Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے

اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے

تبصرہ: محمد امین الدین

کی طرف سے Ranaayi جنوری 10, 2026
کی طرف سے Ranaayi جنوری 10, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
48

ہم جوں ہی پانچ دہائیوں سے افسانے کے سنگھاسن پر ساحری کرنے والے فسوں گر تخلیق کار اخلاق احمد کے قلم سے تراشیدہ طلسم کدہ میں داخل ہوتے ہیں جو بھیدوں بھرا ہے، ہمارا سامنا خوابوں سے ہوتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ خوابوں سے زیادہ بھید کہاں ہو سکتے ہیں ۔

اخلاق احمد صاحب کے افسانوں کا مجموعہ جانے پہچانے جب شائع ہوا تو ہم نے یہ جانا کہ ان کی کہانیوں کے کردار ، واقعات اور وہ دنیا جو ان کے کرداروں کے ارد گرد پھیلی ہوئی ہے، دہ جانی پہچانی ہے اور یہ بات کچھ غلط بھی نا تھی۔ مگر اس بار انہوں نے قاری کو بتایا کہ تم میری تخلیقی دنیا کو اتنی آسانی سے سمجھ میں آنے والی دنیا مت سمجھو۔یہاں ہر کردار کئی پرتیں لئے ہوئے ہے ۔ ان واقعات کی تہہ میں کچھ اور بھی پوشیدہ ہے جو آسانی سے ظاہر نہیں ہوتا ۔ گہرائی میں اُترے بغیر انہیں سمجھنا بہت مشکل ہے ۔

کردار اپنی بُنت میں ، واقعات اپنے بیانیے میں اور ان سے جُڑے سارے قصے اپنی کرافٹنگ میں بھید بھرے ہیں۔ ان کہانیوں میں جو رشتوں اور تعلقات کا جال پھیلا ہوا ہے وہ بھید بھرا ہے ۔ یہاں بسنے والے جو بظاہر سادہ اورسہج گفتگو کررہے ہیں، وہ بھیدوں بھری ہے۔ یعنی اس طلسم کدہ کی پوری تخلیقی دنیا بھید بھری ہے اور اسے اخلاق احمد نامی فسوں گر نے اپنے پُر قوت قلم سے کاغذ پر اُتارا ہے۔

ہم جب اس سحر انگیز دنیا کے اسیر ہوتے ہیں تو فورا” یہ احساس ہو جاتا ہے کہ ان افسانوی راہوں سے گزرنے والے کو اپنی تمام تر حسیات ایک نقطے پر مرکوز کرنا بے حد ضروری ہے، کیونکہ یہاں قدم قدم پر کشمکش اور پیچیدگیاں راستے میں آتی ہیں، لہذا جہاں کہانی پر دھیان لازم ہے، وہیں کہانی میں موجود کرداروں کی نفسیات، ان کی زندگی میں در آنے والے اُتار چڑھاؤ کو اگر ناسمجھا تو یہ قاری کے ہاتھوں سے پھسل جائیں گے ۔

اگر میں اردو زبان و ادب کے پیرائے میں سمجھانے کی کوشش کروں تواس کا مطلب یہ ہے کہ اخلاق احمد کے افسانے تربیت یافتہ قاری کے موجود ہونے کا تقاضا کرتے ہیں ۔ ان کے افسانوں کی یہ بنیادی شرط ہے۔

اخلاق احمد کے بیشتر افسانے کرداری افسانے ہیں۔ ایسا بہت واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ وہ اپنے کرداروں کی تشکیل و بُنت پر بہت محنت کرتے ہیں۔ ان کے کردار اپنی تمام تر انفرادیت کے باوجود اکیلے نہیں ہوتے بلکہ وہ بھرے پُرے اس سماج کا حصہ بن جاتے ہیں جو ان کرداروں کے چاروں طرف پھیلا ہواہے ۔ وہ اپنے کردار کے گرد پوری دنیا تخلیق کرتے ہوئے اسے روزمرہ زندگی کا حصہ بنا ڈالتے ہیں۔ یہ کردار کسی ملک، شہر ، علاقے، سڑکیں، گلیاں، بازار، چھوٹے بڑے مکانوں، دکانوں، فلیٹوں کی اُترتی چڑھتی سیڑھیوں، گزرگاہوں پر زندگی کا بوجھ ڈھوتے ، دکھ و مسرت کااحساس لئے اور لاحاصلی کا عذاب کاندھوں پر اٹھائے چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے جملوں میں زندگی کا فلسفہ اتنی آسانی سے بیان کر جاتے ہیں کہ رشک آتاہے ۔

