107
کسی کو بندشوں میں باندھنا بھی کیا محبت ہے
محبت تو پرندوں کی کسی پرواز
جیسی ہے
پرندے جس کے ہوتے ہیں
اسی کے ساتھ رہتے ہیں
فضا میں ساتھ اڑتے ہیں
مگر آزاد رہتے ہیں
چراغوں نے کہاں محدود کی ہے
روشنی اپنی
کبھی پھولوں نے بھی
خوشبو پہ اپنی بند باندھے ہیں
حصار ذات سے باہر
نکلنا بھی محبت ہے
زیاں اور سود کے سارے
حسابوں سے نکل جانا
جمال زیست کی آواز پہ
لبیک کہہ اٹھنا محبت ہے