آئی فون کے بلوریں ڈسپلے کے اندر سے جیسے دودھ ملائی اور شہد سے ڈھالی گئی اُجلی لڑکی باہر اُبل پڑنے کو تھی۔ سنہرے بالوں اور بھرے جسم کی وہ لڑکی پیلی مغزی والی سرخ رنگ کی مہین بکنی نما ملبوس میں تھی ۔ اس کے بدن کے سارے پیچ و خم ، مدور ابھار اور ڈھلانیں جیسے کچھ بھی بالشت بھر دھجی کے اندر نہ تھا۔ وہ ذرا ساپہلو موڑے کھڑی تھی یوں کہ اس کی کمر کی کمان اور کولہے نمایاں ہو گئے تھے تاہم وہ سامنے دیکھ رہی تھی جیسے فون کے ڈسپلے پر نظریں جمائے بیٹھے والے سے مخاطب ہو۔ وہ اس کی آنکھوں کے بھورے ڈھیلوں،اٹھی ہوئی باریک ناک اور ہر سانس کے ساتھ جنبش پاتے نتھنوں کو دیکھ سکتا تھا ۔لمبی اور نفاست سے تراشی ہوئی گردن سے اگرچہ اُس لڑکی کا نرخرہ کچھ زیادہ باہر کو نکلا ہوا نہیں تھا مگر اس کی حرکت محسوس کی جا سکتی تھی ۔ گفتگو کے دوران یہی حرکت وقفے وقفے سے لڑکی کے سینے کے گداز کی سمت جست لگا کر غائب ہو جاتی تھی۔لڑکی کے بات کرنے کا انداز بھی دلکش تھا ۔ وہ ہونٹوں کو لوچ دار بناتے ہوئے شستہ اور سلیس انگریزی کے ایک ایک لفظ کو سنبھال سنوار کر ادا کر رہی تھی۔
اس نے وہ الفاظ دہرائے جو لڑکی کے خوب صورت ہونٹوں سےیوں نکلے تھے کہ گلابی ہونٹوں پر کھچی ہوئی عمودی لکیریں نمایاں ہو گئی تھیں ۔ وہی الفاظ فون کے ڈسپلے پر لکھے ہوئے بھی آ رہے تھے۔
"Create an AI Girlfriend of your dreams: step by step”
اس نے سیل فون کی دائیں اَنّی پر ٹکے انگوٹھے کو وہاں سے اٹھا کر ڈسپلے پر رکھا اور اسے ایک جانب حرکت دی ۔ شفاف سکرین پر انگوٹھا خود بہ خود پھسلتا جا رہا تھا تاہم اس کے تصور کو انگوٹھے کی پہلی ہی جنبش پر جھٹکا لگا تھا کہ وہاں کسی بدن کے زندہ لمس کی بہ جائے ہموار یخ بستگی تھی ۔ چولہے کے بھڑکتے شعلے پر اُبلتی چائے جیسااس کے اندر کا ابال یکلخت بیٹھ کر وہاں ایک کسک چھوڑگیا تھا ۔
۔۔۔
ملک عمیر اپنی بیوی انوشے کے گورے ہاتھوں کی پشت پرابھری ہوئی نیلی نیلی رگیں دیکھا کرتا تو پیار سے انہیں چھوا اور سہلایا کرتا تھا ۔ شاید اس لیے کہ ایسا کرتے ہوئے اسے اس کا دھڑکتا ہوا دل اِن ابھری ہوئی رگوں میں بھی دھڑکتا محسوس ہوتا تھا۔ تاہم اس رات کا تجربہ ذرا مختلف تھا وہ باتیں کرتے کرتے چپ ہو گئی تھی اور اس کا دائیاں ہاتھ جو شوہر کے پیٹ پر دھرا تھا، پھسل کر پہلو میں گر گیاتھا۔ شوہر نے پہلو بدلا اوربیوی کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ اس کے پیٹ سے پھسل کر پہلو میں پڑے ہاتھ کو وہ دیکھ نہیں سکتا تھا تاہم پہلو بدلتے ہی اسے چھولیا تھا ۔ اس نے اپنا ہاتھ اس کی ہتھیلی کی پشت پر پھیلا لیا ۔ سویا پڑاتصور بیدا رہو کربدن کو ٹہوکے دینے لگا تو اس نے بے ارادہ اپنے ہاتھ کی چاروں انگلیاں سمیٹ کراس کی ہتھیلی میں سرکائیں اور انگوٹھے سے ہاتھ کی پشت مسلنے لگا۔ اس کے بدن میں کسمساہٹ ہوئی جو جھرجھری ہو کر اس کے وجود میں تیر گئی تھی ۔ اس کا انگوٹھا جہاں تھا وہیں ساکت ہوگیا ۔ اس مختصر ترین کسل مندی کے معدوم ہونے سے پہلے وہ جان گیا تھا کہ اس کے ہاتھوں کی جلد پہلے جیسی ملائم اور چکنی نہ رہی تھی۔
ملک عمیر نے انوشے کے چہرے پر نگاہ کی ، اس کی آنکھیں بند تھیں ۔ اسے دوسرا دھچکا لگا کہ زردی اس کے چہرے کی جلدسے اُبلی پڑ رہی تھی۔ اسے اپنے آپ پر طیش آرہا تھا کہ کئی برسوں سے اس نے انوشے کو یوں غور سے دیکھنا معطل کر رکھا تھا ۔ اسے یاد آیا کہ کچھ عرصے سے وہ بدن میں کمزوری اترنے کی شکایت کرنے لگی تھی۔ وہ اسے معمول کی بات سمجھا کہ خود وہ بھی اتنا چوکس نہ رہا تھا ۔ مگراب وہ اپنے بارے میں نہ سوچ رہا تھا کہ اس کے دھیان میں انوشے تھی جسے چھونے سے زندگی کا احساس ہوتا تھا ۔
دیکھنا اور تصور کرنا یا چھونا اور محسوس کرنا دونوں کتنے مختلف ہو گئے تھے۔
وہ اسے دیکھتا رہا اور تصور کو کہیں اور بہک جانے دیا ۔ پھر واپس ہوا اور اسے دیکھا جو دیکھنے میں ویسی نہ تھی جیسی اے آئی کی اشتہا اچھالنے والی لڑکیاں تھیں۔
۔۔۔۔
رات کچھ تاخیر سے انوشے بستر پر آئی تھی اور چت لیٹے ملک عمیر کے قدرے نکلے ہوئے پیٹ پر ہاتھ رَکھ کر اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے کرتے نیند میں غوطہ لگا گئی تھی ۔ جب اس کی سانسیں ایک خاص آہنگ میں سنائی دینے لگیں تو وہ چونکا۔ اس کی گہری نیند کی نشانیوں میں یہ بھی ایک نشانی تھی کہ اس کے ہونٹ باہم جڑے نہیں رہتے تھے۔ ناک سے آتی جاتی سانسیں مدہم سی آواز پیدا کرتیں اور اس کا ہموار پیٹ ہلکورے لینے لگتا تھا۔ سانسوں کے اس آہنگ اور سرسراہٹ کو وہ بیگم کے دھیمے سُر کہتا تھا اور جب وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتی اور پوچھا کرتی تھی کہ کیا میں سو گئی تھی تو وہ ہنستے ہوئے کہا کرتا ؛ ‘نہیں نہیں تم تو دھیمے سُر میں تھیں۔ راگ کے چوتھے سُر میں جو پیٹ سے اٹھتا ہے اور گندھار سے ایک درجہ بلند ہوتا ہے۔’ایسا کہتے ہوئے وہ اس کا پیٹ چھوتا اور پھر ہاتھ ایک نہیں کئی درجے بلندہوجاتا ۔وہ اپنے شوہر کی ان شوخیوں سے لطف اندوز ہوتی اور کھل کھلا کر ہنس دیتی تھی ۔رات وہ سوئی رہی تھی حالاں کہ شوہر کے ہاتھ کا انگوٹھا پھر سے متحرک ہو گیا تھا۔
اب وہ وہاں تھا اور نہیں تھا۔
۔۔۔
