بھری پری کلاس میں استاد محترم نے کہا، اردو افسانہ میں اہم ترین موڑ "حرام جادی” اور "پھسلن” تھے، جو حسن عسکری صاحب کے قلم سے نکلے کہ اس سے پہلے افسانہ یک رخی ہوا کرتا تھا۔ اس افسانے میں انھوں نے مرد مرکز سماج کا چہرہ عیاں کیا۔
اچھا، دل چسپ امر یہ ہے کہ کلاس میں سوائے میری کسی کو عسکری صاحب کی خبر ہی نہیں تھی، اور میری معلومات بھی ان کے تراجم اور تنقید تک محدود تھی۔
اس زمانے میں آج جیسی سہولت نہیں تھی کہ آپ نے کسی کتاب یا افسانے کے نام سے الجھن محسوس کی، تو گوگل کیا، اور الجھن سلجھا لی، ریختہ بھی تب نہیں ہوا تھا۔
وہ تو بھلا ہو جناب آصف فرخی مرحوم کا، جنھوں نے جناب حسن عسکری کے افسانوں کا ایک متاثر کن انتخاب کیا، جس میں "حرام جادی” اور "پھسلن” شامل تھے۔
عسکری صاحب کے افسانے احباب کو ضرور پڑھنے چاہییں، بالخصوص کراچی کے احباب کو، میرا خیال ہے کہ ان کے ہاں فکری سطح، اور مطالعہ تو چھوڑیے، اردو ادب سے متعلق بنیادی معلومات کا بھی فقدان ہے۔