بیسویں صدی کے شروع کی بات ہے، زیادہ پرانی بات نہیں دنیا میں ایک خطرناک بیماری راج کیا کرتی تھی۔ لوگوں کے چہرے پہ ، جسم پہ بدنما داغ بننے لگ جاتے تھے۔ ان داغوں کا شکار ہونے والوں کو فوراً باقی لوگوں سے دور کر دیا جاتا تھا کیونکہ اس بیماری کا شکار ہونے والا ایک فرد درجنوں مزید لوگوں کو اس بیماری کا شکار کر دیتا تھا۔
ہر سال تقریباً پانچ کروڑ لوگ اس بیماری کا شکار ہوتے تھے اور تیس سے پچاس لاکھ تک لوگ اس بیماری کی وجہ سے مر جایا کرتے تھے۔ اور جو بچ جاتے، ان کے داغدار جسم انھیں عمر بھر کے لیے مہذب معاشروں میں ناقابل قبول بنا دیتے۔ لوگ انھیں دیکھ کر نفرت سے منہ پھیر لیا کرتے تھے کیونکہ داغدار چہرے کسی کو اچھے نہیں لگتے۔ انھیں ساری عمر یہ ظالمانہ رویے سہنے پڑتے تھے۔ اس بیماری کو چیچک کے نام سے جانا جاتا تھا۔
پھر اس بیماری کو ختم کرنے کے لیے کوششیں شروع کی گئیں، اس کے لیے ویکسینز بنائی گئیں، ان کے تجربے کیے گئے ، ایک صدی سے زائد تک اس پہ مسلسل محنت کی گئی اور پھر یہ معجزہ ہوا کہ اس بیماری کا دنیا سے خاتمہ کر دیا گیا۔ وہ بیماری جو ایک فرد سے درجنوں لوگوں کو لگ جاتی تھی، جس کے لگنے والے کو فوراً اچھوت بنا دیا جاتا تھا ، جو ہر سال کروڑوں لوگوں کو داغدار کرتی اور لاکھوں لوگوں کو مار دیتی تھی، اس بیماری سے انسانوں کو مستقل طور پہ بچا لیا گیا۔
تقریباً پچاس سال پہلے دنیا میں اس بیماری کا آخری مریض دیکھا گیا تھا اور پھر انیس سو اسی میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے خوشی سے اس بیماری کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ بیسویں صدی میں جس بیماری نے تقریباً تیس کروڑ لوگوں کو مار دیا تھا ، اب وہ بیماری سائنسی تحقیق اور محنت سے ختم ہو چکی ہے۔
یہ تو ایک بیماری تھی، آئیے کچھ دوسری بیماریوں کی بات کرتے ہیں۔ آپ نے خسرہ کا نام سنا ہو گا، اگر ہم تاریخ دیکھیں تو خسرہ جان لیوا مرض ہوا کرتا تھا اس بیماری میں مرنے والے چھوٹے بچے ہوا کرتے تھے۔ لیکن اب خسرہ سے مرنے والوں کی تعداد میں نوے فیصد کمی ہو چکی ہے۔ یعنی جہاں پہلے خسرہ سے سو لوگ مرتے تھے، اب وہاں صرف دس مرتے ہیں اور نوے انسان ٹھیک ہر بھرپور طریقے سے اپنی زندگی جی لیتے ہیں۔
ہمارے اکثر بچوں کو چکن پاکس ہوتا ہے، ان کے جسم پہ دانے بنتے ہیں ، کچھ دن بخار رہتا ہے اور پھر وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ شائد ہی اب کوئی چکن پاکس سے مرتا ہو لیکن کیا آپ جانتے ہیں پہلے اس چکن پاکس کی بیماری سے بے شمار بچے مر جایا کرتے تھے، اب وہ سارے بچے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ موت کی طرف جانے کے بجائے ، زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں۔
ہیضہ بڑی عام بیماری تھی، جس کا شکار ہونے والے تقریباً آدھے لوگ مر جایا کرتے تھے اور صرف آدھے لوگ اس بیماری سے بچ پاتے تھے۔ اب اس بیماری کا علاج ہو جاتا ہے اور لوگ اس سے شاذ و ناذر ہی مرتے ہیں۔ یہ بیماری اب بہت حد تک جان لیوا نہیں رہی۔