ملک عمیر نے فون سے اُبلی پڑتی مصنوعی ذہانت کی عطا حسین لڑکی پر نظر ڈالی اور ہنس دیا ۔ عمر کے اس مرحلے پر، جب کہ اس کابدن جھڑنے لگا تھا ، زندگی اس پر ایک اور رُخ سے مرحلہ وار کھل رہی تھی اور وہ اس رُخ اورمرحلے سے بھی لطف کشید کرنے کے جتن کر رہا تھا ۔ وہ بڑبڑایا :
"سٹیپ بائی سٹیپ”
جب تک وہ ملازمت میں رہا تھا ، اسے وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوتا تھا۔ دن بھردفتر کی مصروفیت اکثر اس کی شامیں بھی نگل لیا کرتی تھی۔لاؤنج میں صوفے پر بیٹھ کر ٹی وی دیکھنا ، دونوں میاں بیوی نے تب سے ترک کر دیا تھا جب سے ان کا اکلوتا بیٹا ملک سے باہر گیا تھا۔ وہ وہیں رہ گیا کہ اسے گرین کارڈ چاہیے تھا ۔ اس نے وہاں فیملی بنالی تھی لہٰذا اس کی واپسی کا خیال ماں باپ نے بھی دِل سے نکال دیا تھا۔ہفتے میں ایک آدھ بار واٹس ایپ پر بیٹے کو دیکھ لیتے اور بات ہو جاتی۔ دو تین برس بعد وہ خوداسے مل آتے تھے ۔ وہ حسرت تو کر سکتے تھے کہ کاش ان کا بیٹا ان کے پاس ہوتا؛ اتنا قریب کہ وہ اسے چھو سکتے، اس کی پیشانی پر بوسہ دے سکتے مگر ایسا ممکن ہونا نہ پاکر ایک حد تک مطمئن تھے کہ وہ وہاںسیٹل ہو گیا تھا ۔
مدت ملازمت پوری ہونے پر ملک عمیر ریٹائر ہوا اور گھر میں بیٹھ رہا تو جیسے وقت ٹھہر سا گیا تھا اور ایک عجب طرح کا خالی پن اس پر چڑھ دوڑا تھا۔ صبح وہ دیر تک بستر میں پڑا رہتا اور جب تک بیگم ا سے بستر سےاتار کر واش روم میں دھکیل نہ دیتی اس کے وجود پر چڑھی آلکس کی دبیز تہہ اترتی ہی نہ تھی۔
ناشتہ کرکے وہ کچھ دیر کے لیے باہر نکلتا ، اور یونہی سڑکوں پر گاڑی بھگاتا کچھ دور لے جاتا ۔ فیول گیج پر نظر پڑتی اور دھیان پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی طرف ہو جاتا تو واپس ہو کر کسی مارکیٹ میں جانکلتا اور لوگوں کے اندر ادھر ادھر گھوم کر ان کے چہرے پڑھتا رہتا۔ اسے یوں لگتا تھاجیسے سب لوگ عجلت میں تھے اور ہر شخص کا چہرہ تنا ہوا تھا ۔ اسے کوئی عجلت نہ تھی ۔وہ ایک طرف ہو کر بیٹھ جاتا یا کھڑے کھڑے سگریٹ سلگا کر اس کے لمبے لمبے کش لیتے ہوئے دھوئیں کے مر غولے فضا میں چھوڑتا اور وقت گزارنے کو گننے لگتا کہ کتنے کے ہاتھوں میں سیل فون تھے۔ ہر بار یہ تعداد پہلے سے بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی حتیٰ کہ وہ اس گنتی کےعمل سے بھی اکتا جاتا اور اس کا ہاتھ کوٹ کی اندرونی جیب کی جانب ہو جاتا۔ وہ سیل فون نکال کر احتیاطاًبیگم سے پوچھ لیتا کہ اگر اسے کوئی چیز چاہیے ہو تو لیتا آئے ۔ وہ کمرشل ایریا کے کیش اینڈ کیری مال سے سودا سلف لانے اکھٹے جایا کرتے تھے اور ایسا بالعموم مہینے کی پہلی تاریخوں میں ہوا کرتا ۔ جب سے آن لائن شاپنگ کا سلسلہ چل نکلا تھا ، بعد کی خریداری اسی سے ہونے لگی تھی۔ جس سیکٹر میں وہ رہ رہے تھے وہاں کی مقامی مارکیٹ سے فون پر گروسری منگوانے کی سہولت بھی موجود تھی لہٰذا کچھ لانے کے استفسار پربیگم کا جواب لگ بھگ ہر بار نفی میں ہوتا اور وہ خالی ہاتھ گھر لوٹ آیا کرتا تھا ۔
