کیا آپ کو یہ یقین ہے کہ ہم لمحہ موجود میں جیتے ہیں؟میرا خیال ہے کہ کم از کم ہم لمحہ موجود میں نہیں جیتے۔ بلکہ ہم اس کے تقاضے بھی پورے نہیں کرتے۔
ہم ماضی پرست قوم ہیں اور اس پر فخر کرنا ہماری زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ماضی پرستی کا ایک نقصان تو یہ ہے کہ ہمارے ہاتھ سے ہمارا ہم عصر جدید عہد چھوٹ رہا ہے اور دوسرا نقصان یہ ہے کہ ہم اپنے مستقبل کے خدوخال مرتب کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوتے چلے جارہے ہیں۔
ماضی پرست کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ شخصیت پرست ہوتا ہے۔ ہر سماجی و تاریخی ضرورت کے مطابق شخصی بت تراشے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت کو معتبر اور منفرد بنانے کے لئے واقعات تشکیل دئیے جاتے ہیں۔
اگر یہ زمینی حقیقت نہیں بھی ہے تو نا جانے کیوں اس بات پر یقین کرنے کو جی چاہتا ہے کہ ہر وہ شخص جو عام فرد سے برتر زندگی گزارتے ہوئے کسی اہم منصب پر فائز ہوتا ہے، وہ نافذ کردہ یعنی پلا نٹیڈ ہوتا ہے ۔ اس کے پیروں میں پہیے کسی اور نے لگائے ہوتے ہیں ۔
اس کا ریموٹ کنٹرول ہمیشہ کسی دور بیٹھے بگ برادر کے ہاتھوں میں ہوتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کبھی کبھی لوگوں کو خود بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں اور اگر کبھی یہ احساس ہوتا بھی ہے تو اقتدار و شہرت اور آسائشوں کی فراوانی کی خواہش اس کی قبولیت کا راستہ پیدا کر دیتی ہے ۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی طرح کے ناجائز راستے کو اپنے لئے جائز ہی سمجھتے ہیں۔ انہیں اس میں کوئی برا ئی نظر نہیں آتی ۔ وہ کسی کا حق مارتے ہوئے نہیں ڈرتے۔ سماج کا نظام بگڑ رہا ہوتا ہے مگر انہیں اس کی پروا نہیں ہوتی ۔ وہ کسی طرح کی اخلاقیات کو نہیں مانتے ۔ اور اگر کہیں سے کوئی آواز ایسی بلند ہوتی ہے جو درست سمت کی نشاندہی کرے تو اسے احمق گردانا جاتا ہے۔
چونکه ہماری پرورش انہی خطوط پر ہوئی ہوتی ہے تو ہمیں اپنی غلطیوں کا ذرہ برابر بھی احساس نہیں ہوتا۔ یہ مسلہ ایک دن کا نہیں بلکہ گذشتہ تین نسلوں کا پیدا کردہ ہے ۔ ہمارے اطراف ایک ان دیکھی طاقت نے پورے سماج کو جکڑا ہوا ہے ۔ یہ ایک مکڑی کے جالے کی یا آکٹوپس کی طرح ہے ۔ یہ کبھی ہم سے جدا رہا ہوگا مگر اب یہ ہماری رگوں میں اتر کر ہماری سماجی نفسیات کا حصہ بن چکا ہے ۔
اگر ہم چاہیں یا یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ہم ایسے کیوں ہیں، توجان لیجیے کہ یہ صدیوں پر محیط سفر ہے ۔ پاکستان کی عمر صدی سے بھی کم ہے مگر یہاں بسنے والوں کی نسلوں کا ایک تسلسل ہے ۔ اس کے درمیان کوئی رخنہ نہیں ہے ۔ اس طرح کے سماجی فیبرک ایک دن میں نہیں بنتے ۔ برسوں بلکہ صدیوں میں بنتے ہیں اور جب ہم اس صدیوں کے سفر کا قدرے بلندی سے تنقیدی و تجزیاتی جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ یہ کسی ایک خطے سے مخصوص نہیں بلکہ بہت دور کے قبائلی نظام سے جڑا ہوا ہے ۔
