Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » خطرناک امراض اور سائنس

خطرناک امراض اور سائنس

ڈاکٹر نوید خالد تارڑ

کی طرف سے Ranaayi فروری 12, 2026
کی طرف سے Ranaayi فروری 12, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
41

بیسویں صدی کے شروع کی بات ہے، زیادہ پرانی بات نہیں دنیا میں ایک خطرناک بیماری راج کیا کرتی تھی۔ لوگوں کے چہرے پہ ، جسم پہ بدنما داغ بننے لگ جاتے تھے۔ ان داغوں کا شکار ہونے والوں کو فوراً باقی لوگوں سے دور کر دیا جاتا تھا کیونکہ اس بیماری کا شکار ہونے والا ایک فرد درجنوں مزید لوگوں کو اس بیماری کا شکار کر دیتا تھا۔

ہر سال تقریباً پانچ کروڑ لوگ اس بیماری کا شکار ہوتے تھے اور تیس سے پچاس لاکھ تک لوگ اس بیماری کی وجہ سے مر جایا کرتے تھے۔ اور جو بچ جاتے، ان کے داغدار جسم انھیں عمر بھر کے لیے مہذب معاشروں میں ناقابل قبول بنا دیتے۔ لوگ انھیں دیکھ کر نفرت سے منہ پھیر لیا کرتے تھے کیونکہ داغدار چہرے کسی کو اچھے نہیں لگتے۔ انھیں ساری عمر یہ ظالمانہ رویے سہنے پڑتے تھے۔ اس بیماری کو چیچک کے نام سے جانا جاتا تھا۔

پھر اس بیماری کو ختم کرنے کے لیے کوششیں شروع کی گئیں، اس کے لیے ویکسینز بنائی گئیں، ان کے تجربے کیے گئے ، ایک صدی سے زائد تک اس پہ مسلسل محنت کی گئی اور پھر یہ معجزہ ہوا کہ اس بیماری کا دنیا سے خاتمہ کر دیا گیا۔ وہ بیماری جو ایک فرد سے درجنوں لوگوں کو لگ جاتی تھی، جس کے لگنے والے کو فوراً اچھوت بنا دیا جاتا تھا ، جو ہر سال کروڑوں لوگوں کو داغدار کرتی اور لاکھوں لوگوں کو مار دیتی تھی، اس بیماری سے انسانوں کو مستقل طور پہ بچا لیا گیا۔

تقریباً پچاس سال پہلے دنیا میں اس بیماری کا آخری مریض دیکھا گیا تھا اور پھر انیس سو اسی میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے خوشی سے اس بیماری کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ بیسویں صدی میں جس بیماری نے تقریباً تیس کروڑ لوگوں کو مار دیا تھا ، اب وہ بیماری سائنسی تحقیق اور محنت سے ختم ہو چکی ہے۔

یہ تو ایک بیماری تھی، آئیے کچھ دوسری بیماریوں کی بات کرتے ہیں۔ آپ نے خسرہ کا نام سنا ہو گا، اگر ہم تاریخ دیکھیں تو خسرہ جان لیوا مرض ہوا کرتا تھا اس بیماری میں مرنے والے چھوٹے بچے ہوا کرتے تھے۔ لیکن اب خسرہ سے مرنے والوں کی تعداد میں نوے فیصد کمی ہو چکی ہے۔ یعنی جہاں پہلے خسرہ سے سو لوگ مرتے تھے، اب وہاں صرف دس مرتے ہیں اور نوے انسان ٹھیک ہر بھرپور طریقے سے اپنی زندگی جی لیتے ہیں۔

ہمارے اکثر بچوں کو چکن پاکس ہوتا ہے، ان کے جسم پہ دانے بنتے ہیں ، کچھ دن بخار رہتا ہے اور پھر وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ شائد ہی اب کوئی چکن پاکس سے مرتا ہو لیکن کیا آپ جانتے ہیں پہلے اس چکن پاکس کی بیماری سے بے شمار بچے مر جایا کرتے تھے، اب وہ سارے بچے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ موت کی طرف جانے کے بجائے ، زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں۔

ہیضہ بڑی عام بیماری تھی، جس کا شکار ہونے والے تقریباً آدھے لوگ مر جایا کرتے تھے اور صرف آدھے لوگ اس بیماری سے بچ پاتے تھے۔ اب اس بیماری کا علاج ہو جاتا ہے اور لوگ اس سے شاذ و ناذر ہی مرتے ہیں۔ یہ بیماری اب بہت حد تک جان لیوا نہیں رہی۔

خناق ، کالی کھانسی ، تشنج یہ سب وہ بیماریاں ہیں جو ہر سال بہت سے لوگوں کی جان لیتی تھیں اور اب ان کا نام بھی کم کم ہی سننے میں آتا ہے کیونکہ بچوں کو ان کی ویکسین لگائی جاتی ہے ، جس سے بچوں کے جسم میں ان کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے اور یہ بیماریاں ان پہ حملہ نہیں کر پاتیں۔

