Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » زرد قیدی؛ نادیدہ تباہیوں کی ایک داستان

زرد قیدی؛ نادیدہ تباہیوں کی ایک داستان

غلام اصغر خان

کی طرف سے Ranaayi جنوری 16, 2026
کی طرف سے Ranaayi جنوری 16, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
54

مہا بھارت میں درونا اچاریہ کے بیٹے اشواتھما نے نرائن استر (اساطیری ایٹم بم) استعمال کیا تو کرشن نے اسے شیطان بنا کر ابدی زندگی کا شراپ دیا تھا۔ اس کے بعد سے اشواتھما زندہ ہے اور اس کی شیطانیت بھی، جو ایٹم بم کی صورت برصغیر باسیوں کے سروں پر بالخصوص منڈلا رہی ہے۔ صفدر زیدی اس شیطانی منبع کو تلاش کرتے ان یورینیم کی کانوں تک قاری کو لے جاتے ہیں، جن کا زہر کان کنوں کے پھیپھڑوں میں دھول کی شکل میں، اور خوف کی صورت حساس ذہنوں میں اتر کر ہر دم ایک نئی قسم کا ’نرائن استر‘ بنا رہا ہے۔ ایٹم بم والا برصغیر اشواتھما کے بھوت سے نجات پانے کے لیے ’شانتی منتر‘ ڈھونڈ رہا ہے جس کا ایک سُر صفدر زیدی نے ’بھاگ بھری‘ کی صورت پھونکا اور دوسرا ’زرد قیدی‘ کی شکل میں۔ یہ دونوں ناول اصل میں اس اجتماعی ظلم کے خلاف قلمی مزاحمت ہیں۔ جدید اشواتھما سے بچاؤ کا راستہ صرف جغرافیائی فرار میں ہی نہیں، بل کہ اس ظلم کی پہچان اور اس کے خلاف آواز بلند کرنے میں ہے، خواہ وہ ظلم ریاستی سطح کا مقامی ہو یا ماحولیاتی تباہی کا عالمی۔ جس طرح اشواتھما کو اس کے گناہ کی سزا کے طور پر ہمیشہ کے لیے زندہ رہنا پڑا، اسی طرح ایٹم بم کی شیطانیت بھی ہمارے پانیوں، ہوا اور زمین میں سرایت کر گئی ہے۔ یورینیم کی کان سے نکلنے والا زہر اور تاب کاری کا کچرا ہمارے ماحول کا نیا ’اشواتھما‘ ہے، جسے ہم نے خود جنم دیا ہے اور جو نسلوں تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ نیلا گولا اب آدم ساختہ جہنم ہے جس پر ایلینز بھی حیران ہیں کہ انسان نے اپنے گھر کو تباہ کرنے کارن ایک ایسا اشواتھما کیوں تخلیق کر لیا ہے جو کسی بیرونی دشمن کا نہیں، بل کہ خود اس کی اپنی عقل کا پیدا کردہ ہے۔ صفدر زیدی کا ’زرد قیدی‘ دراصل ایٹمی خوف، ماحولیاتی تباہی اور کائناتی تنبیہ کی مثلث سے مرکب اس جدید اشواتھما کا وہ ظہور ہے جس کی کاٹ کی کوشش اس ’شانتی منتر‘ میں ہے جس کا جوہر ماحولیاتی اور اخلاقی بقا کی بازیافت میں پوشیدہ ہے۔

صفدر زیدی کے یہاں ایٹم بم محض ایک ہتھیار نہیں بل کہ انسانی اجتماعی ضمیر کے زوال، اخلاقی تباہی اور کرۂ ارض کی ماحولیاتی بربادی کی علامت ہے۔ انھوں نے یورینیم کی کانوں میں کام کرنے والے ان مزدوروں کے ذریعے زمین کے دکھ اور انسان کے لالچ کی تہہ تک اترنے کی کوشش کی ہے جو موت کی آغوش میں اترتے ہوئے بھی انسان کے تحفظ کا خواب دیکھتے ہیں۔ ’زرد قیدی‘ کے یہ مزدور زمین کے فطری رزق کو زہر میں بدلنے والے اس نظام کے گواہ ہیں جو ترقی کے نام پر تباہی لکھ رہا ہے۔ یورینیم کی کانوں کے اندھیرے، مزدوروں کے پسینے اور ایٹمی توانائی کے مصنوعی نور کے درمیان صفدر زیدی نے ایک ایسا بیانیہ تخلیق کیا ہے جو بہ یک وقت تہذیبی نوحہ بھی ہے اور انسانی شعور کے تجدیدی امکان کا اشارہ بھی۔ اس ناول میں ایلینز کا ظہور، محض تخیلاتی حربہ نہیں بل کہ زمین کے باسیوں پر ایک خارجی نظر ہے یا وہ تمثیلاً انسانیت کا اجتماعی ضمیر ہیں جو کرۂ ارض پر ہونے والے ظلم پر حیران ہیں کہ انسان اور اس کا یہ گھر دونوں ایک دوسرے سے کیسے اجنبی ہو چکے ہیں۔ انسان جس ترقی پر نازاں ہیں، وہ دراصل بربادی ہے، اور ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب خود انسان کے پاس نہیں۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • جہان بیدل ؛ چند تاثرات
  • عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا/ عاصم کلیار
  • امین معلوف؛ ایک عرب آواز
  • اردو شاعری میں صوتی اور صورتی قوافی کا مسئلہ
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
ٹالسٹائی کی قوم اور کتاب بینی
اگلی تحریر
مزاح، لطائف اور احساس مسرت

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

کسی اور زمانے کی لائبریری

فروری 16, 2026

امین معلوف؛ ایک عرب آواز

جنوری 15, 2026

تیرے بعد تیری بتیاں

دسمبر 25, 2025

ہم نامی کا مغالطہ

دسمبر 8, 2025

سفر و حضر کیسی کتاب ہے؟

جنوری 1, 2026

اردو شاعری میں صوتی اور صورتی قوافی کا مسئلہ

جنوری 15, 2026

‘میرا داغستان جدید’ پڑھتے ہوئے

دسمبر 26, 2025

برنے کی کہانی ، اسید سلیم شیخ کی زبانی

جنوری 9, 2026

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا/ عاصم کلیار

جنوری 8, 2026

جہان بیدل ؛ چند تاثرات

دسمبر 29, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 280 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 265 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 255 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 227 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا...

جنوری 8, 2026

برنے کی کہانی ، اسید سلیم...

جنوری 9, 2026

‘میرا داغستان جدید’ پڑھتے ہوئے

دسمبر 26, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here