رعنائی:
سر آپ کے قیمتی وقت کے لیے بہت شکریہ۔ یہ فرمائیے گا کہ رمضان شریف کی آمد پر پہلے خود کو نئے شیڈول کے لیے کیسے تیار کر سکتے ہیں؟
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش:
سب سے پہلے تو بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے گفتگو کا موقع دیا۔ سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پتہ چلتا ہے کہ رمضان شریف کی تیاری شعبان سے ہی شروع کر دی جاتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کو بھی اس کا حکم دیتے تھے۔ ہمیں خاص طور پر اس چیز کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ اپنے کھانے پینے کے اوقات کو بہتر کریں اور اپنی خوراک پر بھی خاص نظر رکھیں کہ ہم کیا اور کتنا کھا رہے ہیں۔ کیونکہ اگر ہمارا یہ ذہن نہیں ہوگا کہ اپنی خوراک کو سادہ رکھنا ہے اور کھانے پینے کے اوقات کو بہتر رکھنا ہے تو پھر ہمارے معدے پر غیر ضروری دباؤ آ سکتا ہے۔ اسی طرح رمضان میں نیند کا کھانے کا وقت کسی حد تک تببدل ہو جاتا ہے اس لیے ہمیں نئے ڈسپلن میں آنے کے لیے خود کو ڈسپلن کا پابند بنانا چاہیے۔
رعنائی:
ایک آئیڈیل سحری کیسی ہو سکتی ہے؟
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش:
گھر کی روٹی اور گھر کا سالن سب سے بہتر ہے اس کے ساتھ آپ دہی لے سکتے ہیں جس سے جسم میں پانی کا لیول بھی بہتر رہتا ہے اور ہاضمے میں بھی مدد ملتی ہے۔ لیکن سحری میں پیٹ بھرنے کی کوشش نہ کریں کچھ بھوک رکھ کر کھائیں، اس کا اثر زیادہ دیر تک رہے گا۔ پیٹ بھر کر کھانے سے طبیعت میں بوجھل پن آئے گا، یا بار بار واش روم جانا پڑے گا اور بے آرامی پیدا ہو گی جس سے سارا دن متاثر ہو سکتا ہے۔ ہاں سحری کو سادہ رکھتے ہوئے اس میں کھجور، سلاد اور پھل بھی لیا جانا چاہیے۔
رعنائی:
محنت مزدوری اور مشقت والا کام کرنے والے افراد کی سحری کیسی ہونی چاہیے تا کہ وہ دن بھر اپنا کام بھی کر سکیں اور روزہ بھی رکھ سکیں؟
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش:
محنت کش افراد کے لیے ایک تو یہ سہولت بھی ہے کہ وہ سحری میں پراٹھے وغیرہ کھا سکتے ہیں جس سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرا رہتا ہے لیکن ان کو بھی یہی پیش نظر رکھنا ہو گا کہ بے تحاشہ پانی، لسی یا کھانے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا البتہ جتنی ان کی بھوک ہے اتنا ضرور کھائیں ۔ اسی طرح یہ کہ پینے والی زیادہ تر چیزیں افطار کے بعد استعمال کریں۔ دہی وغیرہ کا استعمال ان لوگوں کے لیے بھی بہت مفید ہے۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ روزہ تو بہرحال روزہ ہے اور اس کا ایک اپنا اثر تو ہوتا ہے۔ نہاری اور پائے وغیرہ جیسی چیزوں سے زیادہ فائدہ نہیں ہوتا زیادہ فائدہ اس چیز کا ہوتا ہے کہ آپ غذا کی مقدار بے شک کم رکھیں لیکن اس کا معیار اچھا ہونا چاہیے یعنی جسم کو مکمل غذائیت ملنی چاہیے۔
رعنائی:
