قافیے کی اصل بنیاد تو صوت ہی ہوتی ہے۔شاعری تو عبارتی زبان کی ابتدا سے پہلے بھی ہو رہی تھی۔اس کا تعلق بولنے اور سننے کے ساتھ تھا۔چنانچہ ہم صوت الفاظ یا حروف اور ان کی حرکات کی ہم آوازی ہی قافیے کا واحد جواز تھا۔اور لکھی ہوئی زبان میں بھی قافیے کا یہی جواز چلتا رہا۔ اردو نے بھی قافیے کی صوتی اصل ہی کو بنیاد بنایا۔البتہ استثنائی طور پر کبھی کبھار کچھ شاعروں کے ہاں صورتی قوافی کے استعمال کی مثالیں بھی مل جاتی ہیں۔مثال کے طور پر میر کی یہ اشعار دیکھیے:
گرچہ سردار مزوں کا ہے امیری کا مزہ
چھوڑ لذت کے تئیں لے تو فقیری کا مزہ
لوہو پیتے ہی مرا اشک نہ منھ کو لاگا
بوسہ جب لے ہے ترے ہونٹ کی بیری کا مزہ
گلیوں میں جب تلک تو مذکور ہے ہمارا
افسانۂ محبت مشہور ہے ہمارا
مقصود کو تو دیکھیں کب تک پہنچتے ہیں ہم
بالفعل اب ارادہ تا گور ہے ہمارا
اس بے گنہ کے قتل میں اب دیر مت کرو
جو کچھ کہ تم سے ہو سکے تقصیر مت کرو
دلی میں اب کے آ کر ان یاروں کو نہ دیکھا
کچھ وے گئے شتابی کچھ ہم بھی دیر آئے
کیا خوبی اس چمن کی موقوف ہے کسو پر
گل گر گئے عدم کو مکھڑے نظیر آئے
شکوہ نہیں جو اس کو پروا نہ ہو ہماری
دروازے جس کے ہم سے کتنے فقیر آئے
عمرِ دراز کیونکر مختارِ خضر ہے یاں
اک آدھ دن میں ہم تو جینے سے سیر آئے
ان قوافی کو دیکھ کر یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امیری، فقیری اور بیری؛ مذکور، مشہور اور گور؛ خیر اور تقصیر؛ دیر، سیر، نظیر اور فقیر کے قوافی میں صوت کی بجائے لفظ کی املائی ہم صورتی کو بنیاد بنایا گیا۔یعنی صرف بصری مماثلت کو کافی جانا گیا۔اس میں قافیے کی اصل بنیاد (صوتی ہم آہنگی) سے انحراف کیا گیا۔اگر اسے اس زمانے میں گوارا بھی کر لیا گیا ہو تو یہ الگ بات ہے۔قافیے کی صوتی شرط تو پوری نہ ہو سکی۔اس لیے یہ انحراف تسلسلِ روایت کا حصہ نہ بن سکا۔غالب نے بھی ایک آدھ غزل میں جو اردو کی روایت سے ہٹ کر قوافی باندھے،طرف دارانِ غالب کی جانب سے ان الفاظ کا جو صوتی جواز فارسی یا پنجابی زبان کی صوتی ادائیگی سے لایا جاتا ہے وہ اس لیے زیادہ جان دار نہیں ہے کہ ہر زبان دوسری زبانوں سے مستعار لیے ہوئے الفاظ کا جو تلفظ اختیار کر لیتی ہے وہی معیاری ٹھہرتا ہے۔جیسے عربی دوسری زبانوں کے الفاظ کی تعریب کر لیتی ہے اور فارسی تفریس کر لیتی ہے ویسے ہی اردو جن لفظوں کی تارید کر لیتی ہے وہی تلفظ رواج پا جاتے ہیں۔پھر ان الفاظ کا اوریجنل تلفظ با حوالہ نہیں رہتا۔
جیسے ہندی کا سُورج اردو میں سُورَج ہو گیا،مَنتر مَنتَر ہوگیا اور عربی کا جَذَبَہ جَذبَہ ہو گیا۔اس لیے اغلب یہ ہے کہ غالب نے بھی میر کی طرح صوتی کی بجائے صورتی قوافی ہی برتے ہوں۔اس نکتے کی وضاحت کے لیے غالب کی یہ غزل دیکھیے۔
دہر میں نقشِ وفا وجہِ تسلی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
