عربی کے کلاسیکی شاعروں میں مُتَنَبّی کا تخلیقی اور فنّی پایہ بہت بلند ہے اور اس کے فکر و فن کی عظمت نے دنیا بھر کے شاعروں، ادیبوں اور دانش وروں کو متاثر کیا ہے. مختلف زبانوں میں اس کے دیوان کی چالیس سے زیادہ شرحیں اور بیس سے زائد تراجم موجود ہیں. اتنی مقبولیت شاید ہی اور کسی قدیم عربی شاعر کے حصّے میں آئی ہو. عربی ادب و تہذیب میں ضرب الامثال بننے والے سب سے زیادہ مصرعے اور اشعار بھی مُتَنَبّی ہی کے ہیں.
فارسی کے دو رجحان ساز شاعر سعدی شیرازی اور مولانا جلال الدّین محمّد رومی مُتَنَبّی کی حکمت آمیز شاعری اور اس کی حیرت انگیز قدرتِ کلام پر بہت فریفتہ تھے. سعدی اور رومی دونوں کی شاعری اور دیگر تصانیف میں مُتَنَبّی کے گہرے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں. کئی ایرانی محقّقین نے اس اہم موضوع پر مفید کتابیں اور مضامین بھی لکھے ہیں. سعدی پر مُتَنَبّی کے اثرات کے حوالے سے دو مستقل کتابیں اور پانچ تحقیقی مضامین ہماری نظر سے گزرے ہیں. رومی پر مُتَنَبّی کے اثرات کے ضمن میں ہمیں کسی جداگانہ کتاب کا تو علم نہیں ہو سکا البتہ چند اچّھے مضامین سے استفادے کا ضرور موقع ملا ہے.
رومی لڑکپن سے ہی بہت اشتیاق اور انہماک سے دیوانِ مُتَنَبّی کا مطالعہ کیا کرتے تھے اور ان کی یہ روش برسوں برقرار رہی. شمس تبریزی کی جب ان سے ملاقات ہوئی تو ان دنوں بھی رومی اکثر مُتَنَبّی کا دیوان زیرِ مطالعہ رکھا کرتے تھے. اس کے علاوہ وہ اپنے والد کی تقاریر و ملفوظات کا مجموعہ معارفِ بہا وَلَد اور علّامہ زَمَخشَری کی تفسیرِ قرآن کَشّاف بھی کامل استغراق سے پڑھا کرتے تھے. شمس نے اپنی ترجیحی مصلحتوں کی بنا پر رومی کو ان تمام مطالعات سے روک دیا اور ان پر یہ قدغن بھی لگا دی کہ وہ آئندہ کسی سے علمی بحث و مناظرہ بھی نہیں کیا کریں گے.
رومی حتّیَ الامکان بڑے اخلاص سے شمس تبریزی کی ہدایات پر کاربند رہے لیکن اوائلِ احوال میں کبھی کبھار خود کو مطالعے سے باز نہیں رکھ پاتے تھے. وہ جب بھی بے اختیار ہو کر ارتکابِ انحراف کر بیٹھتے تو شمس کو اس حکم عدولی کی خبر ہو جاتی اور وہ اپنے مخصوص شدید انداز میں رومی کو بے پناہ زجر و تنبیہ کیا کرتے تھے. شمس کا اندازِ تربیت اتنا تند و تلخ تھا کہ رومی جیسے سلیم الفطرت اور سعید المزاج شاگرد ہی اسے سہار سکتے تھے.
ایک رات رومی دیر تک مُتَنَبّی کا کلام پڑھتے اور لطف لیتے رہے. انھیں دل ہی دل میں احساسِ جرم بھی ہو رہا تھا. اسی کیفیت میں ان کی آنکھ لگ گئی. انھوں نے دیکھا کہ شمس بڑی برہمی سے مُتَوسّط قامت کے ایک نحیف و نزار شخص کو ڈاڑھی سے پکڑے تقریباً گھسیٹتے ہوئے ان کے پاس لائے اور بڑے جلال سے کہنے لگے :
تم اس کا کلام پڑھتے رہتے ہو!
وہ بے چارہ شخص شمس کی مضبوط گرفت میں بری طرح تڑپ رہا تھا. اس نے رومی سے کہا : مَیں مُتَنَبّی ہوں. خدا کے لیے اس بندہء خدا سے میری جان چُھڑوائیے. میرا کلام نہ پڑھا کیجے، بہت کرم ہو گا.
رومی کو شدید سردی میں بھی پسینہ سا آ گیا اور وہ ہڑبڑا کر اٹھ کھڑے ہوئے. حجرے کے دروازے پر دستک ہو رہی تھی. اس طرح کی دستک تو صرف شمس تبریزی ہی دیا کرتے تھے-