افطاری کیسی ہونی چاہیے؟ اس حوالے سے کچھ احتیاطیں بھی بتا دیجیے۔
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش:
دیکھیے روزے کا بنیادی مقصد انسان میں ڈسپلن پیدا کرنا ہے۔ انسان اور حیوان میں بنیادی فرق یہی ہے کہ حیوان کے سامنے جب کوئی کھانے والی چیز آتی ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اب میں مکمل آزاد ہوں، جیسے مرضی کھاؤں لیکن انسان کو دھیان رکھنا ہوتا ہے کہ کیا چیز کھانی ہے، کتنی مقدار میں کھانی ہے اور کیا نہیں کھانا۔ لہذا افطاری کے وقت بہت زیادہ بے صبری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے بہتر یہ ہے کہ کھجور جو کہ ہماری روایت بھی ہے اور سنت بھی، اس سے افطار کیا جائے اس کے ساتھ سادہ پانی پی لیا جائے اور پھر نماز پڑھیں، اس کے بعد جو کچھ کھانا ہے وہ کھائیں۔ کیونکہ آپ سارے دن کے بعد معدے کو ایک کام پر لگا رہے ہیں تو کھجور، پانی کے افطار سے وہ نماز کے دوران ذرا رواں ہو جائے گا اور جسم کو ابتدائی غذائیت بھی مل جائے گی ۔ بہت زیادہ پرتکلف افطاری کی ضرورت نہیں ہے اور یہ مطلوب بھی نہیں ہونا چاہیے۔
رعنائی:
بعض لوگ افطاری میں زیادہ چیزیں کھا لیتے ہیں جس سے باقاعدہ کھانا کھانے کی ضرورت پیش نہیں آتی اور تراویح کے بعد ان کو دوبارہ بھوک لگتی ہے تب وہ کھانا کھاتے ہیں اور پھر سو جاتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے کیا رہنمائی فرمائیں گے؟
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش:
کوشش تو یہی ہونی چاہیے کہ افطاری انتہائی سادہ ہو تا کہ کھانا تراویح سے پہلے کھایا جا سکے۔ تراویح کے بعد اگر بھوک محسوس ہو تو پینے والی چیزیں استعمال کی جا سکتی ہیں جیسے دودھ، شربت یا کوئی بھی ایسا لیکوئیڈ جس سے توانائی بھی مل جائے اور معدے پر زیادہ بوجھ بھی نہ پڑے۔ تراویح کے چند گھنٹے بعد دوبارہ سحری کے لیے کھانا ہوتا ہے اس لیے سوتے وقت معدے پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔
رعنائی:
شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے روزے کے دوران کیا کیا احتیاط ہونی چاہیے؟
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش:
شوگر کے مریض تو اپنے معالج سے مشورہ کر کے روزہ رکھیں، خاص طور پر ٹائپ ون کے مریض۔ دیگر اقسام کی شوگر کے مریض بھی دوا بھی وقت پر لیں اور اگر تراویح پڑھتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے لیکن اگر نہیں پڑھ پاتے تو رات کے کھانے کے بعد کچھ دیر واک ضرور کریں اور میٹھی چیزوں سے پرہیز کریں۔ افطار کی دعوتوں میں میٹھی چیزوں کی کثرت ہوتی ہے، اس وقت محتاط رہیں تاکہ وہ رمضان شریف بہتر طریقے سے گزار سکیں
بلڈ پریشر کے مریض خاص طور پر افطاری میں سموسے پکوڑے کچوریاں اور ایسی مرغن چیزوں سے خاص طور پر گریز کریں کریں کیونکہ ان میں نمک اور گھی بہت زیادہ ہوتا ہے جس سے اگلے دن ان کے لیے مشکل بن سکتی ہے۔ مزید یہ کہ دونوں قسم کے مریض اپنے ڈاکٹر کی بتائی ہوئی دوائیں وقت پر لازمی لیں۔
