Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

عرفان جاوید

کی طرف سے Ranaayi مارچ 1, 2026
کی طرف سے Ranaayi مارچ 1, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
9

رومی تاریخ میں Julius Caesar کی مثال سب سے مشہور ہے۔ انہوں نے اصلاحات نافذ کیں، فوجی فتوحات کے ذریعے ریاست کو وسعت دی اور خود کو عوامی مفاد کا علمبردار کہا، مگر سینیٹ کے ارکان — جو اسی ریاست کے نمائندہ تھے — نے ان کی مقبولیت کو خطرہ سمجھا اور 44 قبل مسیح میں سینیٹ ہی کے اندر قتل کر دیا۔ قاتل خود کو جمہوریت کا محافظ کہتے تھے۔

انقلابِ فرانس میں Maximilien Robespierre نے مساوات اور عوامی اقتدار کے نام پر قیادت کی، مگر جب “عہدِ دہشت” شدت اختیار کر گیا تو انہی انقلابیوں نے انہیں گرفتار کر کے گلوٹین کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ انقلاب نے اپنے ہی قائد کو نگل لیا۔

افریقہ میں Thomas Sankara نے بدعنوانی کے خلاف جنگ اور سماجی اصلاحات کی مہم چلائی، مگر فوجی ساتھیوں کے اختلافات نے بغاوت کو جنم دیا اور وہ اپنے ہی ملک میں قتل کر دیے گئے۔

لیبیا میں Muammar Gaddafi دہائیوں تک خود کو عوامی انقلاب کا نمائندہ کہتے رہے، مگر 2011ء کی شورش میں داخلی حمایت بکھر گئی اور وہ مقامی باغیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔آج لیبیا اپنے لیڈر کو خود قتل کرنے پر شرمندہ ہے۔

امریکہ کی جنگِ آزادی میں Benedict Arnold (اگرچہ وہ براہِ راست عوام کے ہاتھوں قتل نہیں ہوئے بلکہ غدار قرار پائے) ایک علامتی مثال ہیں کہ کس طرح ایک جنگی ہیرو حالات کے جبر کا شکار ہوا۔اگرچہ وہ قتل نہ ہوئے، مگر اپنی ہی قوم میں مکمل تنہائی کا شکار ہوئے۔

لاطینی امریکہ میں Francisco I. Madero نے میکسیکو میں آمریت کے خلاف جدوجہد کی اور جمہوریت کا نعرہ بلند کیا، مگر اقتدار سنبھالنے کے بعد سیاسی اور عسکری بغاوت کے نتیجے میں انہیں گرفتار کر کے قتل کر دیا گیا۔ جن قوتوں نے انقلاب کا ساتھ دیا تھا، وہی ان کے خلاف ہو گئیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں Ali Abdullah Saleh نے برسوں تک یمن کی سیاست میں مرکزی کردار ادا کیا اور خود کو قومی اتحاد کا ضامن کہا، مگر خانہ جنگی کے دوران سابق اتحادیوں سے اختلافات بڑھے اور 2017ء میں انہیں ان ہی کے اپنوں نے غافل پا کر قتل کر دیا۔

ایک قوم کے لیے جان ہتھیلی پر رکھنے سے پہلے اس قوم کا کردار جانچ لینا ضروری ہے کہ کیا وہ اس قابل ہے کہ اس کے لیے جان بہ کف ہوا جائے۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • خطرناک امراض اور سائنس
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے
  • اے آئی کی کلہاڑی
  • اخلاقیات کی دھنک
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
اگلی تحریر
آموں کی پیٹی سے آج تک

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

ایک کیس کی روداد (سیکھنے کے چند پہلو)

فروری 15, 2026

اے آئی کی کلہاڑی

دسمبر 31, 2025

آموں کی پیٹی سے آج تک

مارچ 1, 2026

اکیسویں صدی میں اتارے ہوئے لوگ

جنوری 1, 2026

میرا کراچی

دسمبر 24, 2025

چند ادبی و سماجی مسائل

دسمبر 28, 2025

ہم اور ہماری سوچیں

دسمبر 31, 2025

خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

مارچ 1, 2026

ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب پہلو

دسمبر 29, 2025

میں اور سید کاشف رضا

فروری 26, 2026

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 278 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 263 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 251 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 225 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

کیا عقلی دلیل ممنوع ہے ؟

دسمبر 23, 2025

آموں کی پیٹی سے آج تک

مارچ 1, 2026

کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

فروری 26, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here