رومی تاریخ میں Julius Caesar کی مثال سب سے مشہور ہے۔ انہوں نے اصلاحات نافذ کیں، فوجی فتوحات کے ذریعے ریاست کو وسعت دی اور خود کو عوامی مفاد کا علمبردار کہا، مگر سینیٹ کے ارکان — جو اسی ریاست کے نمائندہ تھے — نے ان کی مقبولیت کو خطرہ سمجھا اور 44 قبل مسیح میں سینیٹ ہی کے اندر قتل کر دیا۔ قاتل خود کو جمہوریت کا محافظ کہتے تھے۔
انقلابِ فرانس میں Maximilien Robespierre نے مساوات اور عوامی اقتدار کے نام پر قیادت کی، مگر جب “عہدِ دہشت” شدت اختیار کر گیا تو انہی انقلابیوں نے انہیں گرفتار کر کے گلوٹین کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ انقلاب نے اپنے ہی قائد کو نگل لیا۔
افریقہ میں Thomas Sankara نے بدعنوانی کے خلاف جنگ اور سماجی اصلاحات کی مہم چلائی، مگر فوجی ساتھیوں کے اختلافات نے بغاوت کو جنم دیا اور وہ اپنے ہی ملک میں قتل کر دیے گئے۔
لیبیا میں Muammar Gaddafi دہائیوں تک خود کو عوامی انقلاب کا نمائندہ کہتے رہے، مگر 2011ء کی شورش میں داخلی حمایت بکھر گئی اور وہ مقامی باغیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔آج لیبیا اپنے لیڈر کو خود قتل کرنے پر شرمندہ ہے۔
امریکہ کی جنگِ آزادی میں Benedict Arnold (اگرچہ وہ براہِ راست عوام کے ہاتھوں قتل نہیں ہوئے بلکہ غدار قرار پائے) ایک علامتی مثال ہیں کہ کس طرح ایک جنگی ہیرو حالات کے جبر کا شکار ہوا۔اگرچہ وہ قتل نہ ہوئے، مگر اپنی ہی قوم میں مکمل تنہائی کا شکار ہوئے۔
لاطینی امریکہ میں Francisco I. Madero نے میکسیکو میں آمریت کے خلاف جدوجہد کی اور جمہوریت کا نعرہ بلند کیا، مگر اقتدار سنبھالنے کے بعد سیاسی اور عسکری بغاوت کے نتیجے میں انہیں گرفتار کر کے قتل کر دیا گیا۔ جن قوتوں نے انقلاب کا ساتھ دیا تھا، وہی ان کے خلاف ہو گئیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں Ali Abdullah Saleh نے برسوں تک یمن کی سیاست میں مرکزی کردار ادا کیا اور خود کو قومی اتحاد کا ضامن کہا، مگر خانہ جنگی کے دوران سابق اتحادیوں سے اختلافات بڑھے اور 2017ء میں انہیں ان ہی کے اپنوں نے غافل پا کر قتل کر دیا۔
ایک قوم کے لیے جان ہتھیلی پر رکھنے سے پہلے اس قوم کا کردار جانچ لینا ضروری ہے کہ کیا وہ اس قابل ہے کہ اس کے لیے جان بہ کف ہوا جائے۔