مولانا رومی کو ترکی میں صرف مولانا کہا جاتا ہے۔ آج قونیہ میں ان کے مزار کی زیارت کی۔ مزار کے پہلو میں ترکوں نے پیر رومی کے مرید ہندی علامہ اقبال کے لیے بھی ایک قبر بنا دی ہے۔ ساتھ جو کتبہ ہے اس پر اردو میں بھی عبارت درج ہے۔ ترک اب مولانا کو ترجمے میں پڑھتے ہیں۔ ایرانیوں کے برعکس ترکوں میں شاعری اور کتابوں کا ذوق یوں بھی کم ہے۔
قونیہ میں خواتین کی اکثریت سر پر اسکارف لیتی ہے۔ کراچی کی طرح یہاں بھی الہ دین پارک ہے۔ لیکن الہ دین پہاڑی پر قونیہ کا پارک شہر کا مرکز ہے جہاں ہر شام اس چھوٹے سے شہر کے مکینوں میں سے سیکڑوں آتے ہیں۔ اسکارف والی لڑکیاں بھی اپنے محبوبوں سے معانقہ کرتی نظر آتی ہیں۔ یہاں تتلیوں کا ایک باغ بھی ہے۔ ہم نے بھی دیکھا اور بچوں کو بہت پسند آیا
قونیہ میں شمس تبریز کا مزار
یہ مزار مولانا کے مزار سے ڈیڑھ ایک کلومیٹر دور ہے۔ آج وہاں بھی فاتحہ پڑھی۔ ملتان میں جن شاہ شمس کا مزار ہے وہ سبزواری ہیں۔ مولانا رومی کے مُرشد کا مزار قونیہ میں ہی ہے۔ کہتے ہیں کہ مولانا کے مزار پر آنے سے پہلے شمس تبریز کے مزار پر جانا چاہیے۔ ہم سے سہو ہوا۔ ہم وہاں بعد میں گئے
