وہی حرکت زمیں کی ہے
وہی بادل فضا میں ہیں
سماں بدلا نہیں اب تک
مدار اس کا گُماں تک ہے
وہ دن أیا نہیں أب تک
تمہیں پایا نہیں اب تک
کشش کیا خون میں ہے
خون کرنے سے نہیں تھکتے
پہاڑوں پر، دھیانوں پر، گمانوں پر، سمندر میں،
زمینوں پر،
فلسطینی مکینوں پر،
کہیں سر سبز وادی کے مکینوں کو
کہیں وہ چاٹتے ہیں سانپ بن کر آستینوں کو
بظاہر خود بھی وہ انسان ہیں، انساں نُما تو ہیں
یہ کیسے سیپین زادے
کہ ہیں تحقیق سے باہر
ابھی تشویش سے باہر
وہ یُو۔ این۔ او سے باہر ہیں؟
وہ ڈی۔این۔ ابے سے برتر ہیں؟
انہیں کس نے دیا ہے حق کہ وہ تاراج کر دیں
بستیوں کو
بلبلاتی ہستیوں کو
فیصلے جن کے مقدر کے کئے جائیں کسی ٹرمپ کارڈ سے
یا
پھر کسی سندباد سے
اور پھر وفود آئیں
کبھی اقوامِ عالم کی سند سے
اور کبھی شاہی تسلط کے مددگاروں کی نسبت سے
نہ جانے آگہی انسان کے ہونے کی کس اندھی گلی میں گھِر گئی ہے
غروب ہوتا نہیں سُورج
کبھی سودا صفَت سوداگروں کا
تم آؤ تو پتا اس کا چلے
وہ کون تھا آخر
خبر اس کی بھی ہو
وہ کون ہے آخر
وہ جس نے آدمی کو اتنا بونا کر دیا ہے
مُقدر سے مُقدر کو کھلونا کر دیا ہے