سہ آتشہ التفاتِ مکرّر
غالب کی دل نشیں شوخی نے اپنی گراں گوشی کے باب میں ان سے یہ مضمون سازی کروائی:
بہرا ہوں مَیں تو چاہیے دُونا ہو التفات
سنتا نہیں ہوں بات مکرّر کہے بغیر
رومی کے دیوان میں تین چار بار یہی موضوع بہت کشش انگیز پیرائے میں بیان ہؤا ہے اور غالباً سبھی مقامات پر قطعہ بند اشعار کی صورت میں۔ وہ قطعات بہ جاے خود بہت لطیف و شیریں ہیں۔ ان میں سے ایک شعر یہ ہے:
برای آن کہ وا گویَد، نمودم گوش کرّانہ
کہ یعنی من گران گوشم، سخن را باز فرمایی
مَیں بات دوبارہ سننے کے لیے جھوٹ موٹ کا بہرا بن گیا کہ دیکھیے صاحب، ہمیں تو اونچا سنائی دیتا ہے، از راہِ کرم ایک بار پھر کہیے آپ نے کیا فرمایا۔
شمس تبریزی کے ملفوظات- مقالاتِ شمس – میں ایک مقام پر اسی موضوع پر کچھ عربی اشعار کا اس انداز میں ذکر کیا گیا ہے کہ جیسے وہ ضرب المثَل کی حد تک معروف ہوں۔ رومی عربی شاعری کے مطالعات میں بھی اپنے معاصرین میں ممتاز تھے اور ان کے کلام میں عربی شاعری سے اخذ و اقتباس کی خاصی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ شمس سے ان کی محبت و عقیدت کی بنا پر یقینی ہے کہ اگر رومی ان اشعار سے آگاہ نہیں بھی تھے تو شمس کی یاد آوری کے بعد تو انھوں نے ضرور وہ اشعار ڈھونڈے اور پڑھے ہوں گے:
تصاممتُ اذ نطقت ظبیۃٌ
تصید الاسود بالحاظہا
و ما بی وقرٌ و لکنّنی
اردتُ اعادۃ الفاظہا
وہ ہرنی اپنی آنکھوں کے تیر لیے شیروں کے شکار کو نکلتی ہے اور جب بات شروع کرتی ہے تو مَیں بہرا بن جاتا ہوں۔ مَیں بہرا نہیں ہوں، بس یہ چاہتا ہوں کہ وہ ایک بار پھر بات کرے۔
غالب تو اواخرِ عمر میں فی الواقع بہرے ہو گئے تھے، ان کا شعر اپنی حقیقی کیفیت کا اظہار بھی ہے اور شعری لطافتوں کا آئینہ دار بھی۔