اخلاق احمد کے بنائے ہوئے کرداروں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ انسانیت پر یقین رکھتے ہیں۔ دوسروں کے کام آتے ہیں، محبت کرتے ہیں ۔ ایسی محبت جو کبھی کبھی عشق کے اعلی درجے تک جا پہنچتی ہے ۔وہ خود سرشار ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی سرشار کرتے ہیں۔ وہ کامی حرامی کا کامی ہو، صحرا میں سفینہ کی سفینہ ہو، ایک تھا رستم کا رستم ہو، سلطانہ کی کھڑکی کی سلطانہ ہو، عرش والیاں کی راحیلہ اور سارہ ہوں، دنیا کی حسین ترین عورت کی ستارہ ہو، ڈیڈی کا جنازہ کا عاصم ہو یا بی بی اکیلی ہے کے بینش اور اکرام۔ یہ تمام کردار بہت ہی محنت سے تراشے گئے ہیں، مگر یہاں میں ایک کردار کا ذکر خاص طور سے کرنا چاہوں گا، وہ سینئر افسانہ نگار والے افضل بالم ہیں ۔

دوستو ! ایک بار اس افسانے کو پوری توجہ سے پڑھ لیجئے، آپ کو ایسا لگے گا کہ اخلاق احمد صاحب نے کاغذ پر کردار کو نہیں اُتارا بلکہ جیتا جاگتا شخص ہمارے سامنے پیش کر دیا ہے۔ معصوم اور بے ضرر۔ یہ ان بہت سے افسانوں میں سے ایک ہے جو آخری سطر تک آتے آتے قاری کو بے ساختہ واہ کہنے پر مجبور کردیتے ہیں۔

اخلاق احمد کے افسانوں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ سماجی حقیقتوں اور اطراف میں پھیلی ہوئی سچائیوں کو بیان کرنے کے لئے افسانے کی گُتھی ہوئی پوشاک میں بے محل خطابات کی پیوندکاری نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے کرداروں کے درمیان مکالموں کے ذریعے ان غیر معمولی حقیقتوں کا انکشاف نہایت روانی سے یوں کرتے چلے جاتے ہیں کہ وہ افسانے کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ اگر قاری سماج سے جُڑا ہوا ہے تو بہت آسانی سے اس کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے ۔

اخلاق صاحب نے پانچ دہائیوں میں جتنا بھی ادب تخلیق کیا ہے اس کی روشنی میں یہ بات بہت آسانی سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ ایک مکمل افسانہ نگار ہیں۔اُن کے بیش تر افسانوں کو پڑھتے ہوئے،ان کی بنائی ہوئی طلسماتی دنیا کی سیر کرتے ہوئے ، اور ان کے کرداروں کے ساتھ زندگی جیتے ہوئے یہ پوچھنے کو جی کرتا ہے کہ اخلاق بھائی ! کیسے لکھ لیتے ہو یہ سب کچھ؟

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • انجنہاری کی گھریا؛ ایک مطالعہ
  • دمشق 680ء
  • رومی سے ماخوذ ایک اردو نظم
  • ونود کمار شکل کا انتقال؛ مع تعارف اور چند نظموں کے تراجم
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
احوال ایران؛ چند فکری زاویے
اگلی تحریر
ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

آدمی (افسانہ)

دسمبر 28, 2025

ایک نئی زبان کیوں سیکھی جائے؟

دسمبر 11, 2025

شعری مجموعہ ‘گلِ دوگانہ’

دسمبر 19, 2025

اروندھتی کی نئی کتاب؛ چند باتیں

دسمبر 20, 2025

نصیر احمد ناصر کی دو نظمیں

جنوری 9, 2026

رومی کے چند اشعار

فروری 1, 2026

ونود کمار شکل کا انتقال؛ مع تعارف اور چند نظموں...

دسمبر 23, 2025

صوفیوں کا استاد رنِد

دسمبر 8, 2025

بےمثل عربی دان محمد کاظم اور ایک کتاب

دسمبر 18, 2025

محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

دسمبر 8, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 280 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 265 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 255 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 227 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

غالب کے چند فارسی شعر مع...

دسمبر 28, 2025

صوفیوں کا استاد رنِد

دسمبر 8, 2025

تخلیقی فرصت

دسمبر 8, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here