ابھی کچھ سال پہلے تک ملیریا سے لاکھوں لوگ زندگی کی بازی ہار جایا کرتے تھے، ملیریا کو بہت خطرناک اور جان لیوا بیماری سمجھا جاتا تھا۔ اب ملیریا اکثر معاشروں میں عام سی بیماری بن کر رہ گئی ہے، کوئی اس کا شکار بھی ہو تو اس کا فوراً علاج ہو جاتا ہے، لوگ اس سے مرتے نہیں۔ صرف کچھ جگہوں پہ اس کی دوائی میسر نہ ہونے یا علاج نہ کروانے کی وجہ سے ابھی بھی لوگ مر رہے ہیں۔ پہلے اس کا نام سن کر لوگوں کا رنگ فق ہو جاتا تھا، اب ان کے ماتھے پہ سلوٹ بھی نہیں پڑتی۔

یوٹیوب پہ ایک افریقی ملک میں ملیریا سے مرنے والوں کے متعلق ایک ڈاکومنٹری پڑی ہے “ریٹرن ٹو فیور روڈ” وہ دیکھیے گا ، آپ کو اندازہ ہو گا کیسے ہمارے نزدیک ایک عام سی سمجھی جانے والی بیماری سے صرف کچھ سال پہلے تک لوگ مر رہے تھے۔ کیسے روزانہ ملیریا سے مرنے والوں کی لاشیں اٹھائی جاتی تھیں۔ ایک بچہ مرتا تو انتظار شروع ہو جاتا کہ اب اگلا بچہ کون سا مرے گا۔ کسی کا باپ ، کسی کی بہن تو کسی کے بچے مرتے تھے، روز لاشیں اٹھتی تھیں۔ دیکھیے گا تاکہ جان سکیں کہ یہ بیماریاں ان سے ملنے والی موت کتنی بھیانک ہو سکتی ہے۔

لاکھوں لوگ تو ٹی بی سے بھی مرتے تھے لیکن اب ٹی بی سے مرنے والوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔ اب اس کا مکمل علاج میسر ہے اور وہ کروانے والے مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں۔

کتنے کینسر ہیں، جن کا علاج اب کامیابی سے کر لیا جاتا ہے، کئی کینسرز پہ تو اب ویکسینز وغیرہ سے قابو پا لیا گیا ہے، جیسے سروائیکل کینسر۔ اس کے وائرس کے خلاف ویکسین لگا کر اب اس کے ہونے سے بچیوں کو بچا لیا جاتا ہے۔

ٹائیفائیڈ ، نمونیا ، ہیپاٹائٹس ، غرض کتنی ہی بیماریاں ہیں جو ہر سال کروڑوں لوگوں کی جان لیتی تھیں اور اب ان بیماریوں سے انسان بچ جاتے ہیں، اب یہ بیماریاں خطرے کی علامت نہیں رہیں، ان سے ڈر نہیں لگتا۔ جب کہ پہلے ان بیماریوں کے ہونے پہ گھروں میں صفِ ماتم بچھ جاتی تھی۔ لوگ مریض کو دیکھ دیکھ کر روتے تھے کہ یہ ہمارے سامنے موت کے منہ میں جا رہا ہے اور ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

پولیو کی بات کریں تو صرف چالیس پچاس سال پہلے انیس سو اسی میں پولیو سے ایک سال میں پینتیس لاکھ کیس سامنے آئے تھے۔ صرف ایک سال میں معذوری کا شکار ہونے والے ، پینتیس لاکھ بچے۔ کچھ سالوں کا حساب لگائیں تو یہ تعداد کروڑوں میں پہنچ جاتی تھی۔ اور حقیقتاً کروڑوں بچے اس کی وجہ سے معذور ہو جاتے تھے۔ لیکن اس کی ویکسین بنائی گئی، بچوں تک پہنچائی گئی اور اب تقریباً پوری دنیا میں یہ بیماری ختم ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اب ایک سال میں بیس سے بھی کم پولیو کے نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ یعنی وہ بیماری جو ہر سال پینتیس لاکھ بچوں کو شکار کر رہی تھی، اب دو درجن بچوں کو بھی متاثر نہیں کر رہی۔

دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں پولیو ختم ہو چکی ہے۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب پہلو
  • سوشل میڈیا کے دور میں مطالعہ کیوں کیا جاۓ؟
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • ماں کی یاد میں
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
تراشیدم، پرستیدم، شکستم (افسانہ)
اگلی تحریر
خود کش حملے کیسے ختم ہوں؟

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

اسلام، شاعری اور خطابت

دسمبر 19, 2025

خود کش حملے کیسے ختم ہوں؟

فروری 12, 2026

احوال ایران؛ چند فکری زاویے

جنوری 9, 2026

کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

فروری 26, 2026

ایک کیس کی روداد (سیکھنے کے چند پہلو)

فروری 15, 2026

ماں کی یاد میں

فروری 19, 2026

دہلی نامہ؛ امرتسر کے دو کردار

فروری 23, 2026

اخلاقیات کی دھنک

جنوری 8, 2026

میں اور سید کاشف رضا

فروری 26, 2026

ایران میں بھوک کا احتجاج

جنوری 6, 2026

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 280 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 265 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 255 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 227 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

کیا ڈاکٹر ظالم ہوتے ہیں؟

دسمبر 26, 2025

اکیسویں صدی میں اتارے ہوئے لوگ

جنوری 1, 2026

خود کش حملے کیسے ختم ہوں؟

فروری 12, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here