مولانا جلال الدین رُومی
مرده بودم، زنده شدم
گریه بودم، خنده شدم…
این همه از عشق است
چون عشق آمد
زندگی فانیام
جاودانه شد…
عشق گفت:
تو هنوز دیوانه نیستی!
دیوانه شدم…
آنقدر که در زنجیر افتادم.
عشق گفت:
تو مست نیستی!
مست شدم…
سرشار از سبکی جان.
عشق گفت:
تو پر از شک و خیالی!
سادگی پیشه کردم…
و از همه گریختم.
عشق گفت:
تو شمعی
و همگان را گرد خود جمع کردهای.
دود شدم…
دیگر نه نوری، نه محوری.
عشق گفت:
تو رهبر و سروری.
سروری را وانهادم…
بندهٔ آرزوی عشق شدم.
عشق گفت:
تو بالهای خود را داری،
پر بیشتری نخواهی یافت!
دل من شکافت…
پر از نور شد…
سرشار از زندگی.
اکنون آسمان شکر میکند
که بهواسطهٔ عشق
نوربخش دیگران شدهام.
ترجمہ
(زیب اذکار حسین)
جو مردہ تھا تو زندہ ہو گیا میں
جو آنسُو تھا، ہنسی کا ہو گیا میں
کہاں آنسو کہاں یہ قہقہہ تھا
یہ سارا عشق ہی کا معجزہ تھا
وہ آیا تو فنا میں ابد پایا
وہ بے ربطی تھی، میں نے ربط پایا
تھی بے ضبطی تو میں نے ضبط پایا
مگر وہ عشق تو نامطمئن تھا
اسے ویرانے میں کھٹکا چمن تھا
ہُوا گویا تو میں یہ بات سمجھا
عیاں مجھ پر نہ تھا جو راز، سمجھا
بتایا عشق نے میں ہوش میں تھا
یہ دیوانہ ابھی تک جوش میں تھا
بہت ہشیار تھا، بے کار تھا میں
خود اپنے واسطے اک خار تھا میں
رہا بے گانگی میں جِس طرح میں
ڈھلا دیوانگی میں اس طرح میں
توانائی ابھی تھی ایڑیوں میں
جبھی جکڑا گیا میں بیڑیوں میں
کہا پھر عشق نے”تم مست کب ہو”
"ارے تم ماوراۓ ہست کب ہو”
مجھے مے نوشی نے رستہ دکھایا
نہالِِ اب بے خودی میں خود کو پایا
پھر اٍک الزام چالاکی کا آیا
کہا یہ عشق نے
تشکیک میں ہوں
تخیل کی ابھی تک بِھِیک میں ہوں
میں پھر بے سُدھ ہُوا، سادہ ہُوا میں
میں خود سے خوف سا کھانے لگا تھا
میں اپنے آپ سے جانے لگا تھا
کہا یہ عشق نے "شمع ہو تم تو”
"تمہیں لوگوں نے کیوں گھیرا ہُوا ہے”
دھوئیں کی طرح میں بکھرا فضا میں
کسی کا بھی میں اب مرکز نہیں تھا
کہا پھر عشق نے، میں رہنما ہوں؟
نہیں میں عام سا؟
سردار سا ہوں؟
میں بندہ آرزو کا ہوں ابھی تک؟
سُنا جب یہ تو۔سُناٹے میں آیا
میں اعزازات سے اب دست کَش تھا
ہُوا بر گشتہ ہر اعزاز سے میں
میں وقفِ خِدمتِ اُلفت ہوا تھا
محبت ہی مرا سودا ہُوا تھا
” تمہارے پاس تو اپنے ہی "پر” ہیں”
"تمہیں پرواز کو میں کُچھ نہ دُوں گا”
کہا یہ عشق نے تو شق ہُوا دِل
لگا یہ نُور سے اب بھر گیا ہے
تھا وہ سرشاری کا عالم کہ جیسے
یہ دل سرشاری ہی کا گھر ہُوا تھا
فلک تک ہو گیا تھا منپعِ شُکر
بدولت عشق کے میں سُرخرو تھا
مرا دل روشنی سے بھر گیا تھا
ملی تھی نور کی دولت مجھے وہ
مُقرًر بانٹنے پر ہو گیا تھا