Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » اکیسویں صدی میں اتارے ہوئے لوگ

اکیسویں صدی میں اتارے ہوئے لوگ

محمد امین الدین

کی طرف سے Ranaayi جنوری 1, 2026
کی طرف سے Ranaayi جنوری 1, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
34

کیا آپ کو یہ یقین ہے کہ ہم لمحہ موجود میں جیتے ہیں؟میرا خیال ہے کہ کم از کم ہم لمحہ موجود میں نہیں جیتے۔ بلکہ ہم اس کے تقاضے بھی پورے نہیں کرتے۔

ہم ماضی پرست قوم ہیں اور اس پر فخر کرنا ہماری زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ماضی پرستی کا ایک نقصان تو یہ ہے کہ ہمارے ہاتھ سے ہمارا ہم عصر جدید عہد چھوٹ رہا ہے اور دوسرا نقصان یہ ہے کہ ہم اپنے مستقبل کے خدوخال مرتب کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوتے چلے جارہے ہیں۔

ماضی پرست کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ شخصیت پرست ہوتا ہے۔ ہر سماجی و تاریخی ضرورت کے مطابق شخصی بت تراشے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت کو معتبر اور منفرد بنانے کے لئے واقعات تشکیل دئیے جاتے ہیں۔

اگر یہ زمینی حقیقت نہیں بھی ہے تو نا جانے کیوں اس بات پر یقین کرنے کو جی چاہتا ہے کہ ہر وہ شخص جو عام فرد سے برتر زندگی گزارتے ہوئے کسی اہم منصب پر فائز ہوتا ہے، وہ نافذ کردہ یعنی پلا نٹیڈ ہوتا ہے ۔ اس کے پیروں میں پہیے کسی اور نے لگائے ہوتے ہیں ۔

اس کا ریموٹ کنٹرول ہمیشہ کسی دور بیٹھے بگ برادر کے ہاتھوں میں ہوتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کبھی کبھی لوگوں کو خود بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں اور اگر کبھی یہ احساس ہوتا بھی ہے تو اقتدار و شہرت اور آسائشوں کی فراوانی کی خواہش اس کی قبولیت کا راستہ پیدا کر دیتی ہے ۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی طرح کے ناجائز راستے کو اپنے لئے جائز ہی سمجھتے ہیں۔ انہیں اس میں کوئی برا ئی نظر نہیں آتی ۔ وہ کسی کا حق مارتے ہوئے نہیں ڈرتے۔ سماج کا نظام بگڑ رہا ہوتا ہے مگر انہیں اس کی پروا نہیں ہوتی ۔ وہ کسی طرح کی اخلاقیات کو نہیں مانتے ۔ اور اگر کہیں سے کوئی آواز ایسی بلند ہوتی ہے جو درست سمت کی نشاندہی کرے تو اسے احمق گردانا جاتا ہے۔

چونکه ہماری پرورش انہی خطوط پر ہوئی ہوتی ہے تو ہمیں اپنی غلطیوں کا ذرہ برابر بھی احساس نہیں ہوتا۔ یہ مسلہ ایک دن کا نہیں بلکہ گذشتہ تین نسلوں کا پیدا کردہ ہے ۔ ہمارے اطراف ایک ان دیکھی طاقت نے پورے سماج کو جکڑا ہوا ہے ۔ یہ ایک مکڑی کے جالے کی یا آکٹوپس کی طرح ہے ۔ یہ کبھی ہم سے جدا رہا ہوگا مگر اب یہ ہماری رگوں میں اتر کر ہماری سماجی نفسیات کا حصہ بن چکا ہے ۔

اگر ہم چاہیں یا یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ہم ایسے کیوں ہیں، توجان لیجیے کہ یہ صدیوں پر محیط سفر ہے ۔ پاکستان کی عمر صدی سے بھی کم ہے مگر یہاں بسنے والوں کی نسلوں کا ایک تسلسل ہے ۔ اس کے درمیان کوئی رخنہ نہیں ہے ۔ اس طرح کے سماجی فیبرک ایک دن میں نہیں بنتے ۔ برسوں بلکہ صدیوں میں بنتے ہیں اور جب ہم اس صدیوں کے سفر کا قدرے بلندی سے تنقیدی و تجزیاتی جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ یہ کسی ایک خطے سے مخصوص نہیں بلکہ بہت دور کے قبائلی نظام سے جڑا ہوا ہے ۔

سماجی ارتقائی سفر میں انسانوں نے بہت کچھ سیکھا اور خود کو تبدیل کیا ہے ۔ جیسے جیسے انسان نے علمی و عقلی شعور حاصل کیا وہ قبائیلی طرز معاشرت سے دور ہوتا چلا گیا ۔ قبائلی طرز زندگی کے بہت سے اصول و ضوابط ایسی قدیم روایات سے جڑے ہوئے ہیں جو بدلنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔ اس کی پہلی اور بنیادی خرابی یہ ہے کہ وہ فرد کی سماجی آزادی کے خلاف ہے ۔ وہاں کوئی ایک فرد مقتدر ہوتا ہے ۔ ساری طاقت اور اختیارات اس فرد واحد میں سمٹ آتے ہیں ۔ وہ اپنے مخصوص گروہ کے ساتھ مل کر قبیلے کے دیگر افراد کی شخصی آزادی چھین لیتاہے ۔ وہ جو بھی فیصلہ کرتا ہے ، سب کو ماننا پڑتا ہے۔ اس کے اقتدار کا کوئی دورانیہ نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ قائم رہنے پر یقین رکھتا ہے ۔اسے وہ لوگ اچھے لگتے ہیں جو اس کی حاکمیت کو من و عن قبول کرتے ہیں، اس کی تعریف کرتے ہیں، اس کے گن گاتے ہیں۔ اس بات کو سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو ایک ہی لفظ سامنے آتا ہے۔