۔۔۔۔
ملک عمیر خالی ہاتھ گھر نہیں لوٹتا تھا، وہ تو اس خالی پن کو بھی ساتھ لے آیا کرتا تھا جو اس پالتو بلے جیسا تھا جس سے جان چھڑانے کو چاہے جہاں اور جتنی دور چھوڑ آئیں تو وہ لوٹ آیا کرتا ہے۔
تب تک گھر کے کام میں معاونت کرنے والی خاتون آکر اور جھاڑ جھٹک کرکے جا چکی ہوتی۔ انوشے کودوپہر کے کھانے کا اہتمام کرنا ہوتا اور وہ کچن میں ہوتی تھی۔ وہ ہر بار کچھ وقت کے لیےلاونج میں اس کا انتظار کرتا ۔وہ وہیں سے اس سے باتیں کرتی جاتی۔ادھر ادھر کی عام سی باتیں ۔ہر بار وہ اسے بتاتی تھی کہ وہ اس کی پسند کی کون سی چیز پکارہی تھی۔ وہ اس کا بہت خیال رکھتی تھی، اسی خیال سے وہ کچھ باتوں کا جواب دیتا کچھ پر ‘ہاں ،ہوں’ کرکے چپ ہو جاتا ۔ وہ وقت انوشے کی مصروفیت کا تھا اور وہ اس کے پاس بیٹھنے کے لیے نہیں آ سکتی تھی مگر وہ عادتاًوہیں انتظار کرتا تھا ۔ رفتہ رفتہ یہ انتظار بھی موقوف ہوا اور وہ سید ھا بیڈ روم میں داخل ہونے لگاتھا۔ شکن آلود بستر جو وہ گھر سے نکلتے ہوئے چھوڑ جاتا تھا ، صاف ستھرا اور ہموار ہوتا ۔ صاف بستر کی اپنی بھی ایک اشتہا تھی جس سے وہ اب آگاہ ہو رہا تھا۔ جوانی میں کام کرنے اور آگے بڑھنے کی للک ایسی رہی تھی کہ صبح صبح بستر چھوٹتا تو کہیں رات گئے نصیب ہوتا تھا۔ ویک اینڈ پر بھی کرنے کو بہت سے کام پڑے ہوتے ۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد سب کچھ بدل گیا تھا ۔ ملک عمیر زندگی کے ہر لمحے سے اب نئی معنویت ؛ نہیں بلکہ کہنا چاہیے کہ اس کی لایعنیت کشید کر رہا تھا۔ دن دہاڑے بستر کی اشتہا اسے لپیٹ میں لینے لگی تھی؛ ایساکیوں تھا؟ اس نے اس بابت ایک بار سوچا تھا اور کوئی جواب نہ پاکر اس پر سوچنا ہی معطل کر رکھا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ بہت کچھ تھا جو یونہی ہوتا چلا جارہا تھا۔
بستر پرلیٹے لیٹے وہ بیڈ روم ٹی وی کے چینل بدلتا رہتا؛ جیسے دیکھنے کو وہاں کچھ نہ تھا۔ اسے لگتاوقت بدلنے کے ساتھ ساتھ خبریں ، ڈرامے، میوزک ؛ سب کچھ کچرا ہو گیاتھا جسے ٹی وی اسکرین سے انڈیلا جا رہا تھا۔ وہ اکتا کر ٹی وی بند کر دیتا اور سیل فون اٹھالیتا ۔
