43
جو ستارا تمھیں افلاک نشیں لگتا ہے
وہ مجھے آنکھ کے پانی کا مکیں لگتا ہے
اس مشقت کو ہمی اہل خرد جانتے ہیں
اک گماں توڑنے میں کتنا یقیں لگتا ہے
میں سکڑتا چلا جاتا ہوں جو اے میرے کفیل
کیا کروں مجھ کو ترا رزق نہیں لگتا ہے
تیرے نزدیک جو بیٹھے ہیں انھیں کیا معلوم
تو مجھے دور سے کس درجہ حسیں لگتا ہے
تیر ہلکا ہے مقدر کی ہوا سے اپنا
پھینکتا ہوں میں کہیں اور کہیں لگتا ہے
سر اٹھا کر تری دہلیز سے دیکھا کئی بار
یہ وہ پتھر ہے جو ہر پھر کے یہیں لگتا ہے
میں وہ محروم تمنا ہوں کہ مجھ کو سجاد
بند ہوتا ہوا بازار حسیں لگتا ہے