عالم و فاضل اور اہلِ دل افغانستانی دوست جناب سید محمد حسینی فطرت جنھوں نے مشرق و مغرب کے بیشتر پانیوں کے ذائقے چکھ رکھے ہیں، گزشتہ تین چار دن لاہور میں رہے. وہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) اور پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور کے اشتراک سے منعقد ہونے والی دو روزہ بین الاقوامی امیر خسرو کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے تھے. اس کانفرنس کی بھرپور کامیابی بہ جائے خود لاہور کے تازہ ترین ادبی و ثقافتی منظر نامے کا اہم واقعہ ہے.
فطرت صاحب اور دوسرے غیر ملکی مہمانوں کے ساتھ ان دنوں بہت یادگار صحبتیں رہیں. مختصر مگر مفید. فطرت صاحب امیر خسرو کے فکر و فن پر بھی ایک قابلِ قدر کتاب کے مصنف ہیں اور میرزا عبد القادر بیدل کے تعلق سے ان کی کتاب جہانِ بیدل بھی خاصے کی چیز ہے جسے چند سال پہلے انتشاراتِ عرفان، کابل نے شائع کیا تھا. اگرچہ اس میں بہت سی اغلاط باقی رہ گئی ہیں جو پڑھنے والے کو گراں گزرتی ہیں. انھوں نے کرم فرمایا اور وہ کتاب مجھے بھی عنایت کی.
جہانِ بیدل کا مختصر تعارف تو اس کے مکمل مطالعے کے بعد ہی کروایا جا سکے گا، سرِ دست ورجینیا میں رہنے والے اس کے ایک افغانستانی تقریظ نگار جناب محمد یوسف سیم گر باختری کی بیان کردہ ایک دل چسپ یاد کا اردو خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے جس سے اندازہ ہو گا کہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے خواص و عوام میں بیدل کی محبوبیت اور مقبولیت کا کیا عالَم ہے.
یوسف سیم گر لکھتے ہیں کہ برسوں پہلے ہمارے شہر مزار شریف میں میرزا عمر غوث تریاق نام کے ایک بزرگوار رہا کرتے تھے. ان کی عدم موجودگی میں تو گلی محلے کے لوگ انھیں تریاک (افیون) کہتے لیکن ان کے رو بہ رو ہمیشہ بڑے احترام سے میرزا صاحب یا کاکا صاحب کہا کرتے. میرزا تریاق بیدل کے عاشقِ زار تھے. مزار شریف کے بیشتر لوگوں کی طرح انھوں نے بھی زائرین کے لیے ایک اچھا مہمان خانہ بنایا ہوا تھا جس کی دیواروں پر بیدل کے منتخب اشعار بہت عمدہ کتابت کروا کے سلیقے سے آویزاں کیے گئے تھے.
میرزا تریاق کا معمول یہ تھا کہ جب بھی کوئی مہمان آتا، وہ رسمی سلام دعا کے بعد فوراً اس سے فرمائش کرتے کہ از راہِ کرم ان اشعار میں سے کوئی شعر تو پڑھیے اور ذرا اس کا مفہوم بھی سمجھا دیجیے. خوش قسمتی سے اگر مہمان پڑھا لکھا اور با ذوق ہوتا اور میرزا کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو وہ نہال ہو جاتے. والہانہ انداز میں گھر والوں سے کہتے کہ کھانے پینے کا جو کچھ بھی موجود ہے، فی الفور پیش کیا جائے. ایسے میں وہ اس کامیاب امیدوار کی ہر ممکن مہمان نوازی اور عزت افزائی کرتے.
قسمت کا مارا کوئی کم پڑھا لکھا یا بے ذوق مہمان خدا نخواستہ اس کڑے امتحان میں ناکام ہو جاتا تو میرزا کا دل بیٹھ جاتا. وہ اسے بس روکھی پھیکی سی چائے پر ہی ٹرخاتے اور حیلے بہانے سے جلد از جلد چلتا کرتے. قیمتی وقت ضائع ہونے کی اذیت ان کے چہرے سے ٹپک رہی ہوتی. وہ کھٹاک سے دروازہ بند کرتے اور دل گرفتہ سے ہو کر بیٹھ رہتے.