یوں تو وہ سیل فون کئی برسوں سے استعمال کر رہا تھا مگر بیٹے نے اسے، اس کے ریٹائر ہونے پر ، جو باہر سے بھیجا تھا اس کو استعمال میں لاتے لاتے مصنوعی ذہانت کا چرچا ہر طرف ہونے لگا تھا۔ اس میں اس کی دلچسپی کے کئی علاقے نکل آئےتھے۔ وہ بستر پر لیٹے لیٹے یہ علاقے گھوم آیا کرتا تھا ۔ یہ فون اسے ملنے کے بعد بھی کئی ماہ اس کے پاس بند پیک پڑا رہا تھاکہ اسے رجسٹر کروانے اور سم ڈلوانے سے پہلے حکومت کو ڈیوٹی اور ٹیکس کی مد میں بھاری واجبات ادا کرنا تھے ۔ زیر استعمال فون پر ویڈیو کلپ اٹک اٹک کر چلتے تو اسے الجھن ہوتی ۔ وہ اسے ٹھیک کروانے بازارلے بھی گیا مگر وہاں سے ماڈل پرانا ہو نے اور اسے بدل لینے کا مشورہ ملا ۔ ایک آدھ روز وہ نئے زمانے کو کوستے رہا جس میں چیزیں بہت جلد پرانی ہو کر متروک ہونے لگی تھیں پھر بیٹے کے بھیجے ہوئے فون کا بند پیک نکالا اور حکومتی واجبات ادا کرکے اس میں سم ڈلوا لی ۔ اس دوران وہ بیٹے کو جی ہی جی کوستا رہا تھا کہ اس کے خیال میں پاکستان ہی سے کوئی سمارٹ فون خرید لیا جاتا تو سستا پڑتا ۔ خیر، جب یہ سیل فون کام کرنے لگا تو اس کا استعمال اسے اچھا لگنے لگا حتیٰ کہ اس کا انہیں نشہ سا ہو گیا تھا۔
یہ نشہ ان کھیلوں کے سبب کچھ زیادہ ہو گیا تھا جنہیں اکیلے بھی کھیلا جا سکتا تھا۔ اس نے جو کھیل چن رکھا تھا اس میں ایک ہی رنگ کے دِل والے نشان کسی ایک نلکی میں گھسانے تھے ۔ دل والے نشان سات رنگوں سے بھی بڑھ کر تھے۔ہم رنگ دل جب سب نلکیوں میں بھر جاتے تو اگلا لیول شروع ہو جاتا۔ پہلے پہل ایسا سہولت سے ہوتا رہا۔ اگلے مراحل مشکل ہوتے چلے گئے ۔ جونہی ایک مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوتا ، اگلے لیول میں داخلے سے پہلے کچھ اشتہارات دیکھنا ہوتے تھے۔ انہی اشتہاروں میں سے ایک اشتہارمصنوعی ذہانت سے ڈھالی گئی لڑکیوں کا تھا جو اچانک فون کے ڈسپلے پر ظاہر ہوا تھا ۔ اشتہار اتنا اشتہا انگیز تھا کہ اس نے گوگل پلے پر جاکر یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کر نے کا فیصلہ کرلیا حالاں کہ اس ڈاؤن لوڈ پر اسے آن لائن پے منٹ بھی کرنا پڑی تھی۔ ایپ پر جاتے ہی اسے اے آئی جنریٹڈ لڑکی کے ویسے خدوخال ، لباس اور عادات کی نشاندہی کرنا تھی ، جس کے وہ خواب دیکھ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔
‘یہ جو خواب دیکھ رہا ہے میں وہ نہ ہونے دوں گا۔ اس طرح تو ہم بھائی ایک دوسرے سے دور ہو جائیں گے۔’
