ہم جوں ہی پانچ دہائیوں سے افسانے کے سنگھاسن پر ساحری کرنے والے فسوں گر تخلیق کار اخلاق احمد کے قلم سے تراشیدہ طلسم کدہ میں داخل ہوتے ہیں جو بھیدوں بھرا ہے، ہمارا سامنا خوابوں سے ہوتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ خوابوں سے زیادہ بھید کہاں ہو سکتے ہیں ۔
اخلاق احمد صاحب کے افسانوں کا مجموعہ جانے پہچانے جب شائع ہوا تو ہم نے یہ جانا کہ ان کی کہانیوں کے کردار ، واقعات اور وہ دنیا جو ان کے کرداروں کے ارد گرد پھیلی ہوئی ہے، دہ جانی پہچانی ہے اور یہ بات کچھ غلط بھی نا تھی۔ مگر اس بار انہوں نے قاری کو بتایا کہ تم میری تخلیقی دنیا کو اتنی آسانی سے سمجھ میں آنے والی دنیا مت سمجھو۔یہاں ہر کردار کئی پرتیں لئے ہوئے ہے ۔ ان واقعات کی تہہ میں کچھ اور بھی پوشیدہ ہے جو آسانی سے ظاہر نہیں ہوتا ۔ گہرائی میں اُترے بغیر انہیں سمجھنا بہت مشکل ہے ۔
کردار اپنی بُنت میں ، واقعات اپنے بیانیے میں اور ان سے جُڑے سارے قصے اپنی کرافٹنگ میں بھید بھرے ہیں۔ ان کہانیوں میں جو رشتوں اور تعلقات کا جال پھیلا ہوا ہے وہ بھید بھرا ہے ۔ یہاں بسنے والے جو بظاہر سادہ اورسہج گفتگو کررہے ہیں، وہ بھیدوں بھری ہے۔ یعنی اس طلسم کدہ کی پوری تخلیقی دنیا بھید بھری ہے اور اسے اخلاق احمد نامی فسوں گر نے اپنے پُر قوت قلم سے کاغذ پر اُتارا ہے۔
ہم جب اس سحر انگیز دنیا کے اسیر ہوتے ہیں تو فورا” یہ احساس ہو جاتا ہے کہ ان افسانوی راہوں سے گزرنے والے کو اپنی تمام تر حسیات ایک نقطے پر مرکوز کرنا بے حد ضروری ہے، کیونکہ یہاں قدم قدم پر کشمکش اور پیچیدگیاں راستے میں آتی ہیں، لہذا جہاں کہانی پر دھیان لازم ہے، وہیں کہانی میں موجود کرداروں کی نفسیات، ان کی زندگی میں در آنے والے اُتار چڑھاؤ کو اگر ناسمجھا تو یہ قاری کے ہاتھوں سے پھسل جائیں گے ۔
اگر میں اردو زبان و ادب کے پیرائے میں سمجھانے کی کوشش کروں تواس کا مطلب یہ ہے کہ اخلاق احمد کے افسانے تربیت یافتہ قاری کے موجود ہونے کا تقاضا کرتے ہیں ۔ ان کے افسانوں کی یہ بنیادی شرط ہے۔
اخلاق احمد کے بیشتر افسانے کرداری افسانے ہیں۔ ایسا بہت واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ وہ اپنے کرداروں کی تشکیل و بُنت پر بہت محنت کرتے ہیں۔ ان کے کردار اپنی تمام تر انفرادیت کے باوجود اکیلے نہیں ہوتے بلکہ وہ بھرے پُرے اس سماج کا حصہ بن جاتے ہیں جو ان کرداروں کے چاروں طرف پھیلا ہواہے ۔ وہ اپنے کردار کے گرد پوری دنیا تخلیق کرتے ہوئے اسے روزمرہ زندگی کا حصہ بنا ڈالتے ہیں۔ یہ کردار کسی ملک، شہر ، علاقے، سڑکیں، گلیاں، بازار، چھوٹے بڑے مکانوں، دکانوں، فلیٹوں کی اُترتی چڑھتی سیڑھیوں، گزرگاہوں پر زندگی کا بوجھ ڈھوتے ، دکھ و مسرت کااحساس لئے اور لاحاصلی کا عذاب کاندھوں پر اٹھائے چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے جملوں میں زندگی کا فلسفہ اتنی آسانی سے بیان کر جاتے ہیں کہ رشک آتاہے ۔
اخلاق احمد کے بنائے ہوئے کرداروں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ انسانیت پر یقین رکھتے ہیں۔ دوسروں کے کام آتے ہیں، محبت کرتے ہیں ۔ ایسی محبت جو کبھی کبھی عشق کے اعلی درجے تک جا پہنچتی ہے ۔وہ خود سرشار ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی سرشار کرتے ہیں۔ وہ کامی حرامی کا کامی ہو، صحرا میں سفینہ کی سفینہ ہو، ایک تھا رستم کا رستم ہو، سلطانہ کی کھڑکی کی سلطانہ ہو، عرش والیاں کی راحیلہ اور سارہ ہوں، دنیا کی حسین ترین عورت کی ستارہ ہو، ڈیڈی کا جنازہ کا عاصم ہو یا بی بی اکیلی ہے کے بینش اور اکرام۔ یہ تمام کردار بہت ہی محنت سے تراشے گئے ہیں، مگر یہاں میں ایک کردار کا ذکر خاص طور سے کرنا چاہوں گا، وہ سینئر افسانہ نگار والے افضل بالم ہیں ۔
دوستو ! ایک بار اس افسانے کو پوری توجہ سے پڑھ لیجئے، آپ کو ایسا لگے گا کہ اخلاق احمد صاحب نے کاغذ پر کردار کو نہیں اُتارا بلکہ جیتا جاگتا شخص ہمارے سامنے پیش کر دیا ہے۔ معصوم اور بے ضرر۔ یہ ان بہت سے افسانوں میں سے ایک ہے جو آخری سطر تک آتے آتے قاری کو بے ساختہ واہ کہنے پر مجبور کردیتے ہیں۔
اخلاق احمد کے افسانوں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ سماجی حقیقتوں اور اطراف میں پھیلی ہوئی سچائیوں کو بیان کرنے کے لئے افسانے کی گُتھی ہوئی پوشاک میں بے محل خطابات کی پیوندکاری نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے کرداروں کے درمیان مکالموں کے ذریعے ان غیر معمولی حقیقتوں کا انکشاف نہایت روانی سے یوں کرتے چلے جاتے ہیں کہ وہ افسانے کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ اگر قاری سماج سے جُڑا ہوا ہے تو بہت آسانی سے اس کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے ۔
اخلاق صاحب نے پانچ دہائیوں میں جتنا بھی ادب تخلیق کیا ہے اس کی روشنی میں یہ بات بہت آسانی سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ ایک مکمل افسانہ نگار ہیں۔اُن کے بیش تر افسانوں کو پڑھتے ہوئے،ان کی بنائی ہوئی طلسماتی دنیا کی سیر کرتے ہوئے ، اور ان کے کرداروں کے ساتھ زندگی جیتے ہوئے یہ پوچھنے کو جی کرتا ہے کہ اخلاق بھائی ! کیسے لکھ لیتے ہو یہ سب کچھ؟