نہ ہوئی ہم سے رقمِ حیرتِ خطِّ رخِ یار
صفحۂ آئینہ جولاں گہِ طوطی نہ ہوا
سبزۂ خط سے ترا کاکلِ سرکش نہ دبا
یہ زمرد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا
میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوں
وہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
دل گزر گاہِ خیالِ مے و ساغر ہی سہی
گر نفَسِ جادہِ سرمنزلِ تقویٰ نہ ہوا
ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھی
گوشِ منت کشِ گلبانگِ تسلّی نہ ہوا
کس سے محرومیِ قسمت کی شکایت کیجیے
ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں، سو وہ بھی نہ ہوا
وسعتِ رحمتِ حق دیکھ کہ بخشا جائے
مجھ سا کافر کہ جو ممنونِ معاصی نہ ہوا
مر گیا صدمۂ یک جنبشِ لب سے غالبؔ
ناتوانی سے حریفِ دمِ عیسیٰ نہ ہوا
اس غزل میں تقویٰ اور عیسیٰ کے قوافی بھلے فارسی میں عیسی اور تقوی کی صوت میں بھی رائج ہوں مگر اردو روایت میں ان کا یہ تلفظ متداول نہیں ہے۔مگر صورتی قوافی کے عارضی رجحان کے تناظر میں ان قوافی کو صورتی قوافی تصور کریں تو یہ جواز نسبتاً قرینِ قیاس ہو جاتا ہے۔ اس ضمن میں غالب کی ایک اور غزل دیکھیں۔
عشق تاثیر سے نومید نہیں
جان سپاری شجرِ بید نہیں
سلطنت دست بدست آئی ہے
جامِ مے خاتمِ جمشید نہیں
ہے تجلی تری سامانِ وجود
ذرہ بے پرتوِ خورشید نہیں
رازِ معشوق نہ رسوا ہو جائے
ورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں
گردشِ رنگِ چمن سے ڈر ہے
غمِ محرومیِ جاوید نہیں
کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ
ہم کو جینے کی بھی امید نہیں
صوتی حوالے سے دیکھا جائے تو اس غزل کے مطلعے ہی سے طے ہو جاتا ہے کہ نومید،خورشید اور امید کو بید اور بھید کی صوت پر باندھا گیا ہے۔اب اگر فارسی میں خورشید، نومید اور امید کے الفاظ کا بید اور بھید کی صوت پر باندھنا بھی روا ہو تو ان کی یہ صوت اردو میں متداول نہیں ہے۔ لہٰذا صوتی قوافی کے اعتبار سے یہ دلیل اتنی بر محل نہیں رہتی۔البتہ یہاں بھی غالب امکان یہی ہے کہ غالب نے صورتی قافیے کے رجحان ہی میں ایسا کیا ہو۔چنانچہ یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ غالب مخالف اصحاب نے بھی صورتی قوافی کے اس عصری رجحان کے پیشِ نظر غالب کے ایسے انحرافات پر انگلی نہ اٹھائی ہو۔البتہ ہم دیکھتے ہیں کہ قوافی کی اصل صوتی بنیاد سے ہٹا ہوا صورتی قوافی کا یہ رجحان زندہ اردو شعری روایت کا حصہ نہیں بن سکا۔اس کے بر عکس جواز، ناراض،الفاظ اور شاذ؛ احساس اور خاص؛ ثبوت اور حنوط کے صوتی قوافی باندھے جا رہے ہیں۔ اس لیے کہ اردو میں ز،ض،ظ اور ذ؛ س اور ص؛ ط اور ت کی آوازوں میں فرق نہیں کیا جاتا۔ہر زبان کی اپنی روایت اور مزاج ہوتا ہے۔کسی ایک زبان پر دوسری زبان کے اصول لاگو نہیں کیے جا سکتے۔