Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » امین معلوف؛ ایک عرب آواز

امین معلوف؛ ایک عرب آواز

رابرٹ فسک / آصف فرخی

کی طرف سے Ranaayi جنوری 15, 2026
کی طرف سے Ranaayi جنوری 15, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
10

مغربی اتحاد نیٹو کے جو ایڈمرل طرابلس کے درندے سے مقابلہ کر رہے ہیں، ان میں سے کتنوں کو اپنے خطاب کی اصل کا احساس ہے؟ ایڈمرل فرانسیسی کے لفظ ‘امیرل’ سے آیا ہے جو عربی کے ‘امیر البحر’ سے آیا ہے۔ ہمارا اپنا فقرہ ‘فرسٹ سی لارڈ’ اصل کو خوبی کے ساتھ گرفت میں لے آتا ہے۔ پھر ہسپانوی سورما ایل سڈ عربی کے السید سے آیا ہے۔ ہم لیمن سوربٹ کھاتے ہیں جو عربی کے شربت سے آیا ہے۔ ہم میٹرس پر لیٹتے ہیں جو عربی کے مترہ سے ماخوذ ہے۔ اسی طرح اور مثالیں ہیں۔

امین معلوف الفاظ کے اس علم کے وسیع تر مطالعے کا وعدہ کر رہا ہے جب وہ لافانی افراد کے نئے رکن کی حیثیت سے حال ہی میں پیرس میں اکادمی فرانسے کا رکن منتخب ہوا ہے۔ وہ اپنی عرب یوروپی ثقافت کو اس ادارے کے ہفتہ وار اجلاس میں خوبی کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ اگر فرانسیسیوں نے برقعے پر پابندی لگا دی تو انہیں یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ matraque عربی کے متراق سے ماخوذ ہے۔ معلوف، برطانیہ کی بانسبت فرانس میں زیادہ معروف ہے، حالاں کہ بہت سے لوگوں نے اس کے شان دار ناولوں کو پسند کیا ہے ، جن میں ‘تانیوس کی چٹان’ بھی شامل ہے جو لبنان کے پہاڑی علاقوں میں فرقہ پرستی اور نو آبادیاتی مداخلت کا تکلیف دہ سنجیدہ اور واقعاتی طور پر درست احوال ہے۔

اس کے برخلاف میں سمجھتا ہوں کہ اس کا سب سے عمدہ کام ‘عربوں کی نظر میں صلیبی جنگیں’ ہے جو تہذیبوں کے درمیان پہلی جنگ کا غیر افسانوی احوال ہے اور یوروپی مآخذ کے بجائے عربی مآخذ پر مبنی ہے۔ اس کتاب نے آشکار کیا کہ شام کے شہر حمص کے نزدیک عیسائیت کے فاقہ زدہ نائٹس نے اپنے مردہ مسلمان دشمنوں کو اپنی خوراک بنا لیا۔ شام کے صدر اسد کے نوجوان لڑکوں نے بھی ایسی حرکت نہیں کی۔

اب معلوف مزید غیر افسانوی کام کے ساتھ سامنے آئے ہیں، ان کی نئی کتاب کا نام ہے ‘منتشر دنیا؛ اکیسویں صدی کے لیے نئے راستے کا تعین’ اور مجھے ان کی شہرت کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ نیو یارک ٹائمز نے اس میں ہوا بھرتے ہوئے ان کو عرب دنیا کی وہ صاف، پُرسکون، واضح اور مدلل آواز قرار دیا مغرب کو جس کا انتظار تھا ۔ مگر پوری طرح نہیں۔ معلوف جو میرو نائٹ عیسائی ہیں اور پچھلے 30 برس سے خود ساختہ جلا وطنی میں پیرس میں رہ رہے ہیں، یہ تسلیم کرتے ہیں کہ میں مسلمانوں کے معاملات کا ماہر نہیں ہوں بلکہ اسلام کا عالم تو ہرگز نہیں۔

شاید اسی وجہ سے مشرق وسطی کے بارے میں ان کا نظریہ چکرا دینے والا مگر گہرے نقص کا حامل ہے۔ جب وہ کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے توازن کے خاتمے نے ایسی دنیا تخلیق کر دی ہے جس کے اعصاب پر دہشت گردی سوار ہے تو میں اس سے اتفاق ہی کر سکتا ہوں۔ مگر جب وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ امیر یا غریب، متکبر و مغرور یا پسمانده، قابض ہونے والے یا مقبوضہ، وہ سب ، ہم سب اسی کم زور کشتی پر سوار ہیں اور ہم سب ایک ساتھ ہی ڈوبے چلے جا رہے ہیں تو میں اس پر یہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ بکواس ہے۔

وہ فلسطینی جن پر اسرائیل قابض ہو گیا ہے اور وہ اسرائیلی جو مغربی کنارے پر قابض ہیں، ایک ہی کم زور کشتی پر سوار نہیں ہیں۔ ایک گروہ جیت گیا ہے (فی الوقت ) ۔ دوسرا گروہ شکست کھا چکا ہے۔ اصل سوال فلسطین کے سیاق و سباق میں یہ ہے کہ کیا اسرائیلی اس زمین پر چوری چھپے قبضہ بند کر دیں گے جو فلسطینیوں کی ہے اور جس پر وہ تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صرف اسرائیل والوں کے لیے نو آبادیاں بنائے چلے جا رہے ہیں۔