“ شخصیت پرستی “

اس مخصوص طریقے پرہم صدیوں سے عمل کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ہزار طرح کے بدلتے رجحانات و خیالات کے باوجود اس میں کبھی ناکام نہیں ہوئے ۔ مقتدر قوتیں یہاں بسنے والے عوام کی نفسیات سے بہت اچھی طرح آگاہ ہیں ۔ انہیں باشعور،تعلیم یافته ، حقیقت پسند ، سائنسی فکر اور روشن خیال عوام نہیں، بھیڑ بکریاں درکار ہوتی ہیں جن کی آنکھیں صرف وہ دیکھیں جو وہ دکھانا چاہتے ہیں ۔ ان کے کان صرف وہ آواز یں سنیں جو وہ سنانا چاہتے ہیں اور ان کی زبانوں سے صرف وہی لفظ اور جملے ادا ہوں جو وہ خود سننا چاہتے ہیں ۔ لہذا انہوں نے اپنے پھیلائے ہوئے مکڑی کے جالے میں ایسے بہت سے بند و بست کر رکھے ہیں جن کی مدد سے طے شدہ نعرے،مخصوص بیانیه ، گھڑے ہوئے اقوال ، نافذ کردہ طرز معاشرت کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ مخصوص اقدامات فرد کی نشونما کو روک دیتے ہیں اور نسلوں میں اتنی گہرائی تک اتر جاتے ہیں کہ لوگوں کو اس طرز زندگی کے متصادم ہر بات ناگوار گزارتی ہے ۔

عہد گذ شتہ میں شاید سینکڑوں شخصیات ایسی گزری ہیں جن کا نام لیتے ہوئے احترام سے ہمارے ہونٹ کانپنے لگتے ہیں۔ ہم ان کی تقدیس میں ان کے ناموں کے ساتھ سابقے اور لاحقے لگاتے ہیں کہ کہیں گستاخی نہ ہو جائے ۔ ان شخصیات کو بلند مرتبے پر فائز کرنے کے لئے ہزار طرح کے قصے گھڑے اور علم الکلام کی مدد سے انہیں عام کیا گیا، اور پھر ان سے جُڑے محیرالعقول واقعات میں سینہ بہ سینہ سفر کرتے ہوئے غیر معمولی اضافہ ہوتا چلا گیا ۔ رفتہ رفتہ ان قصوں کو جب کتابی شکل دی گئی تو ان کا بھی ڈھیر لگتا چلا گیا۔

آج کی مقتدر قوتوں نے اب اس طرز کو نئے قالب میں ڈھال دیا ہے ۔ اب علم الکلام؛ وی لاگ میں ، ماورائی قصے؛ وڈیوز میں، مجلسیں؛ کا نفرنسوں میں بالکل اسی طرح تبدیل ہو چکی ہیں جس طرح بیل گاڑی کا سفر ہوائی جہاز میں تبدیل ہو گیا ہے ۔

یہ بات ہمیں بہت اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ جدید دنیا سے ہم آہنگی صرف سائنسی آلات کے استعمال سے نہیں پیدا ہوتی۔ اس صلاحیت سے ہم محض کنزیومر سوسائٹی بن گئے ہیں۔ پروڈکٹیو بننے کے لئے کچھ اور ہی راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔

ہمارے طر عملہ سے یہ بات بہت نمایاں ہے کہ ہم ماضی سے براہ راست اکیسویں صدی میں اُتارے گئے لوگ ہیں ۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • امریکہ میں ممدانی اور قرآن
  • امجد اسلام امجد سے ایک ملاقات
  • پنجابی کھوج گڑھ؛ یادگار کارنامہ
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
سفر و حضر کیسی کتاب ہے؟
اگلی تحریر
دو اہم افسانوں کا تذکرہ

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

ایران میں بھوک کا احتجاج

جنوری 6, 2026

میرا کراچی

دسمبر 24, 2025

سوشل میڈیا کے دور میں مطالعہ کیوں کیا جاۓ؟

دسمبر 13, 2025

اسلام، شاعری اور خطابت

دسمبر 19, 2025

دو اہم افسانوں کا تذکرہ

جنوری 2, 2026

ہم اور ہماری سوچیں

دسمبر 31, 2025

پنجابی کھوج گڑھ؛ یادگار کارنامہ

دسمبر 29, 2025

ہماری تفریحی سرگرمیاں

دسمبر 31, 2025

ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب پہلو

دسمبر 29, 2025

امجد اسلام امجد سے ایک ملاقات

جنوری 4, 2026

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 240 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 217 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 213 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 205 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 182 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

    جنوری 11, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

احوال ایران؛ چند فکری زاویے

جنوری 9, 2026

ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب...

دسمبر 29, 2025

امجد اسلام امجد سے ایک ملاقات

جنوری 4, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here