رعنائی:
شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے کون سی ایسی خطرناک علامات ہیں جن کی وجہ سے ان کو روزہ توڑ دینا چاہیے یا فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے؟
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش:
شوگر ٹائپ ٹو میں شوگر بڑھنے کا اتنا زیادہ اندیشہ نہیں ہوتا لیکن ٹائپ ون میں شوگر بڑھتی ہے تو بیہوشی طاری ہو سکتی ہے۔ اسی طرح یہ کہ شوگر کے مریضوں کے لیے زیادہ خطرہ شوگر بڑھنے کا نہیں بلکہ شوگر کے اتنا کم ہو جانے کا ہوتا ہے کہ ان کی غذائیت کا راستہ ہی رک جائے۔ مریض کو اگر اچانک گھبراہٹ، ماتھے پر پسینہ آنا اور ہاتھ کانپنے کا عمل شروع ہو جائے تو ایسی صورت میں فورا کچھ کھانے کے لیے لینا چاہیے۔
جبکہ بلڈ پریشر کا ایک یونیورسل سائن ہے کہ سر کا درد شروع ہو جانا یا چکر آنا تو اس صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ فوری طور پر کیا جائے اور ہدایات پر عمل کیا جائے۔
لیکن جب شوگر لو ہو جائے اور مذکورہ علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں تو پھر ڈاکٹر سے رابطہ کرنے سے پہلے ہی کوئی چیز کھا لینی چاہیے کیونکہ اس وقت ایک ایک لمحہ اہم ہوتا ہے
رعنائی:
دل کے مریضوں کے لیے کیا کیا ہدایات ہیں؟
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش::
ویسے تو دل کے مریضوں کا زیادہ مسئلہ نہیں بنتا لیکن اگر ان کے لیے بھی ایسی علامات ظاہر ہوں کہ سینے پر دباؤ آ رہا ہے، متلی، ٹھنڈے پسینے، بدہضمی اور گیس کی بہت زیادہ کیفیت بن رہی ہے یا بائیں جبڑے اور بائیں بازو میں درد ہونے لگے تو ایسی صورتحال کے لیے ڈاکٹر نے جو دوا بتائی ہو وہ فورا لینی چاہیے یا اگر زبان کے نیچے سپرے کرنے کا کہا گیا ہے تو وہ فورا کرنا چاہیے
رعنائی:
بہت سے لوگ تیسرے عشرے تک پہنچتے پہنچتے بیمار ہو جاتے ہیں اس کی کیا وجوہات ہیں اور اس کا حل کیا ہے؟
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش:
ابھی تو موسم معتدل ہے اور نزلہ زکام وغیرہ کا تو شاید زیادہ خطرہ نہ ہو لیکن بد ہضمی ، لوز موشن، قبض، بخار، کھانے کا واپس منہ کی طرف آنا وغیرہ امراض ہو سکتے ہیں جن سے بچنے کے لیے گفتگو کے آغاز میں کچھ گزارشات پیش کی ہیں۔ دوبارہ یہی گزارش ہے کہ سحری کے وقت بھی یہی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ آپ جتنا مرضی پیٹ بھر لیں سارا دن اپ کو بھوک کا احساس نہ ہو ایسا نہیں ہو سکتا اور افطاری میں بھی اگر یک دم آپ بہت کچھ کھا لیں گے تو یک دم آپ کے اندر کوئی زیادہ انرجی نہیں آ جائے گی۔ لہذا سب چیزیں تھوڑی تھوڑی مقدار میں وقفے وقفے سے کھائیں تاکہ وہ آپ کو ہضم بھی ہوں اور ان کا فائدہ بھی ہو۔
رعنائی:
کچھ لوگوں کا ایک عمومی ذہن یہ ہوتا ہے کہ روزے کے دوران ہمیں غصہ بہت آئے گا اور بعض لوگوں کا غصہ ظاہر بھی ہو رہا ہوتا ہے ۔ کیا واقعی یہ حقیقت ہے اور اس سے بچنے کا کیا طریقہ ہے؟