سماجی ارتقائی سفر میں انسانوں نے بہت کچھ سیکھا اور خود کو تبدیل کیا ہے ۔ جیسے جیسے انسان نے علمی و عقلی شعور حاصل کیا وہ قبائیلی طرز معاشرت سے دور ہوتا چلا گیا ۔ قبائلی طرز زندگی کے بہت سے اصول و ضوابط ایسی قدیم روایات سے جڑے ہوئے ہیں جو بدلنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔ اس کی پہلی اور بنیادی خرابی یہ ہے کہ وہ فرد کی سماجی آزادی کے خلاف ہے ۔ وہاں کوئی ایک فرد مقتدر ہوتا ہے ۔ ساری طاقت اور اختیارات اس فرد واحد میں سمٹ آتے ہیں ۔ وہ اپنے مخصوص گروہ کے ساتھ مل کر قبیلے کے دیگر افراد کی شخصی آزادی چھین لیتاہے ۔ وہ جو بھی فیصلہ کرتا ہے ، سب کو ماننا پڑتا ہے۔ اس کے اقتدار کا کوئی دورانیہ نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ قائم رہنے پر یقین رکھتا ہے ۔اسے وہ لوگ اچھے لگتے ہیں جو اس کی حاکمیت کو من و عن قبول کرتے ہیں، اس کی تعریف کرتے ہیں، اس کے گن گاتے ہیں۔ اس بات کو سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو ایک ہی لفظ سامنے آتا ہے۔
“ شخصیت پرستی “
اس مخصوص طریقے پرہم صدیوں سے عمل کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ہزار طرح کے بدلتے رجحانات و خیالات کے باوجود اس میں کبھی ناکام نہیں ہوئے ۔ مقتدر قوتیں یہاں بسنے والے عوام کی نفسیات سے بہت اچھی طرح آگاہ ہیں ۔ انہیں باشعور،تعلیم یافته ، حقیقت پسند ، سائنسی فکر اور روشن خیال عوام نہیں، بھیڑ بکریاں درکار ہوتی ہیں جن کی آنکھیں صرف وہ دیکھیں جو وہ دکھانا چاہتے ہیں ۔ ان کے کان صرف وہ آواز یں سنیں جو وہ سنانا چاہتے ہیں اور ان کی زبانوں سے صرف وہی لفظ اور جملے ادا ہوں جو وہ خود سننا چاہتے ہیں ۔ لہذا انہوں نے اپنے پھیلائے ہوئے مکڑی کے جالے میں ایسے بہت سے بند و بست کر رکھے ہیں جن کی مدد سے طے شدہ نعرے،مخصوص بیانیه ، گھڑے ہوئے اقوال ، نافذ کردہ طرز معاشرت کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ مخصوص اقدامات فرد کی نشونما کو روک دیتے ہیں اور نسلوں میں اتنی گہرائی تک اتر جاتے ہیں کہ لوگوں کو اس طرز زندگی کے متصادم ہر بات ناگوار گزارتی ہے ۔
عہد گذ شتہ میں شاید سینکڑوں شخصیات ایسی گزری ہیں جن کا نام لیتے ہوئے احترام سے ہمارے ہونٹ کانپنے لگتے ہیں۔ ہم ان کی تقدیس میں ان کے ناموں کے ساتھ سابقے اور لاحقے لگاتے ہیں کہ کہیں گستاخی نہ ہو جائے ۔ ان شخصیات کو بلند مرتبے پر فائز کرنے کے لئے ہزار طرح کے قصے گھڑے اور علم الکلام کی مدد سے انہیں عام کیا گیا، اور پھر ان سے جُڑے محیرالعقول واقعات میں سینہ بہ سینہ سفر کرتے ہوئے غیر معمولی اضافہ ہوتا چلا گیا ۔ رفتہ رفتہ ان قصوں کو جب کتابی شکل دی گئی تو ان کا بھی ڈھیر لگتا چلا گیا۔
آج کی مقتدر قوتوں نے اب اس طرز کو نئے قالب میں ڈھال دیا ہے ۔ اب علم الکلام؛ وی لاگ میں ، ماورائی قصے؛ وڈیوز میں، مجلسیں؛ کا نفرنسوں میں بالکل اسی طرح تبدیل ہو چکی ہیں جس طرح بیل گاڑی کا سفر ہوائی جہاز میں تبدیل ہو گیا ہے ۔
یہ بات ہمیں بہت اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ جدید دنیا سے ہم آہنگی صرف سائنسی آلات کے استعمال سے نہیں پیدا ہوتی۔ اس صلاحیت سے ہم محض کنزیومر سوسائٹی بن گئے ہیں۔ پروڈکٹیو بننے کے لئے کچھ اور ہی راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔
ہمارے طر عملہ سے یہ بات بہت نمایاں ہے کہ ہم ماضی سے براہ راست اکیسویں صدی میں اُتارے گئے لوگ ہیں ۔