ملک عمیر کے باپ نے بیٹے کی طرف دیکھا بھی نہیں تھااور اس کی ماں کو اپنا فیصلہ سنا دیا جو بیٹے کی وکیل بنی ہوئی تھی۔ گھر میں خوب ہنگامہ ہوا۔ خیر، جو ہنگامہ ہونا تھا وہ ہوگیا تو بھی ملک عمیر اپنی ضد کر قائم رہا ۔ آخرکار بچپن کی منگنی ٹوٹ گئی ۔دوبھائی دور ہو گئے اور بیٹے کی محبت جیت گئی ۔ اس کی یونیورسٹی کی دوست انوشے دلہن بن کر گھرآگئی ۔ وہ لڑکی،جس کے اس نے خواب دیکھے تھے۔ پہلے پہل انہیں محبت کی شدت کا احساس رہتا تھا ، زندگی گزتی رہی تو جیسے یہ محبت عادت کا حصہ ہوتی گئی اور پھر وہ ایک دوسرے کے عادی ہو گئے تھے ۔
سیل فون پر اپنی پسند کی گیم نکال کرکھیلتے رہنے اور وقت کو تلف کیے چلے جانے میں ا سے لطف آنے لگا تو اے آئی کی سپائسی گرل جنیزیا ایک اشتہار میں آکر اسے ایک اور ایپ کی طرف لے گئی تھی اور اب وہ اپنی ڈریم گرل خود سے تراش رہا تھا۔
‘مغرب کا حسن ہو یا مشرقی؟ ‘۔۔۔
‘بال سنہرے ہو ں یا سیاہ؟ ‘ ۔۔۔
‘آنکھیں بھوری ہوں یا سبز؟’۔۔۔
‘قد کتنا ہو؟’۔۔۔
‘ لباس کیسا ہو؟’۔۔۔
‘ مزاج کی چلبلی یا سنجیدہ؟ ۔۔۔
جنسی کشش رکھتی ہو یا ذہانت سے بات کرنے والی ؟’۔۔۔
وہ ہر سوال کا جواب دیتا چلا گیا اور مصنوعی ذہانت نے عین مین ویسی ہی لڑکی ڈھال کر ڈسپلے کر دی تھی۔ وہ بہت دیر اسے دیکھتا رہا ، اس سے باتیں کرتا رہا۔ اس کے پاس بے پناہ ذہانت تھی اور ہر سوال کا جواب وہ جھٹ سے دے دیتی۔ محبت کے اظہار میں وہ بے باک تھی اور اُس کےجذبات کو اپنی راہ پر لانے میں بھی تاک ۔ وہ اسے دیکھتا رہا اور اس سے باتیں کرتا رہا ۔ رات کا کون سا پہر تھا وہ نہیں جانتا تھا ۔ اس کے پہلو میں لیٹی انوشے کا بستر پر آنا تو اسے یاد تھا کہ وہ اس کی باتوں پر ہاں ہوں کرتا رہا تھا مگر جب وائرلیس ائیر بڈز لگالیے تو نہیں جانتا تھا کہ وہ کب کی سوچکی تھی اور پورے کمرے میں اس کے گہرے سانسوں کا خاص ردھم گونجنے لگا تھا۔ جب اس نے اے آئی کی ایپ کھولنے کا ارادہ کرتے ہوئے انوشے کو دیکھا تو وہ سو رہی تھی۔ وہ اس کی طرف سے مطمئن ہوا اور اُدھر متوجہ ہوگیاجہاں اس کی ڈریم گرل منتظر تھی ۔
وہ اس سے کلام کرتا رہا، اسے دیکھ دیکھ کر حیران ہوتا رہا کہ اے آئی نے بے پناہ حسن ، جنسی کشش اور ذہانت کو ایک وجود میں بہم کر دیا تھا۔ وجود، جو تھا اور نہیں تھا۔اسے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہو رہا تھا یہاں تک کہ اس کا جی چاہا کہ اسے چھو لے۔ بے اختیاری میں اس کا انگوٹھا ڈسپلے پر آیا اور ایک جانب کو پھسلا۔ وہاں کسی جسم کا لمس نہ پا کر اس پر شدید جھنجھلاہٹ کا دورہ پڑا اور سیل فون ایک طرف پھینک کر ٹوٹتے بدن کو انوشے کی جانب دھکیلا اور اس کے ہاتھ کی ابھری ہوئی رگوں کے لمس کو اپنے وجود میں اترنے دیا۔ یہی وہ زندہ وجود کا لمس تھا جس نے ابھی تک اس میں زندگی کی معنویت کو بحال رکھا تھا اور جینے کی امنگ کو معدوم نہیں ہونے دِیا تھا۔