یہ بات غور طلب ہے اور معلوف ایسا نہیں کرتا کہ 1983ء میں جب وہ ایک لبنان وفد کا رکن تھا جس نے امین گمائیل کی طرف سے اسرائیل کا دورہ کیا تھا جب لبنانی صدر امریکا کی اس بے ثمر خواہش کے ساتھ چل رہے تھے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن معاہدہ ہو جائے۔ معلوف نے ان نقصانات کا جائزہ لیا جو فلسطینی کاتیوشا راکٹوں کی وجہ سے یہودی قصبے کریت شمونا میں ہوئے ۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ آخر کیوں اس نے اپنے آپ کو دونوں فریقوں کا نقصان والے رویے میں دفن کر لیا، مگر اس میں ایک اخلاقی اور سبق آموز پہلو بھی ہے جو معلوف کی تحریروں سے مفقود نظر آتا ہے۔ 1982ء میں فلسطینیوں نے اسرائیل میں جو کیا تھا، اس کے مقابلے میں لبنان

کے اندر اسرائیلیوں نے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا تھا (17,500سے زیادہ افراد ہلاک، جن میں سے اکثر عام شہری تھے۔ )

جب جمہوریت کی بات آتی ہے تو معلوف ہمیں بتاتا ہے کہ وہ ایسی جمہوری مملکتوں کو کم ہی جانتا ہے جو امریکا سے بہتر کام کر ہی ہوں۔ کیا واقعی؟ اور جب وہ اپنے آپ سے سوال کرتا ہے کہ پچھلے چند عشروں میں امریکیوں اور اسرائیلیوں پر دنیا کی موجودہ بربادی اور زوال کی خاص طور پر زیادہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ، تو اس کا جواب کہ غالباً کافی نہیں۔

لیکن وہ دوستانہ مزاج کا آدمی ہے۔ میں اس سے پہلی بار کئی برس پیش تر ملا تھا، تانیوس کی چٹان کی اشاعت کے فوراً بعد اور اوائل موسم گرما میں میتن کے دھند بھرے پہاڑی علاقوں میں واقع ایک خانقاہ میں جو ایک تباہ کن مشروب ناشتے کے ساتھ پیش کیا کرتی تھی۔ قدرے فربہی مائل اور خوش مزاج معلوف اسی طرح نظر آتا تھا جیسا کہ وہ ہے: ایک عظیم ادیب۔ مگر سیاسی حیوان کی حیثیت سے وہ بعض اوقات اکتا دینے والا لاٹ پادری معلوم ہوتا ہے۔ میرا گہرا عقیدہ یہ ہے ، وہ ہمیں بتاتا ہے ، کہ اس بات پر ضرورت سے زیادہ زور دیا جاتا ہے کہ مذہب کا عوام پر کیا اثر پڑا، بجائے اس کے کہ عوام کا مذہب پر کیا اثر پڑا۔ یہ لافانی افراد کو تو متاثر کر سکتا ہے مگر مجھے شک ہے کہ عام افراد کو نہیں ۔ لیکن چلیے ہم اس شخص سے زیادہ سختی نہ برتیں۔

کوئی بھی سنجیدہ مبصر ایسا کہیں ہے، وہ لکھتا ہے، جس نے ان اجلاسوں کی دستاویزات کا جائزہ لیا ہے جن میں (2003 میں عراق میں ) جنگ کا فیصلہ کیا گیا تھا، معمولی سا بھی دستاویزی ثبوت پیش کر سکا ہے کہ جنگ کا اصل مقصد عراق میں جمہوریت کی بحالی تھا۔ اس کے برخلاف امریکا نے سیاسی نمائندگی کا ایسا نظام تیار کیا جو مذہبی یا نسلی بنیادوں پر مبنی تھا۔ یہ بات کہ عظیم امریکی جمہوریت نے عراقی عوام کو فرقہ پرستی کا یہ تقدس مآب زہر آلود تحفہ پیش کیا۔ شرم ناک اور غصے کے لائق ہے۔“

اور پھر معلوف کی زبردست تبدیلی ۔ وہ یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہے کہ مغربی جمہوریتوں کا سرغنہ اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا مصر، سعودی عرب، پاکستان میں جمہوری حکومتوں کی نموداری کی امداد بھی کی جائے۔ لیکن یہ شان دار خیال بھی جلد بھلا دیا گیا۔ ابراہم لنکن کا دیس اس نتیجے پر پہنچا کہ اس بات میں کہیں زیادہ خطرہ ہے اگر آزادانہ انتخابات ہوئے اور وہ ریڈیکل خیالات کے لوگوں کو اقتدار میں لے آئے۔۔۔ جمہوریت کو انتظار کرنا پڑے گا۔

آئیے امید رکھیں کہ دوسرے لافانی افراد اس بات کو توجہ سے سن لیں گے۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • جہان بیدل ؛ چند تاثرات
  • تیرے بعد تیری بتیاں
  • ہم نامی کا مغالطہ
  • عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا/ عاصم کلیار
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
روشنی (کہانی)

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

برنے کی کہانی ، اسید سلیم شیخ کی زبانی

جنوری 9, 2026

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا/ عاصم کلیار

جنوری 8, 2026

سفر و حضر کیسی کتاب ہے؟

جنوری 1, 2026

ہم نامی کا مغالطہ

دسمبر 8, 2025

جہان بیدل ؛ چند تاثرات

دسمبر 29, 2025

تیرے بعد تیری بتیاں

دسمبر 25, 2025

‘میرا داغستان جدید’ پڑھتے ہوئے

دسمبر 26, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • امین معلوف؛ ایک عرب آواز
  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 240 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 217 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 213 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 205 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 182 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (8)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • امین معلوف؛ ایک عرب آواز

    جنوری 15, 2026
  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (8)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

سفر و حضر کیسی کتاب ہے؟

جنوری 1, 2026

برنے کی کہانی ، اسید سلیم...

جنوری 9, 2026

‘میرا داغستان جدید’ پڑھتے ہوئے

دسمبر 26, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here