ناصر عباس نئیر کے مطابق، وہ ابتدا میں سمجھ نہیں پائے تھے کہ انہیں "میرا داغستان”کے رسول حمزہ توف کا خیال کیوں آیا تھا، اور ایسا انہوں نے سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ انہیں خدشہ ہو چلا تھا کہ اگر وہ یہ سمجھنے میں جت جا ئیں گے تو یہ کتاب نہ لکھ پائیں گے تاہم بہ قول ان کے "میرا داغستان”، رسول حمزہ توف اور ان کی الجھنوں اورپیچیدہ احساسات میں کوئی گہرا تعلق ضرور موجود تھا، ایک جدا قسم کا تعلق جو اس کتاب کی تخلیق کے عقب میں کام کر رہا تھا۔
یہ شاندار کتاب اٹھارھویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے ناصر عباس نیر نے آواری ٹاور میں مجھے عطا کی ہم بہت دیر لابی میں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور میں اس دوران یہاں وہاں سے کتاب الٹ پلٹ کر دیکھتا رہا۔ اب کمرے میں آکر اسے کھول لیا ہے پڑھ رہا ہوں اور ایک اور طرح کی کتاب کا لطف لے رہا ہوں۔ رات کا ایک بج چکا ہے، نیند میری آنکھوں سے جیسے کوسوں دور کھسک چکی ہے۔ رسول حمزہ توف سے میں مل چکا ہوں۔ ان کی کتاب "میرا داغستان” کئی مرتبہ پڑھ چکا ہوں۔ انہیں اسلام آباد کی ایک کانفرنس میں سن چکا ہوں۔ ناصر عباس نیر کی کتاب پڑھتے ہوئے میرا دھیان جیسے پھر سے رسول حمزہ توف کی طرف ہو گیا ہے۔ ان کی بھیدوں بھری آواز میری سماعت میں گونجنے لگی ہے۔ ناصر نے کہا ہے کہ یہ کتاب فکشن کے طور پر پڑھی جائے مگر ناول کی طرح نہیں اور اس کا سبب بھی بتا دیا ہے۔ یہ ناول نہ سہی مگر اس قدر مختلف ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے فکشن کی دانش ، خیال کی ندرت اور نثر کا لطف اس کتاب کے ورق ورق سے کشید کیا جا سکتا ہے۔
ایک پیرا ملاحظہ کیجیے:
"رسول حمزہ توف نے میرا داغستان میں، اپنی زبان آوار، اپنے گاؤں سدا اور علاقے داغستان، اپنے والد حمزہ ،وہاں کی لوک روایات سے گہرے ،اٹوٹ تعلق کا اظہار ایک عجب بے ساختگی اور والہانہ پن سے کیا ہے۔ گویا میرے ذہن میں اچانک یہ خیال پیدا ہوا کہ میں نے جس تضاد کو بار بار شدت سے محسوس کیا ہے، وہ رسول حمزہ توف کے یہاں حل ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ گویا اس کے یہاں رشتوں کے تصوّر اور ان کی عملی صورتوں میں ایک گہری ہم آہنگی ملتی ہے۔ مجھے لگا، میں رسول کی زبانی، وہ سب کہہ سکتا ہوں، جس نے مجھے وحشت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ میری کتاب اور رسول کی میرا دغستان میں بس یہی تعلق ہے،اور یہیں تک ہے۔واضح رہے ،اس کتاب کے لکھے جانے کا محرک، ہم آہنگی کا احساس تھا،مگر بعد میں کتنے ہی مسائل و سوالات و موضوعات اس کتاب کا حصہ بنتے گئے ہیں۔ یوں محسوس ہوا کہ جیسے ایک راستے سے کتنے ہی اور راستے، شاہراہیں اور پگڈنڈیاں اُگ آئی ہوں۔”
(میرا داغستان جدید/ ناصر عباس نیئر۔ ص 16,17)