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش:
دیکھیے روزے کے دوران جب بھوک لگتی ہے تو اس سے جسم میں سٹریس تو پیدا ہوتا ہے، اب اس سٹریس کو مینیج کرنے کا طریقہ ہر ایک کا اپنا اپنا ہوتا ہے۔ اس صورت میں مطلوب تو یہی ہے کہ آدمی اپنے آپ پر قابو رکھے کیونکہ روزہ تو ڈسپلن پیدا کرنے کے لیے ہے، اس سے آپ نے سیلف ڈسپلن کی مشق کرنی ہوتی ہے۔ اس دوران جو چیزیں آپ کے لیے حلال ہوتی ہیں ان سے بھی اللہ تعالی کے حکم کی پابندی کرتے ہوئے رکنا ہوتا ہے تو ایسی چیزوں میں غصے کو بھی شامل کر لیا جائے کہ اگر آپ کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہو رہی ہے تو اس کو صبر سے، ہمت اور حوصلے سے، خندہ پیشانی سے برداشت کیا جائے۔ خواہ مخواہ طیش میں آنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ روزے کا اجر بھی کم ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ بھوک پیاس کے علاوہ آپ کے ہاتھ کچھ نہ آئے۔ لہذا یہ برداشث بھی ایک طرح سے عبادت کا ہی حصہ ہے۔
رعنائی:
رمضان میں بہت سے لوگوں کا نیند کا شیڈول متاثر ہو جاتا ہے یعنی تراویح پڑھ کے سونا اور پھر صبح جلدی اٹھنا، لہذا نیند کو کیسے مکمل کیا جائے؟
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش:
عام طور پر تو رمضان شریف میں اوقات کار کم کر دیے جاتے ہیں اس لیے نیند مکمل کرنے کا وقت مل ہی جاتا ہے لیکن بات یہ ہے کہ 11 مہینے کا شیڈول اور ہوتا ہے، ایک مہینے میں یکدم اس میں ایک ہنگامی سی تبدیلی تو آتی ہے کہ آپ نے ایک مختلف ٹائم پہ اٹھنا ہے اور اسی ٹائم پر کھانا بھی کھانا ہے لیکن ہم خود کو یوں سمجھا سکتے ہیں کہ جب ہم نے سحری کی تو گویا ہم نے ناشتہ کچھ جلدی کر لیا، اسی طرح افطار کے بعد کھانا کھایا تو ہم نے ڈنر ذرا جلدی کر لیا اس لحاظ سے دیکھیں گے تو آپ کو اپنا شیڈول بہت زیادہ سخت محسوس نہیں ہو گا۔
رعنائی:
کیا نماز تراویح، ورزش اور واک کا نعم البدل ہو سکتی ہے؟ اور اگر ورزش اور واک ہی ضروری ہے تو اس کے لیے بہترین ٹائم کون سا ہے؟
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش:
ورزش اور واک کے لیے بہتر وقت تو یہی ہے کہ افطاری سے آدھا گھنٹہ پہلے یا شام کے کھانے کے کچھ دیر بعد یا تراویح کے بعد، ورنہ سحری سے کچھ دیر پہلے، اور آدھے گھنٹے کی واک یا ورزش کافی ہے۔ اگر آپ تراویح پڑھتے ہیں تو وہ ایک اضافی چیز ہے اور عبادت کا تقابل ورزش وغیرہ سے نہیں کیا جا سکتا۔ اتنا مختصر سا ٹائم تو ورزش یا واک کے لیے مل ہی جاتا ہے، بلکہ تقریبا پچھلے 10 سال سے میں دیکھ رہا ہوں کہ پارک افطاری سے پہلے بھرے ہوتے ہیں، لوگ واک کر رہے ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سے ان کو کسی پریشانی یا دباؤ کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔
رعنائی:
بعض لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ روزہ رکھنے سے کمزور ہو جائیں گے جیسے آپ نے کھجور اور دہی کا ذکر کیا ہے تو کیا مزید کوئی سپلیمنٹس لینا بھی ضروری ہے؟
