Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » جہان بیدل ؛ چند تاثرات

جہان بیدل ؛ چند تاثرات

معین نظامی

کی طرف سے Ranaayi دسمبر 29, 2025
کی طرف سے Ranaayi دسمبر 29, 2025 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
90

 

 

عالم و فاضل اور اہلِ دل افغانستانی دوست جناب سید محمد حسینی فطرت جنھوں نے مشرق و مغرب کے بیشتر پانیوں کے ذائقے چکھ رکھے ہیں، گزشتہ تین چار دن لاہور میں رہے. وہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) اور پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور کے اشتراک سے منعقد ہونے والی دو روزہ بین الاقوامی امیر خسرو کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے تھے. اس کانفرنس کی بھرپور کامیابی بہ جائے خود لاہور کے تازہ ترین ادبی و ثقافتی منظر نامے کا اہم واقعہ ہے.

فطرت صاحب اور دوسرے غیر ملکی مہمانوں کے ساتھ ان دنوں بہت یادگار صحبتیں رہیں. مختصر مگر مفید. فطرت صاحب امیر خسرو کے فکر و فن پر بھی ایک قابلِ قدر کتاب کے مصنف ہیں اور میرزا عبد القادر بیدل کے تعلق سے ان کی کتاب جہانِ بیدل بھی خاصے کی چیز ہے جسے چند سال پہلے انتشاراتِ عرفان، کابل نے شائع کیا تھا. اگرچہ اس میں بہت سی اغلاط باقی رہ گئی ہیں جو پڑھنے والے کو گراں گزرتی ہیں. انھوں نے کرم فرمایا اور وہ کتاب مجھے بھی عنایت کی.

جہانِ بیدل کا مختصر تعارف تو اس کے مکمل مطالعے کے بعد ہی کروایا جا سکے گا، سرِ دست ورجینیا میں رہنے والے اس کے ایک افغانستانی تقریظ نگار جناب محمد یوسف سیم گر باختری کی بیان کردہ ایک دل چسپ یاد کا اردو خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے جس سے اندازہ ہو گا کہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے خواص و عوام میں بیدل کی محبوبیت اور مقبولیت کا کیا عالَم ہے.

یوسف سیم گر لکھتے ہیں کہ برسوں پہلے ہمارے شہر مزار شریف میں میرزا عمر غوث تریاق نام کے ایک بزرگوار رہا کرتے تھے. ان کی عدم موجودگی میں تو گلی محلے کے لوگ انھیں تریاک (افیون) کہتے لیکن ان کے رو بہ رو ہمیشہ بڑے احترام سے میرزا صاحب یا کاکا صاحب کہا کرتے. میرزا تریاق بیدل کے عاشقِ زار تھے. مزار شریف کے بیشتر لوگوں کی طرح انھوں نے بھی زائرین کے لیے ایک اچھا مہمان خانہ بنایا ہوا تھا جس کی دیواروں پر بیدل کے منتخب اشعار بہت عمدہ کتابت کروا کے سلیقے سے آویزاں کیے گئے تھے.

میرزا تریاق کا معمول یہ تھا کہ جب بھی کوئی مہمان آتا، وہ رسمی سلام دعا کے بعد فوراً اس سے فرمائش کرتے کہ از راہِ کرم ان اشعار میں سے کوئی شعر تو پڑھیے اور ذرا اس کا مفہوم بھی سمجھا دیجیے. خوش قسمتی سے اگر مہمان پڑھا لکھا اور با ذوق ہوتا اور میرزا کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو وہ نہال ہو جاتے. والہانہ انداز میں گھر والوں سے کہتے کہ کھانے پینے کا جو کچھ بھی موجود ہے، فی الفور پیش کیا جائے. ایسے میں وہ اس کامیاب امیدوار کی ہر ممکن مہمان نوازی اور عزت افزائی کرتے.

قسمت کا مارا کوئی کم پڑھا لکھا یا بے ذوق مہمان خدا نخواستہ اس کڑے امتحان میں ناکام ہو جاتا تو میرزا کا دل بیٹھ جاتا. وہ اسے بس روکھی پھیکی سی چائے پر ہی ٹرخاتے اور حیلے بہانے سے جلد از جلد چلتا کرتے. قیمتی وقت ضائع ہونے کی اذیت ان کے چہرے سے ٹپک رہی ہوتی. وہ کھٹاک سے دروازہ بند کرتے اور دل گرفتہ سے ہو کر بیٹھ رہتے.

 

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • برنے کی کہانی ، اسید سلیم شیخ کی زبانی
  • کسی اور زمانے کی لائبریری
  • امین معلوف؛ ایک عرب آواز
  • سفر و حضر کیسی کتاب ہے؟
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
آدمی (افسانہ)
اگلی تحریر
ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب پہلو

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

زرد قیدی؛ نادیدہ تباہیوں کی ایک داستان

جنوری 16, 2026

سفر و حضر کیسی کتاب ہے؟

جنوری 1, 2026

کسی اور زمانے کی لائبریری

فروری 16, 2026

‘میرا داغستان جدید’ پڑھتے ہوئے

دسمبر 26, 2025

اردو شاعری میں صوتی اور صورتی قوافی کا مسئلہ

جنوری 15, 2026

برنے کی کہانی ، اسید سلیم شیخ کی زبانی

جنوری 9, 2026

ہم نامی کا مغالطہ

دسمبر 8, 2025

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا/ عاصم کلیار

جنوری 8, 2026

امین معلوف؛ ایک عرب آواز

جنوری 15, 2026

تیرے بعد تیری بتیاں

دسمبر 25, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 280 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 265 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 255 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 227 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

برنے کی کہانی ، اسید سلیم...

جنوری 9, 2026

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا...

جنوری 8, 2026

سفر و حضر کیسی کتاب ہے؟

جنوری 1, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here