائن کو چھپا رکھا ہوتا ہے تو مجھے بے حد کوفت ہوتی ہے ، پھر میں انہیں منظر سے ہٹا دیتا ہوں۔ مجھے ایسے لوگوں سے دوستی کرنے کا کوئی شوق نہیں۔
مجھے ایسے لوگوں میں بھی کوئی دلچسپی نہیں جو کسی فرقے، مسلک، لسانیت، قومیت، عقیدہ، تفرقہ کا پرچار کرتے رہتے ہیں یا اس سے محظوظ ہوتے ہیں۔
مجھے ان میں بھی کوئی دلچسپی نہیں جو اپنی عاقبت سنوارنے اور اجر و ثواب میں اضافے کے لئے فیس بک کو ذریعہ نجات بنائے رکھتے ہیں۔
میں اور میرے دوست نظریاتی، مذہبی، سیاسی یا ثقافتی اعتبار سے الگ ہوسکتے ہیں کیونکہ ہم سب زندگی میں شعور کے تنوع کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ہمارا سماجی پس منظر الگ الگ ہے، ہماری تعلیم و تربیت میں فرق ہے۔ ہم زندگی کے مختلف تجربات و حوادث سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہیں۔ مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے درمیان کچھ قدریں ایسی ضرور مشترک ہونا چاہئیں جو ہمیں فکری اور انسانیت کی سطح پر ایک دوسرے کے قریب لاتی ہوں اور ہمیں باہمی تعلق پر مجبور کریں۔ اس کی عدم موجودگی ہمیں ایک دوسرے کے قریب لانے کے بجائے دور کرے گی، اور مجھے یہ کسی بھی طرح گوارا نہیں۔
میں ان تمام دوست، احباب اور رشتے دار جن کے ساتھ میں نے اپنی زندگی گزاری ہے، ان سے اب دور آبسا ہوں۔ ایسے میں سوشل پلیٹ فارم مثلا”واٹس اپ، یو ٹیوب اور بالخصوص فیس بک نے زندگی، زبان اور ادب سے جوڑے رکھنے میں مجھے بہت مدد پہنچائی ہے۔ معنویت بھرے اس کتاب چہرہ پر موجود اتنے بہترین انسان دوست اور عمدہ نابغوں کی سنگت نے زندگی کو قابل برداشت بنادیا ہے جن کا شکریہ مجھ پر واجب ہے۔