خناق ، کالی کھانسی ، تشنج یہ سب وہ بیماریاں ہیں جو ہر سال بہت سے لوگوں کی جان لیتی تھیں اور اب ان کا نام بھی کم کم ہی سننے میں آتا ہے کیونکہ بچوں کو ان کی ویکسین لگائی جاتی ہے ، جس سے بچوں کے جسم میں ان کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے اور یہ بیماریاں ان پہ حملہ نہیں کر پاتیں۔
ابھی کچھ سال پہلے تک ملیریا سے لاکھوں لوگ زندگی کی بازی ہار جایا کرتے تھے، ملیریا کو بہت خطرناک اور جان لیوا بیماری سمجھا جاتا تھا۔ اب ملیریا اکثر معاشروں میں عام سی بیماری بن کر رہ گئی ہے، کوئی اس کا شکار بھی ہو تو اس کا فوراً علاج ہو جاتا ہے، لوگ اس سے مرتے نہیں۔ صرف کچھ جگہوں پہ اس کی دوائی میسر نہ ہونے یا علاج نہ کروانے کی وجہ سے ابھی بھی لوگ مر رہے ہیں۔ پہلے اس کا نام سن کر لوگوں کا رنگ فق ہو جاتا تھا، اب ان کے ماتھے پہ سلوٹ بھی نہیں پڑتی۔
یوٹیوب پہ ایک افریقی ملک میں ملیریا سے مرنے والوں کے متعلق ایک ڈاکومنٹری پڑی ہے “ریٹرن ٹو فیور روڈ” وہ دیکھیے گا ، آپ کو اندازہ ہو گا کیسے ہمارے نزدیک ایک عام سی سمجھی جانے والی بیماری سے صرف کچھ سال پہلے تک لوگ مر رہے تھے۔ کیسے روزانہ ملیریا سے مرنے والوں کی لاشیں اٹھائی جاتی تھیں۔ ایک بچہ مرتا تو انتظار شروع ہو جاتا کہ اب اگلا بچہ کون سا مرے گا۔ کسی کا باپ ، کسی کی بہن تو کسی کے بچے مرتے تھے، روز لاشیں اٹھتی تھیں۔ دیکھیے گا تاکہ جان سکیں کہ یہ بیماریاں ان سے ملنے والی موت کتنی بھیانک ہو سکتی ہے۔
لاکھوں لوگ تو ٹی بی سے بھی مرتے تھے لیکن اب ٹی بی سے مرنے والوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔ اب اس کا مکمل علاج میسر ہے اور وہ کروانے والے مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
کتنے کینسر ہیں، جن کا علاج اب کامیابی سے کر لیا جاتا ہے، کئی کینسرز پہ تو اب ویکسینز وغیرہ سے قابو پا لیا گیا ہے، جیسے سروائیکل کینسر۔ اس کے وائرس کے خلاف ویکسین لگا کر اب اس کے ہونے سے بچیوں کو بچا لیا جاتا ہے۔
ٹائیفائیڈ ، نمونیا ، ہیپاٹائٹس ، غرض کتنی ہی بیماریاں ہیں جو ہر سال کروڑوں لوگوں کی جان لیتی تھیں اور اب ان بیماریوں سے انسان بچ جاتے ہیں، اب یہ بیماریاں خطرے کی علامت نہیں رہیں، ان سے ڈر نہیں لگتا۔ جب کہ پہلے ان بیماریوں کے ہونے پہ گھروں میں صفِ ماتم بچھ جاتی تھی۔ لوگ مریض کو دیکھ دیکھ کر روتے تھے کہ یہ ہمارے سامنے موت کے منہ میں جا رہا ہے اور ہم کچھ نہیں کر سکتے۔
پولیو کی بات کریں تو صرف چالیس پچاس سال پہلے انیس سو اسی میں پولیو سے ایک سال میں پینتیس لاکھ کیس سامنے آئے تھے۔ صرف ایک سال میں معذوری کا شکار ہونے والے ، پینتیس لاکھ بچے۔ کچھ سالوں کا حساب لگائیں تو یہ تعداد کروڑوں میں پہنچ جاتی تھی۔ اور حقیقتاً کروڑوں بچے اس کی وجہ سے معذور ہو جاتے تھے۔ لیکن اس کی ویکسین بنائی گئی، بچوں تک پہنچائی گئی اور اب تقریباً پوری دنیا میں یہ بیماری ختم ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اب ایک سال میں بیس سے بھی کم پولیو کے نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ یعنی وہ بیماری جو ہر سال پینتیس لاکھ بچوں کو شکار کر رہی تھی، اب دو درجن بچوں کو بھی متاثر نہیں کر رہی۔
دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں پولیو ختم ہو چکی ہے۔