مہا بھارت میں درونا اچاریہ کے بیٹے اشواتھما نے نرائن استر (اساطیری ایٹم بم) استعمال کیا تو کرشن نے اسے شیطان بنا کر ابدی زندگی کا شراپ دیا تھا۔ اس کے بعد سے اشواتھما زندہ ہے اور اس کی شیطانیت بھی، جو ایٹم بم کی صورت برصغیر باسیوں کے سروں پر بالخصوص منڈلا رہی ہے۔ صفدر زیدی اس شیطانی منبع کو تلاش کرتے ان یورینیم کی کانوں تک قاری کو لے جاتے ہیں، جن کا زہر کان کنوں کے پھیپھڑوں میں دھول کی شکل میں، اور خوف کی صورت حساس ذہنوں میں اتر کر ہر دم ایک نئی قسم کا ’نرائن استر‘ بنا رہا ہے۔ ایٹم بم والا برصغیر اشواتھما کے بھوت سے نجات پانے کے لیے ’شانتی منتر‘ ڈھونڈ رہا ہے جس کا ایک سُر صفدر زیدی نے ’بھاگ بھری‘ کی صورت پھونکا اور دوسرا ’زرد قیدی‘ کی شکل میں۔ یہ دونوں ناول اصل میں اس اجتماعی ظلم کے خلاف قلمی مزاحمت ہیں۔ جدید اشواتھما سے بچاؤ کا راستہ صرف جغرافیائی فرار میں ہی نہیں، بل کہ اس ظلم کی پہچان اور اس کے خلاف آواز بلند کرنے میں ہے، خواہ وہ ظلم ریاستی سطح کا مقامی ہو یا ماحولیاتی تباہی کا عالمی۔ جس طرح اشواتھما کو اس کے گناہ کی سزا کے طور پر ہمیشہ کے لیے زندہ رہنا پڑا، اسی طرح ایٹم بم کی شیطانیت بھی ہمارے پانیوں، ہوا اور زمین میں سرایت کر گئی ہے۔ یورینیم کی کان سے نکلنے والا زہر اور تاب کاری کا کچرا ہمارے ماحول کا نیا ’اشواتھما‘ ہے، جسے ہم نے خود جنم دیا ہے اور جو نسلوں تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ نیلا گولا اب آدم ساختہ جہنم ہے جس پر ایلینز بھی حیران ہیں کہ انسان نے اپنے گھر کو تباہ کرنے کارن ایک ایسا اشواتھما کیوں تخلیق کر لیا ہے جو کسی بیرونی دشمن کا نہیں، بل کہ خود اس کی اپنی عقل کا پیدا کردہ ہے۔ صفدر زیدی کا ’زرد قیدی‘ دراصل ایٹمی خوف، ماحولیاتی تباہی اور کائناتی تنبیہ کی مثلث سے مرکب اس جدید اشواتھما کا وہ ظہور ہے جس کی کاٹ کی کوشش اس ’شانتی منتر‘ میں ہے جس کا جوہر ماحولیاتی اور اخلاقی بقا کی بازیافت میں پوشیدہ ہے۔
صفدر زیدی کے یہاں ایٹم بم محض ایک ہتھیار نہیں بل کہ انسانی اجتماعی ضمیر کے زوال، اخلاقی تباہی اور کرۂ ارض کی ماحولیاتی بربادی کی علامت ہے۔ انھوں نے یورینیم کی کانوں میں کام کرنے والے ان مزدوروں کے ذریعے زمین کے دکھ اور انسان کے لالچ کی تہہ تک اترنے کی کوشش کی ہے جو موت کی آغوش میں اترتے ہوئے بھی انسان کے تحفظ کا خواب دیکھتے ہیں۔ ’زرد قیدی‘ کے یہ مزدور زمین کے فطری رزق کو زہر میں بدلنے والے اس نظام کے گواہ ہیں جو ترقی کے نام پر تباہی لکھ رہا ہے۔ یورینیم کی کانوں کے اندھیرے، مزدوروں کے پسینے اور ایٹمی توانائی کے مصنوعی نور کے درمیان صفدر زیدی نے ایک ایسا بیانیہ تخلیق کیا ہے جو بہ یک وقت تہذیبی نوحہ بھی ہے اور انسانی شعور کے تجدیدی امکان کا اشارہ بھی۔ اس ناول میں ایلینز کا ظہور، محض تخیلاتی حربہ نہیں بل کہ زمین کے باسیوں پر ایک خارجی نظر ہے یا وہ تمثیلاً انسانیت کا اجتماعی ضمیر ہیں جو کرۂ ارض پر ہونے والے ظلم پر حیران ہیں کہ انسان اور اس کا یہ گھر دونوں ایک دوسرے سے کیسے اجنبی ہو چکے ہیں۔ انسان جس ترقی پر نازاں ہیں، وہ دراصل بربادی ہے، اور ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب خود انسان کے پاس نہیں۔