39
"تنہائی تمہاری اور کائنات اندر کی”
تم اکیلے نہیں ہو
یاد رکھو
تم کسی طور پر نہیں تنہا
اپنے اندر تو جھانک کر دیکھو
ہے نہاں پوری کائنات وہاں
سانس وہ لے رہی ہے
غور کرو
وہ جو دُنیا تمہارے اندر ہے
منجمد آب ہاۓ ذہنِ رسا
ہی سے اُبھرے گا
چاند اب دِل کا
جب اُبھرتا ہے دل کا چاند وہاں
منعکس روشنی وہ کرتا ہے
روشنی وہ جو اُس کی اپنی ہے
دامنِ صبر تھام کر رکھو
رات سے جب گلے ملے گا چاند
روشن ہو جاۓ گی یہ رات بھی پِھر
اُلفت ہوتی ہے گہری خامشی میں
اور تنہائی میں تمہاری روح
ڈھلتی ہے ایک کائنات میں خود
راہ ذرا پانیوں کو ملنے دو
چاند، تارے تمہاری "میں” ہوں گے
عکس ہوں گے تمہاری ذات کا وہ
حصہ ہوں گے تمہارے "ہونے” کا