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش:
میں نے روزے کی وجہ سے آج تک کسی کو کمزور ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ کیونکہ سحری اور افطاری کو ملا کے کھانا تو ہم پورا ہی کھا رہے ہوتے ہیں اسی طرح پھر رات کی ونڈو ہمارے لیے اوپن ہے، اس میں ہم جو مرضی کھا پی سکتے ہیں۔ اس لیے میں تو کبھی سپلیمنٹس تجویز نہیں کرتا۔ ہاں ایک عرض کرتا چلوں کہ روزہ رکھ کر خود ترسی کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ روزہ رکھنے سے میرے اوپر بہت زیادہ دباؤ آ گیا ہے۔ دیکھیے یہ عبادت تو ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے اور ہمیشہ ہر موسم میں لوگ روزے رکھتے ہی آئے ہیں۔
رعنائی:
ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ روزہ رکھو تو صحت ملے گی اس کو میڈیکل سائنس کسی نظر سے دیکھتی ہے؟
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش:
ایک بات ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے کہ جتنے لوگ کھانے سے مرتے ہیں اتنے بھوک سے نہیں مرتے۔ آج کل کی جتنی بیماریاں ہیں مثلا شوگر بلڈ پریشر وغیرہ یہ کھانے کی بے احتیاطی اور بسیار خوری کی وجہ سے ہی ہیں۔ لیکن جب آپ کم کھانا کھاتے ہیں اور آپ کا ہاضمہ ٹھیک کام کرتا ہے، آپ کے مسلز ٹھیک کام کرتے ہیں تو آپ کے دل سمیت سارے جسم کی بیماریوں سے حفاظت رہتی ہے۔ اس لیے میڈیکل سائنس تو اس چیز کی سپورٹ کرتی ہے کہ جب آپ اعتدال سے کھائیں گے اور بھوک سے کم کھائیں گے تو جسمانی طور پر تندرست رہیں گے اور اپنے اندر زیادہ انرجی محسوس کریں گے کیونکہ جیسے جیسے جسم میں فَیٹ بڑھتی ہے ویسے ویسے جسم کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ روزہ رکھنے کے دوران سارے دن کی بھوک پیاس کی محنت کو افطاری میں بےاحتیاطی کر کے ضائع نہ کریں۔
رعنائی:
ڈاکٹر صاحب آپ نے کافی کچھ بتایا ہے۔ اگر مذکورہ مسائل سے بچنے کے لیے کچھ مزید چیزیں بتا دیں تو قارئین کا بہت بھلا ہو سکتا ہے
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش:
میں صرف یہ کہوں گا کہ گھر کی بنی چیزیں استعمال کریں۔ تازہ جوس پئیں۔ بازاری کھانے پینے سے مکمل پرہیز کریں۔ اسی طرح کھانے کے بعد تھوڑی دیر سونف کو چوستے رہیں تو ہاضمہ بہتر رہے گا۔ سحری میں چائے سے تو لوگ رک نہیں سکتے لیکن اس میں اگر سونف ڈال لیا کریں تو نقصان کم ہو سکتا ہے۔ سحری میں سلاد بھی ضرور لیں تا کہ فائبر حاصل ہو اور قبض وغیرہ امراض سے حفاظت رہے۔ شام کے کھانے میں سلاد میں کھیرا کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے اس کے علاوہ سلاد کی باقی چیزیں کھائی جا سکتی ہیں۔
رعنائی:
ڈاکٹر صاحب آپ ک
ے وقت، اور رہنمائی کے لیے بہت شکریہ
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش:
آپ کا بھی بہت شکریہ، جزاک اللہ خیرا