Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » سوشل میڈیا کے دور میں مطالعہ کیوں کیا جاۓ؟

سوشل میڈیا کے دور میں مطالعہ کیوں کیا جاۓ؟

عرفان جاوید

کی طرف سے Ranaayi دسمبر 13, 2025
کی طرف سے Ranaayi دسمبر 13, 2025 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
137

 

آپ نے رواں برس سیکڑوں، ہزاروں سوشل میڈیا پوسٹس اور ریلز دیکھی ہوں گی۔ ان میں سے آپ کو کتنی یاد ہیں ؟ البتہ جو آخری کتاب آپ نے پڑھی اس کا مواد یا تاثر آپ کے ذہن پر کس درجہ موجود اور گہرا ہے؟ امکان ہے کہ چند ایک ہی سوشل میڈیا ریلز آپ کے ذہن میں موجود ہوں گی،البتہ کتاب کا تاثر دیرپا ہے۔ جو کتاب آپ پڑھتے ہیں وہ آپ کے وجود کا حصہ بن جاتی ہے، بھلے آپ کو وہ مکمل یاد نہ رہے، جیسے صحت بخش غذا کا اثر بھلے فوری نہ ہو مگر وہ آہستہ آہستہ آپ کی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ سوشل میڈیا عموماْ وقتی توجہ ہی حاصل کرتا ہے، یعنی یہ یہ مختصر سفر کا ہم راہی ہے، کتاب زندگی بھر کی رفیق ہے۔مطالعے کا فوری اثر تو کیف ولطف ہو سکتا ہے، اس کا دیرپا اثر تفکر اورسوچ کی عادت قائم ہونا ہے۔ ایک حکایت پیش خدمت ہے۔

“استاد! میں نے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں… لیکن ان میں سے زیادہ تر بھول گیا ہوں۔ تو پھر پڑھنے کا فائدہ ہی کیا ہے؟”

یہ ایک تجسس بھری شاگرد کا سوال تھا اپنے مرشد سے۔

استاد نے کوئی جواب نہ دیا۔ بس خاموشی سے اُس کی طرف دیکھا۔

چند دن بعد دونوں دریا کے کنارے بیٹھے تھے۔ اچانک بوڑھے استاد نے کہا:

“مجھے پیاس لگی ہے۔ ذرا پانی لا دو… مگر اُس پرانی چھلنی میں جو زمین پر پڑی ہے۔”

شاگرد حیران رہ گیا۔ یہ کیسا احمقانہ حکم تھا؟ چھلنی میں تو سوراخ ہی سوراخ ہیں، اُس میں پانی کیسے لایا جا سکتا ہے؟

مگر وہ بحث کرنے کی ہمت نہ کر سکا۔

اُس نے چھلنی اٹھائی اور کوشش کی۔

ایک بار، دو بار، بار بار…

وہ تیز دوڑا، زاویہ بدلا، سوراخ انگلیوں سے بند کرنے کی کوشش کی۔ مگر کچھ نہ ہوا۔

ایک بوند بھی نہ رک سکی۔

تھک ہار کر اُس نے چھلنی استاد کے قدموں میں رکھ دی اور کہا:

“معاف کیجیے، میں ناکام ہو گیا۔ یہ تو ممکن ہی نہیں تھا۔”

استاد نے نرمی سے مسکرا کر کہا:

“تم ناکام نہیں ہوئے۔ چھلنی کو دیکھو۔”

شاگرد نے نیچے دیکھا… اور چونک گیا۔

وہی پرانی، میلی، گرد آلود چھلنی اب چمک رہی تھی۔

پانی جو ایک لمحہ بھی نہیں ٹھہرا، اُس نے اُسے بار بار دھو کر صاف کر دیا تھا۔

 

استاد نے کہا:

“پڑھنا بھی یہی کرتا ہے۔

فرق نہیں پڑتا کہ تم ہر بات یاد رکھتے ہو یا نہیں،

علم اگر تمہارے ذہن میں رکتا نہیں تو بھی —

وہ تمہیں دھوتا رہتا ہے۔

پڑھتے وقت تمہارا ذہن تازہ ہوتا ہے،

روح نیا جنم لیتی ہے،

خیالات میں تازہ ہوا بھر جاتی ہے،

اور چاہے تمہیں فوراً احساس نہ ہو —

تم اندر سے بدل رہے ہوتے ہو۔”

یہی مطالعے کا اصل مقصد ہے —

یادداشت کو بھرنا نہیں،

بلکہ روح کو صاف کر کے چمکاتا ہے۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • ہم اور ہماری سوچیں
  • لاہور میں بسنت کے رنگ
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
علامہ اقبال اور خوشحال خان خٹک کے موضوع پر لیکچر
اگلی تحریر
الحمراء کا تازہ شمارہ شائع ہو گیا

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

مارچ 1, 2026

فیس بک کی دنیا

فروری 9, 2026

آپ اے آئی سے ڈرتے ہیں یا نہیں

جنوری 5, 2026

فارمیسی میں منہ چڑاتی دو دوائیں

فروری 7, 2026

دو اہم افسانوں کا تذکرہ

جنوری 2, 2026

اکیسویں صدی کے پہلے 25 برس

دسمبر 22, 2025

پاکستان سے ڈاکٹروں کی ہجرت کا مطلب کیا ہے؟

فروری 22, 2026

آموں کی پیٹی سے آج تک

مارچ 1, 2026

پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی

فروری 22, 2026

ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب پہلو

دسمبر 29, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 280 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 265 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 255 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 227 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

پاکستان سے ڈاکٹروں کی ہجرت کا...

فروری 22, 2026

خوشیاں، کلچر اور احتیاط

فروری 9, 2026

رہنما، جو غداروں کے باعث مارے...

مارچ 1, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here